شاہین کی اُڑان
فاکہہ قمر ۔۔۔ مبصر دانیال حسن چغتائی
علامہ اقبال کی شاعری خودی، حرکت اور جہد مسلسل کا جہانِ نو ہے۔ سرائے اردو پبلیکیشن سے شائع شدہ کہانیوں کا مجموعہ ”شاہین کی اڑان“ اسی فکرِ اقبال کو کہانی کے رنگ میں ڈھالنے کی خوبصورت اور منفرد کوشش ہے۔ یہ مجموعہ خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ وہ اقبال کے فلسفہِ خودی اور شاہین کے مفہوم کو اشعار کی حد تک نہیں بلکہ زندگی کے عملی کرداروں کی صورت میں سمجھ سکیں۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں اقبال کے مشکل اور گہرے مفاہیم کو نہایت سادہ، دلچسپ اور سبق آموز کہانیوں کے قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ ہر کہانی اقبال کے کسی نہ کسی مشہور شعر کے گرد گھومتی ہے جو یہ احساس دلاتی ہے کہ اقبال کا شاہین خیالی پرندہ نہیں بلکہ وہ بلند ہمت انسان ہے جو مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ستاروں پر کمند ڈالتا ہے۔
اس مجموعے میں مجھ سمیت 28 قلمکاروں کی کہانیاں شامل ہیں۔ کتاب کا انتساب ان شاہینوں کے نام کیا گیا ہے جو پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر رہے ہیں۔
جہاں تک کہانیوں کا تعلق ہے اس میں ڈاکٹر سیما شفیع کی تحریر ”نہیں ہے چیز نکمی زمانے میں کوئی“ جانوروں کی دنیا کی کہانی کہ جس میں انہوں نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر کسی بھی چیز میں نظم و ضبط ہو تو وہ اپنی طاقت کو پہچان لیتی ہے اور دنیا میں بہت کچھ کر سکتی ہے۔
ذوالفقار علی بخاری کی تحریر ”جیت کی لگن“ کے اندر انہوں نے کمرہ جماعت میں استانی اور بچوں کا ایک مکالمہ دکھایا ہے اور جس میں بچوں کو علامہ اقبال کے اشعار سے بھرپور آگاہی دی گئی ہے کہ اگر بچے یہی تحریر پڑھ لیں تو بہت سے اشعار ان کو یاد ہو سکتے ہیں۔
فاکہہ قمر کی تحریر ”میں اقبال ہوں“ میں بھی بچوں سے سوالا جوابا اقبال کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ کچھ بچے تو جانتے تھے اور کچھ انگلش میڈیم کے بچے علامہ اقبال کے حوالے سے بالکل بے خبر تھے تو ان کو بھی بتایا گیا کہ علامہ اقبال کیا ہیں اور ہمارے ملک کی تاریخ میں ان کا کیا مقام ہے۔
اسی طرح ثنا خالد کی تحریر ”حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے“ ایک ایسی ماں بیٹے کی کہانی ہے کہ ماں کے نزدیک بچی کی کامیابی سب کچھ ہے جبکہ بیٹی اپنے ساتھ موجود غریب اور نادار لوگوں کی بھی مدد کرنا چاہتی ہے اور پھر آخر میں ماں کو بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسرے کے۔
بہرام علی وٹو کی تحریر ”شکوہ“ کے اندر وہ خواب میں ایک بچے کی کہانی بیان کرتے ہیں جو زندگی میں انفرادی طور پر بہت زیادہ کامیاب ہے لیکن اس کے ملک کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور علامہ اقبال پھر اس کے خواب میں آتے ہیں، اسے سب کچھ سمجھاتے ہیں لیکن جب وہ ادھر ادھر دیکھتا ہے تو کوئی نہیں ہوتا لیکن وہ بہت کچھ سمجھ جاتا ہے کہ علامہ اقبال کہنا کیا چاہتے تھے۔
اسی طرح ”لاہوتی اس رزق سے موت اچھی میں“ فائزہ شہزاد نے ایک ایسے بچے کی کہانی بیان کی ہے جو محنت سے دور بھاگتا تھا لیکن علامہ اقبال کے اشعار کامیابی کی طرف واپس لائے۔
سلمان سمیجہ کی کہانی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جو ڈیجیٹل دنیا کا شاہین بن چکا تھا، حقیقت کی دنیا سے بالکل بے خبر ہو چکا تھا اور پھر اس کی ماں نے اسے علامہ اقبال کا شاہین بننے کی ترغیب دی اور وہ اپنی زندگی کی طرف واپس پلٹ آنے میں کامیاب رہا۔
سیدہ حفظہ احمد کی تحریر ”اقبال کے شیدائی“ اس مجموعے کی چند بہترین کہانیوں میں سے ایک کہانی کہ جب بھی نومبر آتا ہے یا اپریل آتا ہے تو طلباء میں اقبال کے حوالے سے مقابلے ہوتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ایک مقابلے کی کہانی لیکن اس میں بچوں کو بالکل سادہ سے انداز میں اقبال کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ ہمیں جو کچھ وقت بتا کر گئے ہیں اگر ہم اسی کو ہی سنبھال لیں تو ہمارے ملک کے اندر جو زوال ہے وہ بہت حد تک ختم ہو سکتا ہے۔ یہ تحریر اگرچہ 2022 میں لکھی گئی اور جب میں نے اس کو پڑھا تھا تو بہت دیر تک حیران رہا تھا کہ ہم اقبال کی کہانیاں لکھتے ہیں اور ایک ہی منظر نامے پر لکھتے چلے جاتے ہیں اور یہ بات کبھی ہمارے وہ گمان میں بھی نہیں آتی تو اس طرف ہمیں ضرور سوچنا چاہیے۔ اس کے ساتھ دیگر تمام کہانیاں بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں ۔ مجموعہ میں شامل تمام قلم کاروں کو مبارکباد دینا چاہوں گا کہ انہوں نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے اہم موضوع کو مدنظر رکھا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شاہین کی اڑان دورِ حاضر کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ کتاب اردو ادب اطفال میں گراں قدر اضافہ ہے بلکہ نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے اور ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ مصنفین نے جس مہارت سے اشعار کی تشریح کو کہانیوں کے تانے بانے میں بنا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ اس طرح کے سبق آموز سلسلے جاری رہنے چاہیے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


