شعر و شاعری

غزل ۔ ۔ ۔ شاہدہ حسن

شاعرہ: شاہدہ حسن

سارے پتھر اور آئینے ایک سے لگتے ہیں
ایک سی حالت رکھنے والے ایک سے لگتے ہیں
یوں لگتا ہے جیسے پھر کچھ ہونے والا ہے
کچھ ہونے سے پہلے لمحے ایک سے لگتے ہیں
پہلے کوئی راہ زیادہ لمبی لگتی تھی
اب تو گھر کے سب ہی رستے ایک سے لگتے ہیں
اپنی کوکھ کی گرمی میں ہوں یا اس سے کچھ دور
ماں کو اپنے سارے بچے ایک سے لگتے ہیں
………
بہت تھا شوق ترے عکس کو رہائی کا
ہنر میں بھول گئی آئینہ نمائی کا
ہوا کو دی نہ کبھی زخم ناگہاں کی خبر
میں چاہتی نہ تھی چرچا تری جدائی کا
مجھے عزیز یہ مرہم بدست لمس مگر
تجھے گماں ہے مرے زخم تک رسائی کا
ہوئی ہے شام چلوں معبدِ ہنر کو میں
گزر نہ جائے یہ لمحہ سخن سرائی کا
……
کیا ہوا شب کے ستارے نے جو در کھول دیا
اُس کی آہٹ نے مرا باب ہنر کھول دیا
میں نے جب بھی کبھی جانے کی اجازت چاہی
اُس نے بڑھ کر مرا اسباب ِسفر کھول دیا

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *