اسکولوں میں اقلیتی طلباء کی مذہبی تعلیم
تحریر: نبیلہ فیروز بھٹی
30 مارچ کو پنجاب ایجوکیشن، کریکولرم، ٹریننگ اور اسیسمنٹ اتھارٹی (پیکٹا ) PECTAAنے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے چھ اقلیتی مذاہب (مسیحی، ہندو، سکھ، کیلاش، بدھ مت اور پارسی) کے طلباء اور طالبات کی اسکولوں میں مذہبی تعلیم کے لئے کتابوں کی منظوری دی ہے جن کا اطلاق 2026 سے ہو گا۔
پاکستان کی مذہبی اقلیتیں اور سول سوسائٹی ایک عرصے سے اس بات کے لئے کوشاں تھیں کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بچے اسکولوں میں اخلاقیات یا اسلامیات کی بجائے اپنے اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرسکیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ان تھک کوششیں کی گئیں اور حکومت نے اس مطالبہ کو مانتے ہوئے 2021 میں اس پر کام شروع کر دیا۔ قومی نصاب کونسل نے 2023 میں سات مذاہب مسیحی، ہندو، سکھ، کیلاش، بدھ مت، پارسی اور بہائی بچوں کے لئے مذہبی نصابی کتب کی تیاری کی منظوری دی۔ یہ کام وفاقی سطح پر ہوا اور پورے ملک میں سے ان مذاہب کے لئے درسی کتب لکھنے کے لئے مختلف مذاہب کے افراد کا انتخاب کیا گیا۔ ہر مذہب کے لئے کتابیں لکھنے کے لئے اسی مذہب کے افراد سے استفادہ کیا گیا۔ اس کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی کہ اخلاقیات کی کتابوں میں جس بھی مذہب کے بارے میں لکھا جاتا تھا، وہ اکثریتی نکتہ نظر سے ہی لکھا جاتا۔
مبینہ طور پر کچھ کتابیں تو دو سال پہلے سے تیار ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سے تعلیم چونکہ ایک صوبائی معاملہ ہے اس لئے صوبائی حکومتوں سے کہہ دیا گیاکہ وہ نیشنل بک فاؤنڈیشن، وفاقی وزارت تعلیم کی تیار شدہ ان کتابوں کو اپنے اپنے صوبے میں شائع کروا کر بچوں کو مہیا کریں اور ان کی تدریس شروع کریں۔ تاہم صوبائی حکومتیں اس معاملے میں لیت و لعل سے کام لیتی رہیں۔ سننے میں تو یہ بھی آیا کہ ایک صوبائی حکومت کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کتابوں کی اشاعت کے لئے متعلقہ کمیونٹی اخراجات برداشت کرے جو کہ نہایت ہی غیر منطقی بات ہے۔ جس طرح کے انتظامات کے ساتھ باقی تمام کتابیں اور اسلامیات کی کتابیں شائع ہوتی ہیں اس طرح سے ان کتابوں کی اشاعت بھی ہونی چاہیے۔

پنجاب حکومت کا مذکورہ نوٹیفکیشن جب میں نے اپنے سماجی رابطے کے اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا تو جہاں اس فیصلے کو بہت سراہا گیا وہیں اس پر کئی سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے گئے۔ بے شک یہ سوال پہلے سے مختلف مذاہب کے بچوں کو اسکولوں میں ان کی اپنی مذہبی تعلیم دینے کا مطالبہ کرنے والوں کے ذہن میں بھی تھے اور وہ اپنی ایڈووکیسی کے دوران ان پر ڈائیلاگ بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کے حل کے لئے کئی تجاویز زیرِ غور رہیں اور ٹھوس تجاویز منظور بھی کی گئیں۔
ایک صارف نے لکھا اسکولوں میں اساتذہ کی پہلے سے کمی کی جا رہی ہے، یہ اضافی مضامین کون پڑھائے گا؟ کیا چھ اقلیتی برادریوں کے استاد ہرا سکول میں بھرتی کیے جائیں گے؟ جواب تو سادہ سا ہے کہ کسی بھی ریاست میں بسنے والے بچے ریاست کے لئے برابر ہونے چاہیے۔ اگر مذہبی اکثریت کے بچوں کوا سکولوں میں ان کی مذہبی تعلیم کے حصول کے لئے انفراسٹرکچر مہیا کیا جاتا ہے تو اقلیت کے بچوں کے لئے بھی ہونا چاہیے۔ عملاً ہر مذہب کے بچے ہر سکول میں نہیں ہیں، مثال کے طور پر کیلاش مذہب جن کے کل افراد کی تعداد چار ہزار ہے وہ بچے ملک کے ایک چھوٹے سے حصے میں بستے ہیں تو ان کے لئے استاد صرف اسی حصے میں چاہیے جو کہ اسی کمیونٹی میں سے بھرتی کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق پنجاب میں مسیحیوں کی آبادی چوبیس لاکھ ساٹھ ہزار اور ہندووٗں کی آبادی تقریباً دو لاکھ اٹھائیس ہزار پانچ سو ہے۔ پیکٹا میں مسیحی تعلیم کے کوآرڈینیٹر دانش جارج نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ”صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں میں اقلیتی طالب علموں کو مذہبی تعلیم دینے کے لئے اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے“ ۔ حکومت کے پاس ہر علاقے کا ڈیٹا موجود ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کس علاقے میں کون سی غیر مسلم آبادی کتنی تعداد میں موجود ہے۔ آبادی کے تناسب سے ہی سکول جانے والے بچوں کی تعداد ہو گی۔ اسی آبادی میں سے مخصوص مذہب کے بچوں کے لئے متعلقہ اساتذہ کو بھرتی کیا جاسکتا ہے۔
ایک اور سوال یہ پوچھا گیا کہ مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے کتنے بچے گورنمنٹ کے اسکولوں میں پڑھتے ہیں؟ کیا پرائیویٹ اسکول اس فیصلے پر عمل کریں گے؟ میرا ماننا یہ ہے کہ چاہے اقلیتی برادری سے ایک بچہ بھی اسکول میں ہو اس کے مذہبی حقوق کا دفاع اور مذہبی آزادی کی پاسداری اتنی ہی ضروری ہے جتنا اکثریتی مذہب سے تعلق رکھنے والے 500 بچوں کی۔ ریاست کو تمام بچوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے۔ جہاں تک پرائیویٹ اسکولوں کی بات ہے وہ بھی حکومت کے اصول و ضوابط کے تحت کام کرتے ہیں۔ جب یہ پالیسی بن گئی تو پھر وہ بھی عمل کریں گے۔
ایک اور بڑا اہم سوال یہ پوچھا گیا کہ ریاست اسکولوں میں کسی بھی مذہب کی مذہبی تعلیم پڑھانے کے لئے مداخلت کیوں کرتی ہے؟ بالکل درست بات، بین الاقوامی میثاق برائے حقوق اطفال کے آرٹیکل ( 14 ) میں ریاست کو والدین یا سرپرست کا یہ حق تسلیم کرنے کو کہا گیا ہے کہ وہ مذہب کے حوالے سے بچے کو اس طریقے سے رہنمائی فراہم کریں گے جو بچے کی نمو پاتی ہوئی صلاحیتوں کے مطابق ہو۔ میرا بھی اس بات پر پختہ یقین ہے کہ مذہبی تعلیم والدین کی ذمہ داری ہونی چاہیے نا کہ اسکولوں کی۔
بہرطور، حکومت ِپنجاب نے اقلیتی بچوں کی مذہبی تعلیم کے حوالے سے یہ ایک خوش آئند قدم اٹھایا ہے۔ بچوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر امتیاز کو ختم کرنے اور برابری پیدا کرنے کی ایک کاوش ہے۔ بین الاقوامی میثاق برائے حقوق اطفال کے آرٹیکل ( 2 ) کے مطابق ریاست اپنے بچوں میں مذہب کی بناء پر تفریق نہیں کر سکتی۔ جس طرح اکثریتی بچے اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اسی طرح اقلیتی بچے بھی کریں گے۔ وہ کوئی ایسی اخلاقیات نہیں پڑھیں گے جن کی صرف انھیں ہی ضرورت ہے اور اکثریتی بچوں کو نہیں۔ اس بڑے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے ٹھوس حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ اقلیتی بچوں کی سماجی تنہائی کا باعث بنے بلکہ اس سے مذہبی تنوع کی خوبصورتی میں اضافہ ہونا چاہیے۔
اسکولوں میں مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لئے تو ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ اکثریتی مذہب صرف ناظرہ اور اسلامیات کی کتابوں میں ہی نہیں پڑھایا جاتا بلکہ لازمی مضامین مثلاً اردو، انگلش، معاشرتی علوم اور جنرل نالج وغیرہ میں بھی تقریباً 40 فیصد اسباق میں اسلامی مواد ہوتا ہے۔ لازمی مضامین میں اسلامی مواد اقلیتی بچوں کو مجبوراً پڑھنا پڑھتا ہے۔ جبکہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 22 تعلیمی اداروں میں مذہبی ہدایات کے حوالے سے تحفظات کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ شہریوں کو اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کی مذہبی تعلیم حاصل کرنے اور مذہبی روایات اور عبادات میں شریک ہونے پر مجبور کرنے سے تخفظ فراہم کرتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


