شعر و شاعریگوشۂ ادبمتفرق

غزل

Spread the love

مرسلہ : شاہینہ خان

عورت

ایک فنکار کا تخلیق جنوں بڑھتا گیا

اس نے چاہا کہ بناؤں تصویر

ایسی تصویر جسے

لوگ شاہکار کہیں

کتنے تخلیق کے افکار میں ڈوبے سورج

کتنی بھیگی ہوئ راتیں بیتیں

اور گزرتے ہی رہے

ایک گلپوش سی وادی میں ہزاروں لمحے

خاکۂ و رنگ لیا

پھر سمونے لگا تخلیق میں پیارا نغمہ

شیریں و شوخ سے رنگ بھی ڈالے

بھر دیا اس میں حسن سارا ہی اس وادی کا

اس کی آنکھیں تھیں چمکتے تارے

اس کے رخسار سنہرا سورج

اور معطر تھی وہ تخلیق حسیں

نرم تازہ سی کلی

اس کو شاہکار ابھی نا مکمل سا لگا

اس نے پھر رنگ بھرا

ایسے جزبات کی ٹھنڈک جیسے

نرم بادل سے برستی ہوئ رم جھم کوئ

اس میں حوروں کا تقدس تھا،خدا کا پرتو

ممتا و پیار و اطاعت کے نقوش

اس میں جھلکی تھی گلوں کی،نمی شبنم کی

اپنی تصویر کو پھر

عقل و ادراک، فہم بھی بخشا

صبر و ہمت کی دھنک

عزم و کردار کا پختہ پن بھی

کتنی تصویر بتاں اس نے بنائیں پہلے

اور یہ سب سے جدا

رنگ بھرے ہاتھوں کو پونچھا اس نے

اور اٹھایا شاہکار

ہر طرف گھوم کے دیکھا اس کو

کتنی بے عیب تھی وہ

اپنی تخلیق پہ وہ نازاں تھا

اس نے سوچا کہ اسے نام بھی دینا ہو گا

کون سا نام دوں ،اس اپنے مکمل فن کو

کون سا نام دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور کچھ سوچ کے اس نے

اس کو ” عورت ”  کا حسیں نام دیا

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *