اسلامی تعلیمات

دنیا میں دو خیالات کے لوگ ہوتے ہیں

Spread the love

سورة آل عمران آیت 43 کی تفسیر بیان کرتے ہوئے حضرت حاجی الحرمین مولانا نورالدین خلیفةالمسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں:

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓیِٕكَةُ: دنیا میں دو خیالات کے لوگ رہتے ہیں ایک وہ جوہر بات میں عَالَمِ اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ کسی قدرت کے اسباب کے سوا قائل نہیں۔ وہ ہر امر میں ایک باریک درباریک راہ نکال لیتے ہیں اور اسی کو کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اگر ناکام رہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کوئی خاص سبب جو اس سلسلہ اسباب میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری تھا رہ گیا۔ اگر اس کا علم ہوجاتا تو کبھی ناکام نہ رہتے۔ یہ وہ ہیں جن کا سورہ بقرہ میں فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ(البقرة:201) کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے۔

ایک وہ ہیں جو عَالَمِ اسباب کو بالکل ہی نہیں مانتے۔ وہ اپنے آپ کو مُردو بدست زندہ سمجھتے ہیں مگر تعجب ہے کہ عَالَمِ اسباب کی کچھ قدر نہیں لیکن ضرورت کے وقت بھیک مانگ لیتے ہیں۔ بدبختی سے اس ملک میں ایک عظیم الشان انسان گزرا ہے جس نے زمانہ کے مصائب کو دیکھ کر عَالَمِ اسباب کو ترک کرنا چاہا مگر اس کے پَیرو ایسی غلطی میں پڑے کہ عَالَمِ اسباب کو ترک کا دعویٰ کرکے عَالَمِ اسباب کے ارزل ترین پیشہ میں جاپڑے (یعنی بھیک)۔ وہ نفسانی خواہشوں کے مارنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر آخر انہی میں گرفتار ہوتےہیں۔ قرآن مجید نے ان دونوں خیالات کے لوگوں کو ناپسند کیا ہے۔ اس کو تو یہ راہ پسند ہے وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً(البقرة:202)۔ عَالَمِ اسباب کی رعایت بھی نہ رہے اور پھر خدا پر توکل بھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عالمِ شہادت میں پیدا کیا ہے۔ ایک عالمِ غیب بھی ہے۔ ساری چیزوں میں تین باتیں ہوتی ہیں۔ ذات، صفات، افعال۔ ذوات محسوس نہیں ہوتے۔ ہاں صفات سے ہم یقین کرتے ہیں کہ کوئی ذات ہے اور صفات کا علم افعال سے ہوتا ہے اور وہ موصوف جو ہے وہ عالمِ غیب میں ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے بڑی محنت سے کشاورزی کرتے ہیں پھر فصلوں کو کاٹا ہے مگر کھلیان کو آگ لگ گئی اور سب محنت برباد ہوگئی۔ عالم اسباب کے معتقد کہہ سکتے ہیں احتیاط نہیں کی۔ یہ سچ ہے کہ عالم اسباب کی رعایت ضروری ہے مگر اللہ کی مرضی بھی کوئی چیز ہے۔ اس بات کا ذکر خداتعالیٰ نے ایک آیت میں کیا ہے وَ اٰتَيْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا(الکہف:85) لیکن اسباب موافق مقصد کا حصول بھی اللہ کے فضل پر موقوف ہے۔ اور ایک جگہ منافقوں کے عذر کا ذکر کرکے ہم جنگ میں نہیں جاسکے فرماتا ہے يَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُيُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛوَ مَا هِيَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا (الاحزاب:14) اگر وہ نکلنا چاہتے تو پھر ہم اسباب بھی مہیا کردیتے۔ چونکہ عالم اسباب کے کارخانے میں ہمارا علم محیط نہیں اس لئے ان کے مناسب موقع حصول کےلئے الٰہی امداد کی ضرورت ہے۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اس کے آگے پھر انسان کا بس نہیں چلتا بلکہ خدا کی توفیق ویاوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ نام زنگی کافور نہند کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ سیاہی کے تمام مدارج کو طے کرچکا ہے بس آگے سفیدی ہی ہے اسی طرح نااُمّیدی جب حد کو پہنچی تو سمجھو اُمّید آئی۔

حضرت یسعیاہ کی کتاب باب 54 سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مکہ معظّمہ کی نسبت ذکر فرمایا ہے کہ یہ شہر عروسِ عرب ہے۔ اس پر خطرناک مایوسی ہوگی۔ اس کا کوئی بیٹی بیٹا لائق نہ ہوگا۔ وہ خطرناک غلطیوں میں مبتلا ہوں گے۔ پر آخر اس مایوسی میں اُمّید۔ اس ظلمت میں خورشید نظر آئے گا۔ یہاں بطور تمثیل مریمؑ اور زکریاؑ کا ذکر کرتا ہے کہ دونوں نے اسباب موجود نہ ہونے کی صورت میں اپنی مُراد پائی۔ اِسی طرح مکّہ عروسِ عرب ہے (یاد رہے کہ شہر کو عروس کہنا عام ہے لندن کو عروس البلاد کہتے ہیں شام کو عروسِ عسقلان) اس کا بھی ایک بیٹا ہے جو مظفر ومنصور ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں جو آئے گا ناکام رہے گا۔ بڑی بڑی طاقتوں سے لوگ اُٹھتے ہیں مگر معاً ہلاک ہوتے ہیں۔ کام وہی ہوتا ہے جو خدا کرے۔ دیکھو بنگالی ہیں ان کے نادان بچّوں نے گورنمنٹ کے مقابلہ میں شرارت کی مگر ناکام رہے۔

میں بارہا وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ (البقرة:103) اور مَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ (البقرة:103) کی تفسیرمیں یہ سمجھا چکا ہوں کہ کبھی کسی خفیہ کمیٹی، مخفی منصوبے میں شامل نہ ہو۔ یہی پاک تعلیم انبیاء کی ہے کہ ان کی کوئی بات مخفی نہیں ہوتی۔ ہمارے حضرت صاحب (مسیح موعودؑ) کو اگر کوئی خلوت میں کچھ کہتا تو آپ اتنے زور سے گفتگو کرنے لگتے کہ نیچے گلی میں چلنے والے سُن سکتے۔ ان مخفی کمیٹیوں کی ہزار ہزار صفحے کی کتابیں مَیں نے پڑھی ہیں۔ یہ مدّت سے قائم ہیں مگر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر حضرت عثمانؓ تک ان کا نام و نشان نہیں ملتا۔ یہ اُن کا رُعب اور ان کی قدرت نمائی تھی کیونکہ خدا نے اعلان کرادیا تھا وَمَا هُمْ بِضَآرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ(البقرة:103) میری بڑی عمر ہوگئی۔ میں بچہ تھا پھر جوان ہوا پھر ادھیڑ پھر بوڑھا مگر مَیں آج تک کبھی کسی خفیہ محفل یا کمیٹی یا جلسہ میں شامل نہیں ہوا۔ میرا ایک بہت پیارا دوست شہر میں تھا مگرمیں نے اس سے بھی کبھی مخفی ملاقات نہ کی نہ مخفی اس سے گفتگو رکھی۔ یہ خدا کا مجھ پر بڑا فضل ہے جو منصوبہ بازوں کو حاصل نہیں ہوسکتا وہ مجھے حاصل ہوا۔ مَیں تمہیں کہاں تک سُناؤں۔ سُناتے سُناتے تھک گیا مگر خدا کی نعمتوں کے بیان کرنے مَیں نہیں تھکتا اور نہ مجھے تھکنا چاہیے۔ اس نے مجھ پر بڑے بڑے فضل کئے۔ یہاں ایک اخبار کے ایڈیٹر نے اپنی نظم چھاپی۔ مجھے معلوم نہ تھا۔ مَیں اسے پڑھتا اور سجدہ میں گرجاتا۔ چونکہ وہ بہت درد سے لکھی ہوئی تھی اس لئے اس نے میرے دَرد مند دل پر بہت اثر کیا۔ وہ صوفیانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی نظم تھی۔ مَیں جس بات پر شکر ادا کرتا وہ یہ تھی کہ خدا مجھ پر وہ وقت لایا ہی نہیں کہ مجھے معلوم نہ تھا۔ میں نے ہوش سنبھالتے ہی مولوی خرم علی، مولوی اسمٰعیل، مولوی محمد اسحٰق کی کتابوں نصیحةالمسلمین، تقویةالایمان، روایات المسلمین کو پڑھا اور ان سے توحید کا وہ سبق پڑھا کہ ہر غلطی سے بحمدِاللہ محفوظ رہا۔

غرض خداتعالیٰ جن کو نوازتا ہے ان کےلئے عالمِ اسباب کو بھی ان کا خادم کردیتا ہے۔ زکریاؑ اور مریمؑ کے گھر میں اولاد ہوئی اس میں ایک اسباب پرست تعجّب کرسکتا ہے پھر یہ تمثیل جس عروسِ عرب کےلئے ہے وہ بھی کسی کے لئے باعثِ تعجّب ہو۔ مگر یہ سب کچھ پیش گوئی کے ماتحت ہوا۔

یہاں اس آیت میں جو مریمؑ کے صفات بیان کیے ہیں تو اس سے یہ مطلب نہیں کہ اور کوئی عورت ایسی نہیں گزری۔ مگرقرآن کریم کا قاعدہ ہے کہ جو مرض ہو اس کا علاج کرتا ہے جو مرض نہ ہو اس کا ذکر نہیں کرتا۔ احمق لوگوں نے سلیمانؑ پر کفر کا فتویٰ دیا تو خدا نے فرمایا وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ(البقرة:103) ایک عورت کی تہمت دی تو فرمایا اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ(النّمل:45) حضرت مریمؑ کو یہودیوں نے بُرا کہا تو فرمایا کہ ان کو خدا نے برگزیدہ کیا، پاک بنایا۔

(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 469 تا 471)

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *