عورتوں کے حقوق
تحریر: ایم ایس عباس
جب 18 صدی جرمنی میں بہت سے طوفان پیدا کر چکی تھی تب انہی میں سے ایک طوفان عورت کو جبر کے ساتھ انڈسٹریل مزدور بنانا تھا.جی ہم جرمنی کی ہی بات کر رہے ہیں وہ ملک کہ جسکو شاید آج آدھی سے زیادہ دنیا عورت کے حق اور حقوق کیلئے اپنا پیشوا سمجھتی ہو مگر جس طرز کے ظلم جرمنی کی عورتوں نے برداشت کیے شاید اُسی کا نتیجہ تھا کہ پھر کسی عورت کی بد دعا نے ہٹلر کو پیدا کر کے اگلی صدی میں اپنا غم و غصہ نکالا ۔ جب آدھی صدی گزر چکی تھی اس ظلم کو سہتے سہتے تو پھر جرمنی کی سرزمین نے ایک عورت کو جنم دیا جسکو دنیا کلارا زیٹکن کے نام سے جانتی ہے۔اِنہوں نے اپنی سرزمین پر ہونے والے ظلم و جبر کا انتہائی دانشمندی سے مظاہرہ کیا اور پھر عورتوں کے جائز حقوق کیلئے اپنی زندگی وقف کردی۔
جس مغربی ثقافت کو آج کچھ لوگ اپنا آئین مان بیٹھے ہیں وہ اِس حقیقت سے آشنا نہیں ہیں کہ جرمنی کی عورتوں نے جب اپنے ملک سمیت پورے یورپ پر ظلم و ستم کی انتہا دیکھی ، عورت کو سربازار بے آبرو ہوتے دیکھا ، حکم بل جبر دیکھا ، ہر قسم کے حق سے محروم دیکھا اور عزت کی نیلامی دیکھی تو اپنے ہی بنائے اُصولوں کو خالی برتن کی طرح پایا اور نئے اصولوں کی بنیاد رکھنا ہی یہ ثابت کر چکا تھا کہ مغربی اُصول کبھی بھی عورت کو تحفظ و آبرو نہیں دے سکتے۔ کلارا زیٹکن نے 1909 میں پہلی بار دنیا کو اس کونسیپیٹ سے آگاہ کیا جسکو آج ہم خواتین کے عالمی دن کے نام سے جانتے ہیں اور کم از کم جرمن خواتین کے انقلاب والا کردار اپنانا چاہتے ہیں مگر زرا ٹھہر جائیں ۔ ہم جس دور کی بات کر رہے ہیں ٹھیک اِسی دور میں جنگ طرابلس جاری تھی جب اٹلی نے ترک مسلمانوں پر حملہ کردیا تھا۔ کردار پر لکھنے کو تو اس میں جنگ میں بڑے قصے ہیں مگر ہم آپکو فاطمہ بنت عبداللّہ کی ہمت و جرات اور عورت کو افضل بنانے کی حکمت و روشنی سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
جس دور میں ہمسایہ ملک کی عورت مزدوری کرتے ہوئے جبر کی چَکی میں پِس رہی تھی ٹھیک اُسی وقت فاطمہ بنت عبداللّہ کن اُصولوں پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ کیلئے ایسا کردارِ عظیم چھوڑ گئی کہ علامہ اقبال بھی آپ پر فخر کرنے سے پیچھے نا رہ سکے۔ فاطمہ بنت عبداللّہ کے کردار اور مقدس حجازی اُصولوں کو سمجھنے کیلئے ہمیں پورا فلسفہِ اقبال سمجھنے کی ضرورت نہیں بلکہ تمام تر حکمت اسی شعر میں موجود ہے۔
فاطمہ تو آبرُوئے اُمتِ مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے
611 عیسوی سے پہلے کبھی بھی یہ نہیں ہو پایا تھا کہ عورت کے حقوق کے لئے اس قدر بلند آواز اٹھائی جائے گی.
اگر یہ طے کرلیا جائے کہ اس سے پہلے دنیا نے پانچ ہزار سال بھی زندگی جی لی ہو مگر کسی نے بھی یہ اصول بنانے کی کوشش نہیں کی جو اصول اسلام نے عورت کے تحظ کیلئے دئیے
پھر اسلام کے بعد آج تک چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی کوئی ایسے جامع نئے اصول نہیں متعارف کروائے جا سکے جو عورت کو اتنے حقوق دلوا سکیں جو مقدس حجازی اصول دلوا سکتے ہیں.ہم نے آپ کے سامنے جرمنی کی مثال صرف اس لئے رکھی کہ آج کے دن کی نسبت جرمن خاتون کے ساتھ ہے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جس کسی نے بھی ان فطرتی اصولوں سے بغاوت کی ہے وہ دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہونے کے بعد اسی بات کو ماننے پر راضی ہوا ہے کہ اسلام کے اصول ہی اس دنیا کے اندر حتمی اور صحیح زندگی گزارنے کے لئے واضح ہے.
ورنہ دنیا میں کونسا قانون ہے جو عورت کے قدموں میں جنت کو رکھتا ہے ؟ کونسا قانون تھا جس نے وراثت میں عورت کے حق کی بات کی ؟ کونسا قانون ہے جسکو اپناتے ہوئے عورت کی عزت و آبرو محفوظ ہے ؟ کونسا قانون تھا جس نے عورت کو پاکیزہ دامن کیا ؟ اولاد کی تربیت جیسا احسن کام عورت کی افضیلیت کو ہی چار چاند لگاتا ہے مگر افسوس کہ آج ہمیں مغرب کی آزادی نے ان مقدس اُصولوں سے بھی آزاد کردیا جنہوں نے عورت کی زندگی کو جاوِداں کیا۔
اقبال اِسی فلسفے کی بات کرتے ہیں کہ اگر اُمت مرحوم ہے تو رہے مگر اُصول زندہ تھے اور زندہ ہی رہیں گے فقط عورت کو چننا ہے کہ اُسے کونسا راستہ حق کی طرف لے جاتا ہے۔
کیوں کہ بلآخر اُسے تھک کے وآپس حجازی اُصولوں پر ہی راحت ملنی ہے۔
نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


