لو کيا تم کو خبردار ہے پھر مت کہنا
(شوکت سلطانہ احمد)
لو کيا تم کو خبردار ہے پھر مت کہنا
چھپ کے پيچھے سےکيا وار ہے پھر مت کہنا
مصلحت کي کوئي شبنم ہے اگر برساؤ!!
ميرا ہر لفظ ہي انگار ہے پھر مت کہنا
اس ہجومِ نا فہم سے ميں کروں کيا گفتار
کوئي لاؤ جو سمجھدار ہے پھر مت کہنا
کام جتنے ہيں مياں پہلے ہي اس سے کر لو
عشق نے کر ديا بے کار ہے پھر مت کہنا
زندگي سے نہ رکھو اتني اميديں شوکت
پھول بنتا نہيں ہر خار ہے پھر مت کہنا

