متفرقمعاشرہ

عمر چھپانے کی عمر نہیں رہی

تحریر: مبشرہ سلطان

ہم عجب قوم ہیں۔ جنہیں وقت کے گزرنے سے نہیں، وقت کے نظر آنے سے ڈر لگتا ہے۔ سورج ڈھلے تو کہتے ہیں روشنی ابھی باقی ہے، بال سفید ہوں تو کہتے ہیں یہ تو فیشن ہے۔ ہمیں سالوں سے نہیں، اعداد سے پرہیز ہے۔ پتہ نہیں کیوں، مگر جیسے ہی کوئی عمر پوچھ لے، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے دل کے بھید پر ہاتھ رکھ دیا ہو یا کوئی بہت ذاتی سوال کر لیا ہو۔ یہ وہ نازک لمحہ ہے جہاں تاریخِ پیدائش ایک رازِ حیات بن جاتی ہے۔

اکثر خواتین بڑے فخر سے کہتی ہیں، ”میں تو بہت چھوٹی سی تھی جب آپ نے مجھے دیکھا تھا۔“ حالانکہ ”چھوٹی سی“ سے مراد بچپن نہیں بلکہ ذرا کم عمر نظر آنا ہوتا ہے۔ ادھر مخاطب اگر ہم عمر نکل آئے تو وہ بھی دل ہی دل میں سوچتا ہے کہ شاید کیلنڈر نے میرے ساتھ زیادتی کر دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی لوگ خود ”انکل“ یا ”آنٹی“ کہلانے پر برا مانتے ہیں۔ گویا یہ لقب دوسروں کے لیے تو عزت کا، مگر اپنے لیے عذاب کا درجہ رکھتا ہے۔ عمر بڑھنے پر سب کو یقین ہے، مگر سب چاہتے ہیں کہ اس کا ثبوت دوسروں پر نظر آئے۔ خود پر نہیں۔

پہلے کہا جاتا تھا کہ خواتین عمر چھپاتی ہیں، مگر اب مرد حضرات بھی اس میدان کے اگلے کھلاڑی بن چکے ہیں۔ چالیس کے پیچھے کی دہائی میں قدم رکھتے ہی ”میں ابھی تو نوجوان ہوں“ کی گردان شروع ہو جاتی ہے۔ کوئی اپنے سفید بالوں کو ”فیشن“ کہہ کر چھپاتا ہے، کوئی کیلنڈر کو ہی غلط قرار دیتا ہے۔ گویا وقت نہیں گزرا، گھڑی ہی خراب تھی! دفتر میں، دوستوں کی محفل میں یا سوشل میڈیا پر، مرد بھی اب ”یوتھ فل“ دکھائی دینے کی ایسی دوڑ میں ہیں کہ گوگل بھی ان کی اصل عمر تلاش نہ کر سکے۔

اب چونکہ شادیاں بھی دیر سے ہو رہی ہیں، لوگ سیٹل ہونے، جاب ملنے یا مناسب رشتہ ڈھونڈنے میں اتنا وقت لگا دیتے ہیں کہ سال خود ہی آگے نکل جاتے ہیں۔ پھر والدین کی نئی نسل بھی جوان ہو جاتی ہے، اور یوں ماں باپ اور اولاد کے درمیان ایک عجیب سا عمر کا مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ والدین کوشش کرتے ہیں کہ اپنی جوان اولاد کے ساتھ ہم قدم دکھائی دیں، بلکہ بعض اوقات تو یوں لگتا ہے جیسے ماں بیٹی یا باپ بیٹے میں عمر چھپانے کی دوڑ لگی ہو۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کم پڑھے لکھے طبقے میں عمر چھپانے کا اظہار زیادہ زبانی ہوتا ہے۔ ”میں تو ابھی جوان ہوں“ ، ”اللہ سلامت رکھے، عمر کا تو پتہ ہی نہیں چلتا!“ جبکہ ذرا تعلیم یافتہ اور خوشحال طبقے میں یہ معاملہ خاموش مگر زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔ وہاں کیلنڈر نہیں، کاسمیٹک کلینک کام کرتے ہیں۔ ایک طبقہ جملوں سے جوان رہتا ہے، دوسرا فِلرز سے۔ مگر دونوں کا مقصد ایک ہی ہے : وقت کو جھٹلانا۔

ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جہاں عمر صرف اپنی نہیں، دوسروں کی بھی دلچسپی کا موضوع ہوتی ہے۔ کوئی عام شخص اگر چالیس کے بعد شادی کر لے تو لوگ حیران ہو جاتے ہیں۔ ”اب اس عمر میں؟“ حالانکہ عمر کے کسی صفحے پر یہ نہیں لکھا کہ خوشی صرف تیس کے بعد ممنوع ہے۔ ہم دوسروں کے فیصلوں پر انگلی اٹھا کر گویا اپنی ماندہ جوانی کی تسکین کرتے ہیں۔ جو خود وقت کے ساتھ نہیں بدل پاتے، وہ دوسروں کے بدلنے پر طنز کر کے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔

درحقیقت یہ سب رویے وقت سے خوف کی علامت ہیں۔ ہم سب وقت کے گزرنے سے نہیں، وقت کی حقیقت تسلیم کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس لیے کبھی کیلنڈر سے، کبھی زبان سے، کبھی کریم سے۔ ہم سب وقت کو تھوڑا سا پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر عمر چھپانے کی عمر واقعی نہیں رہی۔ اب اگر ہم اپنی جھریوں کو مسکراہٹ کے ساتھ قبول کرنا سیکھ جائیں تو شاید زندگی تھوڑی کم مصنوعی اور زیادہ خوبصورت لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ عمر چھپانے سے بڑھتی نہیں۔ صرف سچائی چھپ جاتی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *