غزل ۔ ۔ ۔ آمنہ امل ادریسی
شاعرہ: آمنہ امل ادریسی
عشق میں کیا ہیں مفادات تمہیں کیا معلوم
ہیں جدا اس کی روایات تمہیں کیا معلوم
کوئی عاشق کبھی جیتا ہی نہیں الفت میں
اس میں ملتی ہے سدا مات تمہیں کیا معلوم
آ کے نزدیک مرے دور وہ ہوتا ہی رہا
وہ ملن اور ملاقات تمہیں کیا معلوم
کی ادا فرش پہ دریاؤں پہ صرصر میں نماز
عشق والوں کی کرامات تمہیں کیا معلوم


