شعر و شاعری

غزل ۔ ۔ ۔ شاہینہ خان

شاعرہ: شاہینہ خان

یاد تو ہو گی

دریچے میں وہ ہلکی دھوپ آنی یاد تو ہو گی
محبت میں ، وہ خود سے خود کلامی یاد تو ہو گی

وہی رخسار ، جن کو پھول سے ، تشبیہ دیتے تھے
انھیں پہ ساونوں کی وہ روانی یاد تو ہو گی

زمانے ، تو نے کتنے لعل اور موتی نگل ڈالے
تجھے ماؤں کے لعلوں کی جوانی یاد تو ہو گی

زہد کا پیرہن ، تقویٰ کا جامہ ، زیب تن اب ہے
شبابِ زندگی کی سب کہانی ، یاد تو ہو گی

میری آنکھیں ستارہ تھیں،میرےدامن میں جگنو تھے
میرے آنچل کی وہ خوشبو پرانی یاد تو ہو گی

نہ تھا ذوقِ سٌخن ، تاہم جو غزلِ عشق سنتے تھے
ابھی “غزلِ عبید اللہ” زبانی یاد تو ہو گی

بنایا گھونسلہ ، تنکوں سے تنہا ، ایک چڑیا نے
بکھرتے وقت اس کی ، جاں کنانی یاد تو ہو گی

میری آنکھوں میں تیراعکس جب دھندلا رہاتھا تب
وہی تصویر آنکھوں سے مٹانی یاد تو ہو گی

پرکھ کرعمر بھر مجھ کو کبھی کندن جوکہتےتھے
گہر کی خاصیت ، اسکی نشانی یاد تو ہو گی

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *