اقبال اور عورت
تحریر:فاکہہ قمر سیالکوٹ
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے نام سے کون واقف نہیں ہے؟
ان کا نام ہی ان کی کام کی پہچان بنا اور رہتی دنیا تک ایسے ہی قائم و دائم رہے گا ۔
اقبال کو آج کا شاعر کہا جاتا ہے،کچھ لوگ ان کو بہت مذہبی گردانتے ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ یہ دور حاضر کے مطابق جدید شاعر ہیں،اس رائے کی بنیادی وجہ شاید ان کا ولایت میں قیام اور “سر” کا خطاب حاصل کرنا ہے۔اقبال نے ہر موضوع کو اپنی شاعری کا حصہ بناتے ہوئے طبع آزمائی کی ہے،غرض اگر ہم ان کے کلام کو کھنگالیں تو کوئی ایسا موضوع نہیں ملے گا جو ان کی شاعری میں موجود نہ ہو۔
علامہ اقبال نے ہر صنف کو اپنی شاعری کو سموتے ہوئے اپنا پیغام پہنچایا ہے۔اگر تھوڑی دیر کے لیے ہم علامہ محمد اقبال کو آج کا جدید شاعر تصور کرتے ہوئے ان کی “عورت”کے متعلق رائے کیا تھی ،ا س کو جانچتے ہیں۔
اس تحریر میں عورتوں کی آزادی، لباس، پردہ، تہذیب اور تعلیم سے متعلق گفتگو کروں گی اور اس بات کی نشاندہی کروں گی کہ اقبال کا عورتوں کے متعلق کیا نظریہ تھا؟۔دورحاضر میں “عورت”کو ایک شو پیس اور آزاد تصور کرتے ہوئے ان کی بے جا آزادی کے مطالبے کو زیر بحث لایا جاتا ہے تو پھر کیوں نہ اس سوال کا جواب اپنے شاعر مشرق کے کلام سے ہی لیا جائے۔
آئیے اقبال کا اس حوالے سے نظریہ جانتے ہیں:
اقبال کے نزدیک عورت شروع سے ہی ایک مقدس ہستی رہی ہے،جو محبت ووفا کی دیوی سمجھی جاتی ہے۔ جس نے اپنی پاکیزہ محبت سے عشق کی ایک نئی بنیاد قائم کی اور اسی وجہ سے خدا نے بھی عورت کی ذات میں ساری رنگینیاں ، رعنائیاں اور دلفریبی کو سمودیا ہے لیکن جب اقبال نے اس دنیا میں آنکھیں کھولیں تو وہ انتشار کا دور تھا۔ مغلیہ سلطنت ختم ہوچکی تھی اور مغربیت مشرقیت پر حاوی ہورہی تھی اور ایک ایسی تہذیب وجود میںآرہی تھی جس میں اخلاقی قدریں پاش پاش ہورہی تھی۔ اس زمانے کے شاعر وادیب نے بھی اپنا سارا زور عورتوں پر صرف کردیا تھا اور ادب اور شاعری میں عورتوں کے خدوخال کو اجاگر کرنے کی ایک نئی بنیاد قائم ہونے لگی تھی لیکن جب اقبال جیسا حساس شاعر اس جانب متوجہ ہوتا ہے تو بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے کہ :
ہند کے شاعر و صورت گرد افسانہ نویس
آہ! بیچاروں کے اعصاب پر عورت ہے سوار
عورتوں کے حقوق کے حوالے سے اقبال کا بھی وہی نظریہ ہے جو اسلام کا ہے اور اسی وجہ سے اقبال نے اپنے کلام میں عورتوں کے حقوق اور ان کی آزادی کے متعلق اپنے نظریات کو پیش کیا ہے۔ اقبا ل نے اپنی شاعری میں عورت کا مختلف انداز میں بار بار ذکر کیا ہے۔ وہ عورت کا ذکر نہایت عزت واحترام کے ساتھ کرتے ہیں۔ کبھی ماں کی شکل میں، کبھی محبوبہ کی شکل میں، تو کبھی عورت کی جفا کشی اور دلیری پر دادِ تحسین دیتے ہیں تو کبھی اس کی تعلیم وتربیت کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور عورت کی عزت وحقانیت کو مرد کا اولین فریضہ بتاتے ہیں۔ چنانچہ عورتوں کے بارے میںوہ کہتے ہیں کہ :
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
ا ±سی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشتِ خاک اس کی
کہ ہر شَرَف ہے اِسی د ±رج کا د ±رِ مکنوں
مکالماتِ افلاطوں نہ لکھ سکی، لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
عورتوں کی شجاعت وبہادری اور ان کی عزت واحترام کا عکس ہمیں اقبال کے کلام میں جابجا نظر آتا ہے۔ اقبال نے فاطمہ بنت عبدااللہ کو شجاعت کی مثال کہا ہے جو پہلی جنگ عظیم کے وقت غازیوں کو پانی پلاتے وقت شہید ہوگئی تھیں۔ ان کو امت کی آبرو بتایا ہے اور ان کی شہادت پر فخر کیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے کلام میں فرماتے ہیں کہ:
فاطمہ تو آبروئے امت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشت خاک کا معصوم ہے
یہ سعادت حور صحرائی تری قسمت میں تھی
غازیائی دین کی سقائی تری قسمت میں تھی
یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ وسپر
ہے جسارت آفرین شوقِ شہادت کس قدر
یہ کلی ابھی اس گلستان خزان منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی
اپنے صحرا میں بہت آہو ابھی پوشیدہ ہیں
بجلیاں برسے ہوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں
لہٰذا ان تمام اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ اقبال عورت کو نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھتے اورمخاطب کرتے تھے۔ عورت کی نسوانیت پر کسی طرح کی آنچ نہ آنے دینے کی قسم کھاتے ہیں اور اس کی بڑائی کوسراہتے ہیں کیونکہ عورت کے اس روپ میں انہیں اپنی ماں نظر آتی ہے۔ اقبال نے اپنی نظم ماں کے جواب میں ایک ماں کی مامتا، تڑپ، الفت غرض ہر طرح کے جذبوں کو نہایت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعا ر دیکھیں:
میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جارہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
اقبال نے عورت کی تعلیم پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ ان کا قول ہے کہ عورتوں کو تعلیم یافتہ ہونا چاہیے کیونکہ ایک عورت سات خاندان کو تعلیم یافتہ کرتی ہے اور وہ ایک عورت ہی ہے جس کے وجود سے قوم بنتی ہے اور اگر عورت ہی تعلیم یافتہ نہیں ہوگی تو وہ پوری قوم تباہ وبرباد ہوجائے گی۔ اسی لیے اقبال یہ درخواست کرتا ہے کہ عورتوں کو تعلیم سے مزین کرو۔ عورت اور تعلیم کے عنوان سے ان کی نظم کے چند اشعار پیش ہیں:
تہذیب فرنگی ہے اگر موت اس وقت
ہے حضرت انساں کے لیے اس کا ثمر موت
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازاں
کہتے ہیں اس علم کو اربابِ ہنر موت
بیگانہ رہے دین سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق ومحبت کے لیے علم وہنر موت
لیکن یہاں پر میں اس با ت کی بھی نشاندہی کرنا چاہوں گی کہ اقبال عورت کی تعلیم کی طرف اشارہ ضرور کرتے ہیں مگر وہ تعلیم ایسی ہونی چاہیے کہ جس سے شخصیت میں نکھار پیدا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ اس تعلیم سے مغربی تہذیب کو اپنایا جائے اور جس سے بے حیائی اور غیر ذمہ داری کو فروغ ملے۔ کیونکہ اقبال خود ایک جگہ فرماتے ہیں:
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
دیکھ لی قوم نے فلاح کی راہ
یہ تماشا دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
الغرض ان تمام باتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آزادی نسواں کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ اس سے آپ اپنی ذات کی تکمیل کرسکیں۔ اپنی خودی کو اجاگر کریں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مغربیت کی اندھی تقلید کی بناءپر آپ اپنے وجود کو فنا کردیں۔لہٰذا ان تمام باتوں کے بعد جب ہم اقبال کا نظریہ عورت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اقبال عورتوں کی حفاظت کے قائل تھے اور ایک ایسے سماج کی تشکیل چاہتے تھے جس میں عورت کو مرد کے دوش بدوش کھڑا کریں ، جس کا انھوں نے اپنے کلام میں جابجا اشارہ بھی کیا ہے۔ مگر آج کے اس دور میں سماج کا ایک طبقہ عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنارہا ہے، ان کی عزت وآبرو سے کھیل رہا ہے، جب کہ اقبال یہ چاہتے تھے کہ مرد عورت کی حفاظت کرے اور عورت کی حفاظت کو اقبال نے مرد کا اولین فریضہ بتایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چاہے پردہ ہو کہ نہ ہو، چاہے تعلیم پرانی ہو یا نئی ہو لیکن نسوانیت زن کی نگہبانی فقط مرد ہی انجام دے سکتا ہے کیونکہ سماج میں زن دشمن بھیڑیے ہر ہر قدم پر پائے جاتے ہیں جن سے عورت کی عزت وآبرو ہر لمحے خطرے میں رہتی ہے اور اگر اقبال کی اس با ت کا تجزیہ ہم قرآن کی روشنی میں کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ سورة النسا میں خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:”مرد حاکم ہیں عورتوں پر۔ اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے۔ اور اس سبب سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں، سو جو عورتیں نیک ہیں، اطاعت کرتی ہیں مرد کی۔“
لہٰذا اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مردوں کو عورتوں کی حفاظت کرنی چاہیے اور عورتوں کو بھی چاہیے کہ وہ مردوں کی اطاعت کریں اور عورتوں کو اس بات کی بھی نصیحت کی ہے کہ تو بھی حضرتِ فاطمہ کی سیرت کو اپنا تاکہ تیری گود میں بھی کوئی شبیر جنم لے سکے۔قصہ مختصراََان تمام باتوں پر عمل کرنے سے ہی ایک اچھے اور صحت مند سماج کی تشکیل ہوسکتی ہے اور آج کے اس دور میں عورت اور مرد دونوں کو برابری کا حق ہے لیکن ہمیں اس با ت کا احساس ہونا چاہیے کہ ہماری سرحدیں کہاں تک ہیں۔
بقول اقبال:
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد



مکالات*
بہت خوشی ہوئی پڑھ کر۔ اللہ زور قلم میں برکت عطا فرمائے آمین