شعر و شاعری

نظم ۔ ۔ ۔ فرزانہ

شاعرہ: فرزانہ

 

دن بھر خفا تھی مجھ سے مگر چاند رات کو
مہندی سے میرا نام لکھا اس نے ہاتھ پر

×××

میری آرزوؤں کی تمہید تم ہو
میرا چاند تم ہو میری عید تم ہو

×××

غم کے ماروں کے لیئے درد کا سامان بنا
شام کی گود میں وہ شعلہ نما عید کا چاند

×××

چاند کو دیکھا تو یاد آگئی صورت تری
ہاتھ اٹھے ہیں مگر حرف دعا یاد نہیں

×××

اللہ کرے کہ تم کو مبارک ہو روز عید
ہر راحت و نشاط کا ساماں لیئے ہوئے

×××

نظر جو چاند پہ کی دل میں مسکرائے تم
دعا کو ہاتھ اٹھائے تو یاد آئے تم

×××​

کتنے ترسے ہوئے ہیں عیدوں کو
وہ جو عیدوں کی بات کرتے ہیں

×××

جن کے ملنے کا آسرا ہی نہیں
عید ان کا خیال لاتی ہے

×××

میرے قریب آئی نہ اب تک بہار عید
مدت سے ہے جہاں میں مجھے انتظار عید

×××

مجھ کو تیری نہ تجھے میری خبر جائے گی
عید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی

×××

نہ جانے میرا تصور تھا یا فریب نظر
ہلال عید میں بھی تم مجھے نظر آئے

×××

وفا کا سندیس لے کر اترے تمہارے آنگن میں
گواہ رفاقتوں کا محبتوں کا بن کر ہلال عید

×××

کتنی مشکل سے فلک پر یہ نظر اتا ہے
عید کے چاند نے بھی انداز تمہارے سیکھے

×××

ایک لمحے کو کبھی میں تجھے دیکھا تھا
عمر بھر میری نظر میں نہ جچا عید کا چاند

×××

خود تو آتے نہیں یاد چلی آتی ہے
عید کے روز مجھے یوں نہ ستائے کوئی

×××

ہلال عید بھی نکلا تھا وہ بھی آئے تھے
مگر انہی کی طرف تھی نظر زمانے کی

×××

مزہ بہار کہن کا چکھا ہی جاتی ہے
ہم اہل ہوں کہ نہ ہوں عید آ ہی جاتی ہے

×××

جب تو نہیں تو عید میں رنگ وفا نہیں
سب قسمتوں کے کھیل ہیں تجھ سے گلہ نہیں

×××

پلکوں پہ حسرتوں کے ستارے سجالیئے
اس دھج سے خواہشوں نے کیا اہتمام عید

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *