گوشۂ ادبمتفرقمعاشرہ

محبت کا دیا

Spread the love

تحریر: صفیہ بشیر سامی۔ لندن

یادیں کبھی ختم نہیں ہوتیں  وہ جیسے   ایک صدی پر محیط خواب ہوں  جو وقت گزرنے کے ساتھ  اور بھی  روشن  ہوتے جاتے ہیں جیسے مجھے آج بھی   یاد  ہے کہ :۔

  رانو !  زور زور سے  تالیاں بجاتی   ہوئی خوبصورت  ننھّی سی ضدی بچی ‘ بہتی ناک  جس کا  پورا نام رانیہ تھا لیکن پیار سے سب اُس کو رانو ہی بلاتے تھے یہ ہمارے گلی میں کھیلنے والے سب بچوں میں سب سے  چھوٹی تھی اور بہت شرارتی گڑیا کی طرح  یہی کوئی چار  سال عمر  ہوگی رانو کی بہن راضیہ اور میری بہن   آسیہ دونوں ہم عمر تھیں میں اُن دونوں سے دو سال بڑا     مجھے یہ تاکید کی جاتی کہ بچے     محلے کی حد سے باہر نہ جائیں ۔  اُن دنوں ہماری گلی میں ریچھ  اور بندر کے تماشا والے ہر دوسرے دن آتے تھے رانو کو یہ تماشا بہت اچھا لگتا وہ تالیاں بجا بجا کر یہ تماشا دیکھتی اور اُن کے پیچھے جاتی جب وہ اپنی حدود سے باہر جانے کی کو شش کرتی تو ہم سب اُس کومنع کرتے اُس کی بہن تو با قاعدہ رونا شروع کر دیتی لیکن را نو کو کوئی فرق نہ پڑتا بلکہ وہ اپنی گلی سے بھی آگے دوسری گلی تک چلی جاتی میَں اور راضیہ اُس کو روکنے لئے جاتے لیکن وہ تھی کہ  بندر یا ریچھ والے کے پیچھے  بھاگتی ہم اُس کو بڑی مشکل سے پکڑ کر لاتے  وہ یہ تماشا دیکھ کر خوب ہنستی اور خوب تالیاں بجاتی  اور بلا خوف  اُن کے پیچھے بھاگتی ہم اُسے   ڈارتے کہ ہم تمہاری شکایت اُمی کو لگائیں گے  اور وہ ایک شرط پر واپس  ہمارے  ساتھ آتی کہ آپ میری شکایت نہیں کریں گے  ۔ اور کبھی ہلکے سے میَں اُس کا کان پکڑتا اور کہتا چلو واپس  آگے نہیں جانا تو اُلٹا مجھے دہمکی دیتی  فیضی بھائی آپ نے میرا کان زور سے پکڑا میَں آپ کی شکایت لگاؤں گی  اُسے کان  سے پکڑنے  پر بہت غصہ آتا  تھا ۔  کان پکڑنا اُس کی ضد ہو گئی میں جیسے ہی کان کی طرف ہاتھ لے کر جاتا وہ  فوراً بھاگ نکلتی  اور مجھے اِس بات پر تنگ کرنے سے  بہت مزا آتا ۔ 

ایک دن میَں نے اُس  کے کان پکڑ کر کہا  تمہیں ہر بات پر ضد کیوں سوجھتی ہے ؟

وہ ہنس کر بولی کیونکہ مجھے یقین ہے کہ تم میری ہر ضد پوری کرو گے ۔

 رانو کے دادا  ابو اور دادی جان ہمارے خاندان  میں سب سے بڑے مانے جاتے تھے اور باقی رشتہ دار سب  ایک خاندان کی طرح بہت محبت اور پیار سے رہتے تھے ۔ دادا ابو جن کو سب ہی بڑے ابو اور دادی جان کو بڑی اُمی کہا جاتا تھا ۔ جب کبھی کوئی بڑے مسائل ہوتے تو اُن کے پاس جاتے   اور اُن کی بات مانی جاتی کبھی بھی اُ نہوں نے  کسی کی دِل آزاری نہیں ہونے دی ۔  جب کو ئی  تہؤار ہوتا تو سب اکٹھے ہوتے ورنہ  سب اپنے کاموں میں مصروف زندگی گزار رہے تھے ۔

           ہمارے محلہ میں قریباً ہر جمعرات کو  باری باری صبح کے وقت بچوں کے لئے چائے باقر خانی یا کلچے کے ناشتہ کا اہتمام کیا جاتا  جس کے لئے جس گھر میں اہتمام ہوتا اُس گھر کے بچے اپنے دروازے پر کھڑے ہو کر آواز لگاتے ( منڈے کڑیو چائے پی لو) یعنی آ کر چائے پی لیں جب گھر والے بچے آواز لگاتے تو بچے بھاگ  بھاگ کر چائے اور باقر خانی کے لئے بھاگتے اور ساتھ ہی  مزید بچوں کو بلانے کے لئے آوازیں  بھی لگائی جاتیں اس طرح ہر جمعرات  یہ شغل میلہ ہمارے محلہ میں لگتا جہاں  سب سے پہلے رانو  اور باقی بچے بھی جاتے شوخ چنچل رانو  ہر جگہ اپنی  حرکتوں سے فن بنا دیتی   یعنی چائے اور باقر خانی یا کلچہ ایسے کھاتی جیسے زندگی میں پہلی بار  کھانے کو ملا ہو اُس کی بہن  اُس کو روکتی  لیکن وہ اپنی مرضی کی مالک  تھی جو جی چاہتا وہی کرتی  چھوٹی تھی   سب  اُس کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں  سے خوش ہوتے اور مزا لیتے ۔

رانو کے دادا ابو کا ایک پُراناسا ڈبہ نما ریڈیو خراب ہو گیا جس پر وہ سب گھر والے خبریں   نورجہاں اور   لتا  منگیشکرکے گانے سُنتے تھے ۔ بڑے ابو نے  مکینک کو بلوایا اُس نے  وہ ڈبہ نما ریڈیو کھولا  ہم سب بچے بڑے شوق سے ارد گرد بیٹھے دیکھ رہے تھے کہ اندر سے  بولنے والے لوگ نکلیں گے ۔ کہ اچانک  اُس میں سے بے شمار ٹڈیاں  اور چھوٹے چھوٹے کیڑے نکلے ۔ رانو اور اُس کی ہم عمر بچوں  نے شور مچا دیا کہ دیکھیں نور جہاں  اور لتا منگیشکر باہر آ گئی ہیں ۔ سچ پو چھیں مجھے بھی اُس وقت کچھ سمجھ نہیں تھی کہ یہ  ماجرا    ہے کیااور ریڈیو کے اندر سے  بولتا کون  ہے ۔ آج ان  بچپن کی باتوں  کو سوچتا ہو ں  تو  ایک درد بھرا  سرور  آتا ہے ۔

 دن گزرتے دیر نہیں لگی وہ چنچل  سی بچی روتی دھوتی سکول جانے لگی   کیونکہ اُسے سکول سے زیادہ  کھیلنے اور دوسرے بچوں کو تنگ کرنے میں مزا آتا تھا ۔ سکول شروع کیا تو وہاں   بھی اُچھلتی کودتی ہی جا تی  اور ضد یہ کہ اپنی من پسند اُستانی سے ہی پڑھوں گی  جو کہ نا ممکن تھا اُس کی اُمی  اُس کو یہ بات سمجھاتیں  کہ   تم جس کلاس میں ہو وہی اُستانی تمہیں پڑھائیں گی ۔ ہمارے سکول یعنی لڑکیوں اور لڑکوں کے سکول قریب قریب ہی تھے اور جانے کا بھی ایک راستہ تھا  ۔ سڑک  پار  کرنی ہوتی تو وہ اپنی بہن  کا ہاتھ پکڑ  کر سڑک پارکرتی ۔

   ہائی سکول  شروع ہو گئے معمول  وہی رہا  کہ ہم اپنی کزن کے ساتھ ساتھ اُن کے پیچھے جاتے    نہ اُ نہوں نے کبھی پیچھے مُڑ کر دیکھا اور نا ہی ہم نے کبھی اُن  سے بات کرنے کی کوشش کی  لیکن سب  جانتے تھے کہ ہمارے پیچھے کون آ رہاہے ۔ ہم بے شک سب رشتے دار تھے مگر  ایک دوسرے کے گھروں میں بچوں کا آنا جانا  کسی تقریب کے علاوہ نہیں ہوتا تھا ۔ اور میں جس کو کہ بچپن سے ایک  سانولی سلونی ضدی سی  بچی کے پیچھے چلنے کی عادت ہو گئی تھی وہ  ناجانے کب  دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی  کہ سوتے میں بھی ایسا محسوس ہوتا کہ کوئی پیاری چیز چل رہی ہے اور میں اُس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہوں ۔ میری امی ابو دو نوں کزن تھے اور رانو کے ابو  میری امی اور ابو دونوں  کے کزن تھے اس طرح رشتے داری  توتھی لیکن گھروں  میں   بڑوں کا بلا ضرورت آنا جانا نہیں تھا

رانو کی بہن راضیہ اور میری بہن آ سیہ ہم عمر    کلاس فیلو اور پکی سہلیاں    سکول کا کام بھی مل کر کر لیتیں ۔ راضیہ ہمارے گھر  میری بہن آسیہ کے پاس آتی تو رانو بھی ساتھ ہی ہوتی اور اگر میری بہن اُن کے گھر جاتی تو اکثر میَں اُسے لینے جاتا یا چھوڑنے جانا ہوتا اس طرح ہما رامیل جول چلتا رہا  اور کبھی کبھی مَیں  اُسے تنگ کرنے کے لئے کان کی طرف ہاتھ لے کر جاتا تو وہ تھوڑا شرما کر  مُنہ پھیر لیتی جس سے میرے دل کو بہت سکون ملتا  ۔ جانے وہ  چھوٹی سی بچی  کب اور کیسے آ ہستہ آ ہستہ  میرے دل  کے تہ خانے میں اُتر تی گئی ۔    میَں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ بہت خوبصورت تھی اور یہ بھی کہنا مشکل ہے  کہ وہ خوبصور ت نہیں تھی   مجھے لگتا ہے  ہمارے دلوں میں وہ چاہت شروع ہو گئی تھی جو  شکل و صورت  سے نہیں بلکہ دلوں کے اندر کہیں سے پھوٹتی ہے۔ ہم کسی قسم کا اظہار  کئے بغیر     اس بے نام تعلق میں آ گے بڑھتے رہے ۔  دیکھتے     دیکھتے   بچپن کہیں دور رہ گیا ۔شعور  آنے کے ساتھ بھی زبان تو بند ہی رہی  مگر   ہر تہوار  اور   خاندان کی تقریبات میں  میری آ نکھیں  رانو کو ہی  تلاش  کرتیں  ۔ ہماری نگاہیں ملتیں تو اس  کے چہرے پر      خوبصورت   ہلکی سی مسکراہٹ  آجاتی   جو میرا سرمایہ تھی ۔ یہی ہمارے دل کی آواز تھی جسے  سن نہیں سکتے تھے مگر  محسوس       کرتے تھے  ۔  میری بہن  نے بھی نگاہوں کی زبان سکجھ لی تھی مگر کبھی   بات نہیں ہوئی ۔

رانو کی بہن  راضیہ کی تعلیم مکمل ہو چکی تھی ۔ ا ُس کے والدین کو اُس کی شادی کی فکر تھی کچھ عرصہ بعد راضیہ کی شادی کی تیاریاں  شروع ہو گئیں ۔ خاندان   کی تقریبات   شروع ہوگئیں   یہ دو  ہی بہنیں  تھیں اِن کا کوئی بھائی نہیں تھا  اس لئے خاندان کے سب لڑکوں نے   باہر کے تمام کام سنبھال لیئے ۔   مہندی   میں ڈھولک کی تھاپ پر سب لڑکیاں مسحور تھیں  ۔ کوئی ڈھولک بجا رہی ہے اور کوئی اُس پر چمچ  سے  ٹک ٹک  کر رہی ہے   رانو کا ایک ہی کام بچپن کی طرح تالیاں بجانے پر زور ہاتھ بڑے ہو گئے مگر انداز وہی  میَں اُس کے ہاتھوں کے انداز کو ہی تکتا رہ گیا   ۔ جیسے ہی اُس کی  مجھ پر نظر پڑتی  ایک دم سے شرما کر  دونوں ہاتھ اپنی جھولی میں رکھ کر بیٹھ  جاتی  ۔   غرض  شادی کی رنگ رلیوں میں خوب جوش خروش سے سب  نے اپنا  اپنا حصہ ڈالا اور شادی کو خوب رونق  بخشی   خاندان ہی  کی شادی تھی کوئی پردہ تو تھا نہیں۔ سب ایک دوسرے کا  احترام      کرتے ۔  لیکن دلوں  پر کوئی پہرہ نہیں ہوتا   جہاں  رانو نظر آتی میں بس کانوں کو ہاتھ لگاتا  اور وہ شرما کر  آ نکھ سے اوجھل ہو جاتی ۔

 وہ ضدی   چنچل بچی جتنی  شوخ  تھی اُتنی ہی سنجیدہ  اور  پڑھائی میں ہوشیار   اورمحنتی  تھی ۔   مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے  اُس نے یونیورسٹی   میں داخلہ لیا ۔ میَں   پہلے ہی اپنی تعلیم مکمل کر نے کے  بعد   ملازمت شروع کر چکا  تھا  بہت اچھی ملازمت تھی بہت سی سہولتوں کے ساتھ گھر بھی ملا ۔  رانو کی یونیورسٹی اُسی شہر میں تھی جہاں میرا  ملازمت تھی ۔ دادا ابو کو جب میں ملنے گیا تو دادا ابو نے کہا بیٹا کبھی کبھار  رانو کا حال احوال  پوچھ لیا کرنا بہت بڑے شہر میں  جا رہی ہے   ہم فکر مند ہیں ۔ رانو  کا قیام ہوسٹل میں تھا ۔  میَں تو دل سے بہت خوش تھا کہ دادا ابو  نے میرے دل کی بات کی ہے  ۔  میَں تو  دل سے چاہتا تھا کہ   زندگی بھر  کی ذمہ داری  مجھے  ہی مل جائے لیکن یہ باتیں دل میں  سوچی تو جا سکتی ہیں لیکن کی نہیں جاتیں ۔ میرے دادا ابو اور سب خاندان والے میری بہت عزت کرتے تھے اور بھروسہ بھی ۔  خاندان ہونے کی وجہ سے میَں نہیں چاہتا تھا کہ  میری کسی چھوٹی سی  بھی غلطی  کی وجہ سے خاندان میں کسی کو کوئی غلط فہمی ہو یا  رشتوں میں دراڑ آ ئے  اس لئے رانو کے پاس میرا فون نمبر تھا ضرورت پڑنے پر اُسے اجازت تھی کہ مجھ سے بات کر سکے  لیکن بہت کم تھا جو میرے ساتھ رابطہ کرتی ہمیشہ میَں ہی اُس کی خیریت دریافت کرتا ۔ جب  وہ  یونیورسٹی  کی تعلیم مکمل کر کے واپس گئی تو میَں نے اپنی والدہ کو ڈائمنڈ کے بہت پیارے چھوٹے سائز میں ٹاپس   گفٹ کر نے لے لئے بھیجے  تھے ۔ ماں کے دل میں  جانے کیا بات تھی  میَں نہیں جانتا تھا  وہ میری ماں  تھیں  اور میرے جذبات کو اچھی طرح جانتی تھی ۔  ماں  نے وہ ٹاپس سنبھال کے رکھ لئے  کہ جب  مناسب وقت آئے گا تو دوں گی ۔

  ماں باپ کی طرف سے  مجھے شادی کا پیغام ملتا رہتا   جسے میں  ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ ابھی کیا جلدی ہے ۔ اُدھر مجھے اپنی بہن کے ذریعہ یہ بھی معلومات ملتی رہی کہ بھائی رانو کی شادی کی باتیں ہو رہی ہیں  وہ جانتی تھی کہ میرا بھائی بچپن سے جس کی رکھوالی کرتا آ  رہا ہے وہ اب اُس کے لئے کتنا سنجیدہ ہے مگر کچھ کہنے کی ہمت نہیں  ہے۔ اب جب مجھے متواتر اس  قسم کی خبریں آنی شروع ہو گئیں تو میں نے اپنے دل کی بات اپنے والدین کے سامنے  پیش کر دی  میری اُمی اور بہن تو پہلے ہی اُس کو پسند کرتی تھیں مگر میرے والد صاحب جانتے تھے کہ یہ رشتہ مشکل ہے  رانو کے والدین نہیں مانیں  گے وہ کزن    سے    رشتہ نہیں کرنا چاہتے تھے  ۔ ۔ رانو  نے بھی دبے لفظوں  سے میری  بہن کو اپنے دل کی بات بتا دی تھی  اور میَں جانتا تھا کہ وہ   زندگی بھر میرا ساتھ چاہتی ہے   جیسے  مجھے   بچپن میں  اُس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی  گئی تھی وہ  اب پروان چڑھ چکی تھی اُ سی طرح وہ بھی  مجھے اپنا محافظ سمجھتی تھی ۔  میرے والدین نے دادا ابو سے بات کی دادا ابو مجھے بہت پسند کرتے تھے  مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اس رشتہ سے  خوش تھے لیکن  میرے والدین نے جب رانو کے والدین سے  اپنی  اور میری خوشی کا اظہار کرتے ہوئے  رانو کا ہاتھ مانگا تو  یہ کہتے ہوئے  معذرت کی کہ ہم نے رانو کا رشتہ بہت پہلے سے  طے  کر دیا ہؤا ہے  اور بہت محبت سے  رشتہ دینے سے انکار کردیا ۔

میرے لئے یہ جواب انتہائی تکلیف دہ تھا  میَں جو  رانو کے علاوہ زندگی میں کسی اور کے ساتھ  شادی کا سوچ بھی نہیں سکتا  تھا اس جواب سے بہت رنجیدہ تھا  میرے والدین بھی جانتے تھے کہ  میرے لئے یہ انکار  برداشت سے باہر ہے ۔   میں نے ملک چھوڑنے کا ارادہ کر لیا اور اپنے والدین کو آگاہ کر دیا  والدین بھی رنجیدہ تھے  وہ خود بھی رانو کو پسند کرتے تھے اور میری چاہت کو بھی جانتے تھے  لیکن پھر بھی میرے ملک چھوڑنے پر رضا مند نہیں تھے ۔

 اُدھر رانو کی  تعلیم مکمل ہوتے ہی شادی کی تیاریاں  شروع  ہو گئیں ۔  رانو نے  کوئی احتجاج نہیں کیا سوائے اس کے کہ میری بہن کے گلے لگ کر بہت روئی اور کہا  باجی فیضی کو کہنا میری شادی میں ضرور شامل ہوں ۔  لیکن ایسا ممکن نہ ہؤا  کویت   کی ایک کمپنی میں مجھے  ملازمت مل  گئی تھی      ویزے کا انتظار تھا جیسے ہی میرا ویزا آیا  میں  نے   اپنا  ملک چھوڑ دیا جہاں میری محبت  مجھ سے چُھٹ چکی تھی۔  شادی کی خبریں مجھے میری بہن سے ملتی رہیں  رانو نے اپنے ماں باپ کی رضا مندی کے سامنے اپنا سر جھکاتے ہوئے  اُن کے فیصلے کو قبول کیا اور سسرال چلی گئی ۔ اب میرا کوئی اختیار نہیں تھا سوائے اس کے کہ اُس کی خوشحال زندگی کے لئے دعا کر سکوں ۔ لیکن میرا سکون ختم ہو چکا تھا ہر وقت اپنے آپ کو کام میں مصروف رکھتا  گھر والوں سے  کم کم بات کرتا لیکن میرے ابا ا ماں میرے لیے بہت پریشان تھے ہر وقت  جب بھی فون پر بات ہوتی تو  پہلی بات ہی یہ کہ تم شادی کر لو  جو میرے لیے آسان نہیں تھا ۔ میَں  اپنے ملک سے  اور وہاں کی یادوں سے دور رہنا چاہتا تھا جو میرے لئے بہت تکلیف دہ  تھیں میرا کوئی پل  مجھے رانو کو بھولنے نہیں  دیتا تھا ۔ میَں نے اپنے آپ کو  اپنے کاموں میں بے حد مصروف کر لیا ۔

 میری  ایک ہی بہن تھی اُس کی بھی شادی ہو گئی میں وہاں بھی شامل نہ ہو سکا ۔ وطن جانے کو دل ہی نہیں چاہتا تھا ۔  کچھ عرصہ بعد میں نے اپنے والدین کو اپنے پاس بلا لیا ۔ میری  اماں کا ہر وقت ایک ہی بات پر اصرار ہوتا بیٹا شادی کر لو اور گھر بساؤ  یہ بات تقریباً ہر روز میری ماں   دہراتیں    ایک دن میں نے فیصلہ کیا اور اپنے کام پر اپنی ایک دوست  بارعہ  جس کو میَں جانتا تھا کہ وہ مجھے پسند کرتی ہے لیکن  اظہار نہیں کر پا رہی اور میَں  تو ذہنی طور پر شادی کے لئے تیار ہی نہیں تھا  لیکن وہ  ہمیشہ میرا خیال رکھتی اور دوستی نبھاتی  اُس کے ساتھ شادی کا پروگرام بنا لیا جب اُس کو میں نے شادی کے لئے کہا  تو  اُس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی وہ دل سے میرے ساتھ شادی کی خواہش مند تھی ۔ بارعہ کے والدین بھی اس شادی کے لئے رضا مند ہو گئے ۔

 میرے والدین تو میرے پاس ہی تھے اُن کی خوشنودی کے ساتھ چھوٹی سی  تقریب     کی  اور شادی کر  کے بارعہ  کو  گھر لے آیا الحمد للہ   اچھی  جیون ساتھی مل گئی میرا بہت خیال کرتی  کوشش کرتی کہ مجھے ہر طرح سے خوشی دے سکے ۔ میَں نے اپنے دل کی ہر بات اُسے پہلے سے ہی بتا دی تھی کہ میں  پہلے سے محبت میں  زخم خوردہ ہوں ۔   اللہ پاک نے جلد ہی اولاد سے بھی نواز دیا اور ہمارا پہلا بیٹا پیدا ہؤا ۔میری قسمت  میں کیا لکھا تھا نہیں جانتا میرا بیٹا   پیدا ہؤا   ہم بہت خوش تھے۔ بیٹے کا نام اُس نے رحیم فیضان رکھا   نام مجھے بھی بہت پسند تھا ۔ لیکن قسمت میں کیا تھا  نہیں جانتے    میری بیوی     بچے کی پیدائش کے بعد شدید بیمار ہوگئی  ۔ بخار تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا میرا بیٹا دادا دادی کی گود میں  چلا گیا ۔  بہت علاج معالجے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا     مجھ سے جو مممکن ہو سکتا تھا علاج کروانے میں کمی نہ ہونے دی  مگر میں پھر ہار گیا اور کینسر جیت گئی   ہماری دو  اڑھائی   سال کی  خوشیوں بھری زندگی  تمام ہوئی ۔

 میرے والدین کا ویزا ختم ہؤا اُن کو واپس اپنے ملک جانا ہی تھا ۔ رحیم بہت چھوٹا تھا اُس کو ابھی گود کی ضرورت تھی جو شاید میَں نہیں  دے پاتا تھا  میرا بیٹا اپنی نانی کی گود میں  چلا گیا میر ا تمام سُسرال کویت میں ہی موجود تھا میرے سُسر پاکستانی اور میری ساس صاحبہ کویتی عرب  تھیں اس لحاظ سے  بارعہ    اور پھر رحیم  آ دھا عرب خون رکھتا تھا ۔  رحیم کے نانانانی نے رحیم کو بے حد پیار دیا اور بہت اچھی تربیت کی  ماشاءاللہ وہ اپنی پڑھائی میں بھی بہت  قابل نکلا  ۔ اپنی زبان اردو عربی  انگلش تما م زبانوں پر عبور حاصل  کیا ۔  میری رہائش   میرے سُسرال کے  گھر کے قریب ہی تھی  مجھے بارعہ کی وفات کے بعد بھی وہی محبت ملتی رہی جو اُس کی زندگی میں تھی بلکہ اگر یہ کہوں تو زیادہ اچھا ہوگا کہ وہ مجھے اپنا بیٹا ہی مانتے تھے اس لیے رحیم کی پرورش  بہت اچھے طریقہ سے ہوئی    ایک دو دن کے بعد اکثر میری ملاقات رحیم اور خاندان سے  ہو جاتی   اس طرح وہ میری محبت اور نانا نانی کی  تربیت سے بڑا ہو رہا تھا ۔

  میَں نے اپنے والدین کے علاوہ  تمام خاندان اور پاکستان سے اپنا تعلق ایک قسم کا ختم  کر  چکا تھا ۔ میَں نہیں جاننا چاہتا تھا کہ وہاں  کون اور کیسے ہے ۔ میری پہلی کوشش اپنی بیوی اور بچے کی خوشحالی  تھی  لیکن قسمت کو یہ منظور نہیں تھا   اب میری پوری توجہ اپنے بیٹے رحیم پر مرکوز تھی اُس کے خوبصورت مستقبل کو سنوارنا  میری زندگی کا مقصد تھا ۔رحیم  نےکیمپوٹر سائنس  میں    اپنی ڈگری کا امتحان   فرسٹ کلاس سے  پا س کیا۔ پاکستان میں میرے والد صاحب کی وفات ہو گئی میری والدہ اکیلی ہو گئیں  عمر رسیدہ تھیں اکیلے رہنا مشکل تھا  بہن اپنی خاندان میں مصروف تھیں  والدہ نے مجھے کہا اب تم واپس  آ جاؤ کب تک پردیس میں اکیلے زندگی گزارو گے۔ ادھر میری ساس صاحبہ  بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں ۔  میں نے واپس اپنے ملک جانے کا پروگرام بنا لیا ۔

  اپنے ملک میں  اپنے محلہ میں  پہنچاتو دنیا ہی بدل چکی تھی میَں  نے قریباً   35 سال بعد ا ُس  گلی میں پاؤں رکھا   جہاں میَں نے  اپنی یادوں  اور محبت کو چھوڑا تھا  گھر بدل گئے   بہت لوگ دنیا سے چلے گئے بچے جوان ہو گئے  اُس میرے محلے  کے گھروں کی شکل وصورت  بدل چکی تھی میرے ساتھ میرا  جوان      خوش شکل    ہینڈسم  بیٹا  تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ  اِس وقت اُس کہ   باپ کے دل میں کونسی دنیا آباد ہو چکی ہے ۔ وہ بچہ بن کر کس کے پیچھے بھاگ رہا ہے  کس کے کان پکڑ کر ریچھ اور بھالو کے پیچھے بھاگنے سے  گھر کی حدود پارکرنے سے  روک رہا ہے ۔  جب میرے بیٹے نے کہا بابا  آپ کیا سوچ رہے ہیں تو میں نے اُس کو   بتایا کہ میرے بچپن کی یادوں   نے مجھے جکڑ لیا ہے ۔ جن  یادوں کو میں نے زندگی بھر بھولنے کی کوشش کی وہ   بھولا تو نہیں  تھا لیکن ہاں مدھم ضرور ہو گئی تھیں آج واپس آیا ہوں تو  دل و دماغ میں ایک فلم چل گئی ہے ۔

 میَں  اپنی ماں کے قدموں  میں بیٹھ گیا جو اب  بہت نحیف اور کمزور ہو چکی تھی ۔ لیکن یاد داشت بہت اچھی تھی  الحمد للہ ۔   جب تک میَں اپنے ملک سے باہر رہا  میَں نے  کبھی اپنے رشتے داروں یا خاندان کے بارے میں معلومات نہیں  لیں یہاں تک کہ مجھے نہیں معلوم کہ  رانو شادی کے بعد کہاں  گئی اور باقی خاندان کہاں ہیں میں نہیں چاہتا تھا کہ  اب جب ہماری راہیں ہی جدا ہیں تو ایک دوسرے کو  ہماری وجہ سے کوئی  تکلیف پہنچے  اس لئے دوری ہی بہتر تھی ۔ لیکن دل کے کسی کونے میں ایک  ضدی سی لڑکی  ضرور موجود تھی  جو کبھی نہ کبھی میرے دل میں ہلچل مچا دیتی ۔

 پاکستان آ کر میرے بیٹے کو بہت اچھی کمپنی میں  ملازمت مل گئی  ۔ میں  Retirement ریٹائر منٹ  کے بعد میں فارغ تھا لیکن یہاں آکر میَں نے ایک لائبریری میں ریسپشن کے طور پر    پارٹ ٹائم  چار گھنٹے روزانہ   ملازمت شروع کر دی ۔   مجھے ہمیشہ سے کتابیں پڑھنے کا شوق رہا اب جب کے میرے پاس وقت بھی تھا تو اپنا شوق لائبریری میں جا کر پورا کرنے کا موقع ملا ۔

ایک دن میں سر جھکائے کسی کام میں مصروف تھا کہ کسی نے میرے آگے اپنا لائبریری کارڈ اور واپس کرنےکے لئے اپنی کتابیں رکھیں  میَں نے اُوپر دیکھے بغیر کتابیں اُٹھائیں  اور اُن کا کارڈ چیک کرنے کے لئے مشین کے سامنے کیا تو نام لکھا ہؤا آیا رانیہ ظہیر مجھے ایک دم   سےجیسے اچانک برسوں پرانی  یادوں نے دروازہ کھول دیا ہو ۔ دل دھڑک  اُٹھا ۔ میَں نے آ نکھیں اُوپر اُٹھا کر دیکھا تو    رانو!   وہی ضدی لڑکی ، وہی میرا بچپن ، وہی میرا پیار ، مگر بہت ہی نحیف حالت میں   نظر آئی ۔ اُس نے بھی میری طرف دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی   ، حیران ہوئی  آ ہستہ سے بولی ” فیضی بھائی آپ” رانو کے ساتھ اُس کی بہت خوبصورت جوان بیٹی تھی جو ہم دونوں کو یوں    اپنا یت  سے    بات کرتے     دیکھ کربہت حیران تھی ۔ اُس نے پوچھا ماما یہ کون ہیں ۔ میَں نے رانو کے بولنے سے پہلے ہی اُس کو جواب دیا میں تمہارا ماموں  فیضی ہوں ۔  رانو کی جان میں جان آئی  اور شکریہ کہتے ہوئے پوچھا آپ کیسے ہیں ۔میَں ٹھیک ہوں آئیں کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔  وہاں قریب ہی کینٹین تھی ہم وہاں  بیٹھ گئے اب میَں پہلے رانو کی بیٹی  سے مخاطب ہؤا  اور پوچھا بیٹی آپ بہت پیاری ہیں کیا آپ ہمیں  اپنا نام نہیں  بتائیں گی ؟

  اُس نے جواب دیا انکل میرا نام عفیفہ ظہیر ہے ،

یعنی  آپ کے ابو کا نام مسٹر ظہیر ہے ؟ 

جی ہاں  لیکن میرے ابو جان  اب اس دنیا میں نہیں ہیں اُن کی وفات کو قریباً دس سال ہو چکے ہیں  اپنا تعارف کرواتے ہوئے بولی ہم تین بہن بھائی ہیں دو بھائی مجھ سے بڑے ہیں جن کی شادی ہو چکی ہے  دونوں بھائیوں کو کینیڈا میں  ملازمت مل گئی ہے وہ وہاں چلے گئے اب میں اور  میری اُمی یہاں  رہتے ہیں میں سب سے  چھوٹی ہوں۔  اس دوران رانو چُپ چاپ اپنی بیٹی کی باتیں اور تعارف کرواتے ہوئے  سُنتی رہی  جو خود بے حد کمزور   و نحیف حالت میں تھی  وہ ایک لفظ نہیں  بولی  میَں نے رانو کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا  رانو تم کیسی ہو؟ تمہارے شوہر کی وفات کا سُن کر بے حد افسوس ہؤا آنکھوں میں آ نسو بھر کے ٹھنڈی سانس لی اور بولی میں اب ٹھیک ہوں فیضی بھائی ساتھ عفیفہ اُس کی بیٹی بولی نہیں انکل ماماٹھیک نہیں ہیں دو بار ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے زیادہ چل پھر نہیں سکتیں اپنا خیال نہیں رکھتیں  ہمیشہ یہی کہتی ہیں میَں ٹھیک ہوں   لیکن ٹھیک نہیں ہیں ۔ میں نے عفیفہ کو کہا بیٹی اب آپ  فکر نہیں کریں    ہم سب مل کر آپ کی  ما ما کا خیال رکھیں گے ۔

 ہم  یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ میرا بیٹا رحیم مجھے لینے آ گیا ۔ وہ ہمیشہ  اپنی  ملازمت ختم کرتے  ہوئے واپسی پر مجھے ساتھ لے کر جاتا ہے اور آج بھی حسب معمول جب آیا تو یہ دیکھ کر حیران  ہؤا کہ بابا دو  خوبصورت عورتوں کے در میان بیٹھے  خوش  گپیوں میں مصروف  ہیں ۔ میَں نے رحیم کا تعارف کروایا اور  ساتھ ہی رحیم کو رانو اور عفیفہ  سے ملوایا  ۔ ملنے کے بعد رحیم بولا بابا  اگر یہ سب آپ کے اتنے قریبی  ہیں تو ان کو  اپنے گھر آنے کی دعوت دیں  ۔ میَں نے کہا ضرور کیوں  نہیں واپسی پر ہم نے رانو اور عفیفہ کو اُن کے گھر ڈراپ کیا  اور آج کی خوش گوار ملاقات ختم ہوئی ۔ رحیم دونوں  ماں بیٹی سے مل کر بہت خوش ہؤا اپنی دادی اماں کے ساتھ بھی تعریف کرتا رہا کہ آج پہلی  بار با با کے  بہت اچھے رشتہ داروں سے ملا قات ہوئی ہے ۔

اب ان ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہا رانو دل کی مریض تھی بہت کمزور ہو چکی تھی ہر وقت  ڈاکٹروں   کی نگہداشت   میں رہتی جتنا ممکن  ہو سکتا تھا اُس کا علاج ہو رہا تھا وہ ایک طرح سے ہمت ہار چکی تھی ۔ وہ اپنی  بیٹی کے لئے بے حد پریشان  رہتی میَں  رانو کو تسلی  دیتا مگر  وہ اپنی کیفیت سے بخوبی آگاہ تھی ۔  ایک دن جب کہ وہ  ہاسپیٹل میں   شدید تکلیف کی حالت میں  اپنے بیڈ پر  نڈھال پڑی تھی بولی  فیضی بھائی ایک بات کہنا چاہتی ہوں گو کہ ہمت نہیں ہو رہی  لیکن بات کرنا بہت ضروری ہے ۔  میری زندگی کا اب کوئی اعتبار نہیں  کب سانس بند ہو جائے  میں اپنی زندگی کی بازی ہار گئی ہوں  ۔ میَں جانتی ہوں  اورآپ پر مجھے پورا یقین  و بھروسہ ہے اس لیئے میں اپنی بیٹی عفیفہ آپ کے سُپرد کرتی ہوں    آپ  میری  بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھ کر اس کی ذمہ داری کو احسن طریقہ سے  نبھائیں گے ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا کہ یہ کیابات کر رہی ہے اب ہم اتنی مدت کے بعد ملے ہیں  اور ہم میں ایک احترام کا رشتہ موجود ہے اور پھر مجھے چھوڑ کر جانے کی باتیں کر رہی ہے ۔ میَں نے اُس کو تسلی دی اور کہا  تم کہیں نہیں جا رہی ہو  کیوں فکر کرتی ہو تمہاری بیٹی میری بھی بیٹی  ہے  ۔  لیکن تم انشاء اللہ خود اُس کی خوشیاں  دیکھو گی ۔

   میَں دیکھ رہا تھا کہ رحیم اور عفیفہ میں کافی  اچھی دوستی ہو گئی ہے   اکثر اکٹھےبیٹھ کر اپنے  والدین اور بیتی  زندگی پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں  ۔ رانو کی حالت کو دیکھتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا  کیوں  نہ میں عفیفہ کو اپنی بہو بنا لوں  یہ خیال آتے ہی میَں نے اپنے بیٹے  سے بات کی اُس کی رضا مندی حاصل کی     وہ یہ بات سُن کر بہت خوش ہؤا عفیفہ بہت اچھی اپنی ماں  کی طرح سُلجھی ہوئی بچی تھی ۔    ادھر  رانو ہاتھ سے نکلی جا رہی تھی میں نے رانو سے کہا  اگر تم مناسب سمجھتی  ہو اور میرا بیٹا رحیم تمہیں پسند ہو تو میں عفیفہ کا ہاتھ  تم سے مانگتا ہوں لیکن تم اپنی بیٹی کی رضامندی پوچھ لو ۔ غرض سب کی رضا مندی اور خوشی سے  ہم نے ہاسپیٹل میں ہی نکاح کی  تقریب   کی  اور عفیفہ کو بہو بنا کر گھر لے آئے اور آج میری ماں نے وہ  ڈائمنڈ کے ٹاپس جو میں نے رانو کے لئے خرید کر اپنی ماں کو دیے تھے وہ اُس کی بیٹی  عفیفہ کو بہو بنا کر تحفہ دیا ۔  رانو کی بیٹی کے کانوں میں  جو ٹاپس جگمگا رہے تھے    اُن کو دیکھ  کر میری آنکھوں میں نمی سی آ گئی ۔ وہ لمحہ عجیب سکون دے گیا ۔ رانو نہ سہی  اُس کی نشانی   کے ذریعے  میں اپنی محبت   اُس کے وجود تک جا پہنچا ۔

کچھ  ہی دنوں بعد رانو  اپنی بیٹی  کا انمول تحفہ  مجھے دے  کر  سکون  سے اللہ کو پیاری ہو گئی ۔

  وقت گزرتے دیر نہیں لگتی  دو سال سے زیادہ  کا عرصہ  بیت   چکا  اب   میرا   پوتا  رہان  میری گود میں کھیلتا ہے اُس کے ساتھ   وقت گزرتا ہے ۔  اکثر قبرستان چلا جاتا ہوں  جس کو زندگی بھر اپنی رانو نہیں کہہ سکا  اُس کی قبر پر پھول ڈال کر کہتا ہوں :۔

” رانو! تم جیتی میَں ہارا !زندگی بھر تمہیں چاہا دل سے پیار کیا زندگی  بھر جو کہہ نہ پایا   آب تمہاری قبر پر بیٹھ کر  کہہ سکتا ہوں  بہت پیار کرتا ہوں تم سے  اپنی جان سے بھی زیادہ  اپنی آخری سانس تک  تمہیں  ہی پیار کرتا رہوں گا    ، اتنا کہہ  سکتا ہوں جو محبت تم سے  ہوئی  وہ اور کسی سے نہیں ۔ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو  زندگی میں  ہم سہہ تو سکتے ہیں مگر کہہ نہیں  سکتے ۔ ہمیشہ دل میں تم رہی ہو تم سُن نہیں سکتی میَں بول سکتا ہوں،  ہمیشہ تم  مجھ سے آگے رہی ہو ۔ میَں   آج بھی تمہارے پیچھے ہوں ۔تمہاری قبر پر  محبت  کا دِیا جلاتا رہوں ۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *