عورتمتفرقمعاشرہ

محنت سے شرماتی اور مشکل سے گھبراتی نہیں

تحریر: آمینہ یونس، بلتستانی

ایسا لگتا ہے شعر کا یہ مصرع جیسے ہمارے گاؤں کی خواتین کے لیے کہا گیا ہو۔ ہمارے گاؤں کی خواتین بہت محنتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی وجہ سے کئی کئی مہینے گندم بند ہو جائے یا شاہراہِ قراقرم بند ہو جائے اور غذائی قلت کا خطرہ بڑھ جائے تو یہاں اثر ہی نہیں ہوتا، کیونکہ یہاں کی خواتین اپنی زمینوں پر اتنی محنت کرتی ہیں کہ ان کے پاس ہر چیز کا اسٹاک ہوتا ہے۔ آپ لوگ حیران ہو رہے ہوں گے کہ خواتین کے محنتی ہونے سے زمین کا کیا تعلق، جی ہاں، یہاں زمینداری خواتین کرتی ہیں۔ یہاں کی خواتین زمینداری کے ساتھ ساتھ بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں، گھروں میں گائے، بکریاں اور مرغیاں بھی پالتے ہیں اور ساتھ دین و دنیا کی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں۔ اور مرد مزدوری کی وجہ سے گاؤں سے باہر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جب باہر ہوتے ہیں تو گھر کی فکر نہیں ہوتی، کچھ کمائی کے غرض سے تو کچھ پڑھائی کی وجہ سے گاؤں سے باہر رہتے ہیں اور سارا بوجھ خواتین اٹھاتی ہیں۔ یوں سارا سال کی سبزی بھی اسٹاک کرتی ہیں، کچھ بھی خریدنا نہیں پڑتا۔ یہاں کی خوبصورتی میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب کسی کے پاس کوئی چیز کم ہو تو دوسری خواتین ان کو دے دیتی ہیں، جیسے آلو، پیاز، آٹا وغیرہ بھی، اور اس کا احسان بھی نہیں جتاتیں۔ ہمارے ہمسائے، گاؤں وغیرہ طنز کرتے ہیں، حسن آباد کی خواتین ہر وقت کام، کام کہتے رہتے ہیں، مگر یہ بات نہیں جانتے کہ خود خواتین بھی کوئی مانگنے والا آئے گاؤں میں، ایک دوسرے کو ضرورت پڑے تو وہ اپنی محنت سے کمائی چیزوں میں سے بغیر غصہ کیے اٹھا کر دے دیتی ہیں۔ یوں وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ اپنے لیے نیک عمل بھی کر رہی ہوتی ہیں اور ان کی محنت سے صرف انسانوں کا پیٹ نہیں بھرتا بلکہ چرند پرند، سبز زار بھی سیراب ہوتا ہے۔ یوں وہ بے خیالی میں اپنی آخرت کو بھی سنوار رہی ہوتی ہیں۔ ابھی گندم اور جو کی کٹائی ختم ہوئی ہے اور برو کی فصل تیاری کے مراحل میں ہے۔ یہ فصل بلتستان میں ناپید ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ اب لوگ محنت سے جی چرانے لگے ہیں اور یہ سب ان کو فضول لگتا ہے، مگر حسن آباد کی بہادر خواتین اب بھی اس کو کاشت کرتی ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں، ایک کڑوا، ایک میٹھا۔ یہ دونوں بہت قیمتی ہیں، ہزار بارہ سو کلو بکتے ہیں۔ کہتے ہیں جو کڑوا ہے وہ معدے اور شوگر کے لیے اچھا ہوتا ہے اور میٹھا معدے کے لیے اچھا ہے۔ یہ دونوں خود بھی اور دوسری فصلوں جیسے جو، مٹر وغیرہ کے ساتھ ملا کر کئی کھانوں کے لیے آٹا بناتے ہیں۔ اس کو تیار کرنے میں بہت محنت لگتی ہے۔ جب تیار ہو جاتا ہے تو آگے پیچھے سے لوگ اس کو تلاش کرتے آتے ہیں، مگر حسن آباد والے اس کو بیچتے نہیں ہیں، بس کوئی بہت عزیز مہمان آئے تو اس کی روٹی بنا کر کھلاتے ہیں۔ خوبانی کے تیل کے ساتھ اس روٹی کے بنانے کا بھی الگ طریقہ ہے۔ ماشاءاللہ، ہمارے گاؤں کی خواتین اتنی محنت سے یہ سب تیار کرتی ہیں، ہر فن مولا ہیں۔ میں اس مختصر سی تحریر میں اس فصل کے بارے میں لکھ رہی تھی تو سوچا اس کو تخلیق کے مراحل سے گزار کر خام مال بنانے والیوں کی بھی کچھ تعریف کی جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے میرے اتنے محنتی ماں بہنوں کو ہر آفت، ہر مشکل، ہر رکاوٹ سے دور رکھیں اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان پر مہربان رہے۔ آمین۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *