شعر و شاعری

غزل

Spread the love

بشارت سکھی

نگاہ و قلب کی وہ تشنگی بڑھاتے ہوئے

دیار روح میں آیا تھا مسکراتے ہوئے

گلوں پہ اتری شفق پھر نئے سویرے کی

کہ پتیوں کا بدن ہائے گدگداتے ہوئے

اجالے آئینوں کا تھے طواف کرنے لگے

عکس یار کو دامن میں اب چھپاتے ہوئے

وہ جا چکا ہے مگر جابجا وہ ہے مجھ میں

کہ میری سانسوں کے سب تار جھنجھناتے ہوئے

جلا نہ ڈالے خزاں کی تپش درختوں کو

پرندے ڈرنے لگے گھونسلہ بناتے ہوئے

جدائیوں کے سفر میں تھے غمزدہ دونوں

کہ مسکراہٹوں میں آنکھ  نم چھپاتے ہوئے

لپٹ کے روئے تھے کچھ زرد پتے شاخوں سے

ادھوری خواہشوں کی تتلیاں اڑاتے ہوئے

سکوں یہ کیسا مری روح میں اترنے لگا

دیار درد سے اب رابطے نبھاتے ہوئے

دیا جو وقت نے موقع تو پھر ملیں گے سکھی

وہ ہم کو چھوڑ گیا ہاتھ کو ہلاتے ہوئے

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *