پاکستان میں بادل پھٹنےکےبڑھتےواقعات
تحریر: شمائلہ اعظم خان
گزشتہ برسوں میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات، خیبر پختونخواہ اور کشمیر سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں بادل پھٹنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس قدرتی آفت کے اثرات نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ ملکی معیشت تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جانی و مالی نقصان اتنا بڑھ چکا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار بھی حقیقت کا احاطہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ درخت ، انسان ،مویشی اور قیمتی سامان پانی میں بہہ رہا ہے۔ عمارتیں اور گھر گر رہے ہیں اور لاشوں پر لاشیں اٹھائ جا رہی ہیں۔ہر دو تین سالوں بعد یہ قیامت صغریٰ برپا ہوتی ہے لیکن اسے امر الٰہی اور قدرتی آفت قرار دے کر اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور سینکڑوں اموات کا صدمہ برداشت کر لیا جاتا ہے ۔ گویا آفاتِ الٰہی کو بھی ہم نے سیاست، مفاد اور کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
مگر حالیہ سیلابوں نے یہ غلط فہمی بھی دور کر دی کہ یہ صرف قدرتی آفت نہیں بلکہ ہماری اپنی غلطیوں کا نتیجہ بھی ہے اور یہ آفات صرف دریاؤں یا ندی نالوں کے قریب ہی نہیں آتی ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اب پہاڑ کی چوٹی پر بھی کوئی محفوظ نہیں۔
بارشیں تو ہمیشہ سے ہوتی رہی ہیں مگر گھنے جنگلات پانی جذب کر لیتے تھے اور زمین مضبوط رہتی تھی ۔درخت جو بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خلاف پہلی ڈھال تھے، ہم نے روزی روٹی کے نام پروہ درخت ہی کاٹ ڈالے ہیں۔اس کے علاوہ پہاڑ سڑکیں بنانے، معدنیات نکالنے، عمارتوں یا ڈیموں کی تعمیر کے لیئے توڑے جاتے ہیں جس سے فطرت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ جب پہاڑ کاٹنے سے درخت اور مٹی ہٹ جاتی ہے تو بارش کا پانی روکنے والا قدرتی نظام ختم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں پانی تیزی سے نیچے وادیوں اور شہروں میں داخل ہو کر تباہ کن سیلاب لے آتا ہے۔ پہاڑ کی مضبوطی کم ہونے سے لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوتی ہے اور مٹی پتھر بہہ کر دریاؤں اور نالوں میں جمع ہو جاتے ہیں جس سے ان کی گہرائی کم ہو کر پانی کناروں سے باہر آجاتا ہے یوں کھیت، سڑکیں اور گھر برباد ہوتے ہیں اور انسانی جانیں بھی شدید خطرے میں پڑ جاتی ہیں
آج پہاڑ بنجر ہیں، پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے بہہ کر پتھروں اور مٹی کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی، دریاؤں اور ندی نالوں پر غیر قانونی تعمیرات اور ماحول دشمن رویے نے اس تباہی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) ان قدرتی آفات کو بڑھا رہی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، بے تحاشا جنگلات کی کٹائی اور فضائی آلودگی نے پاکستان کے ماحولیاتی توازن کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ حالیہ بارشیں اور سیلاب صرف قدرتی آفات نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں اور موسمیاتی بگاڑ کا شاخسانہ بھی ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کو ہنگامی بنیادوں پر جنگلات کی بحالی، پانی کے بہتر انتظام، آلودگی کے خاتمے اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع کی طرف جانا ہوگا۔ اگر ہم نے فطرت کے ساتھ جنگ جاری رکھی تو قدرت بھی ہمیں معاف نہیں کرے گی اور آنے والے برسوں میں یہ زمین زندگی کے قابل نہیں رہے گی۔ ان تباہ کاریوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کو واضح کر دیا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے خطے کو مزید ہولناک قدرتی آفات کا سامنا ہوگا۔ہمیں ہنگامی بنیادوں پر جنگلات کی بحالی، پانی کے بہتر انتظامات، آلودگی کے خاتمے اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع کی طرف جانا ہوگا۔
ماضی کے مقابلے میں موسم کی شدید تبدیلی ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے فوری اقدام ضروری ہیں۔یہی وقت ہے کہ ہم صرف قدرتی آفات کو “حادثہ” سمجھنے کے بجائے اپنی پالیسیوں، طرزِ زندگی اور ماحولیاتی ذمہ داریوں پر بھی نظر ڈالیں۔ بصورت دیگر، بادل پھٹنے جیسی آفات مستقبل میں اور بھی زیادہ تباہ کن شکل اختیار کر سکتی ہیں۔اگر ماحولیاتی بحران کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو پاکستان میں سیلاب، خشک سالی اور قدرتی آفات کی شدت ہر سال بڑھتی چلی جائے گی، جس کا براہِ راست اثر عوامی زندگی، معیشت اور مستقبل کی نسلوں پر پڑے گا۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


