ڈاکٹر علامہ محمداقبال میری نظرمیں

تحریر: تنویر رؤوف
جولائی 2010ء میں ڈاکٹرعبدالرحمان پرنسپل ایسٹرن میڈیسن کالج کی دعوت پر میرا سیالکوٹ جانا ہوا۔ بہت عزت احترام ملا۔ دو روز انکی پر خلوص مہمان نوازی کے بعد ڈاکٹر صاحب ہمیں سیالکوٹ کی وجہ شہرت و اعزاز، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے گھر لے گئے جو ہمارا دیرینہ خواب تھا۔
دو چار سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہم گھر کے دروازے پر پہنچے۔ علامہ اقبال کے نام کی تختی لگی تھی۔اندر داخل ہوتے ہی خوشبو نے استقبال کیا۔ سادہ صاف ستھرا گھر جہاں علامہ اقبال کا لکڑی سے بنا پنگھوڑا صحن مییں دیکھا انکے بچپن کے کپڑے ایک صندوق میں رکھے دیکھے۔ انکےکمرہ میں گئے وہاں موجود پلنگ کے ساتھ انکا حقہ رکھا تھا۔ ایسا لگا جیسے ابھی اٹھ کر گئے ہوں۔ انکے مطالعہ کا کمرا دیکھا تو ایک لمحہ کو بھی ایسا نہیں لگا جیسے برسوں سے علامہ یہاں آئے ہی نہ ہوں۔ غرناطہ پر لکھا کلام فریم میں لگا تھا۔ انکی والدہ کی تصویر لگی تھی۔
بس پھر بچپن سے جو کچھ سنا اور پڑھا وہ یادوں کےدریچے وا ہوے۔ مگر اتنے دن میں نے لکھنے میں اس لئے گزار دئے کہ میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتی کہ علامہ اقبال پر لکھوں۔ میری اوقات ہے نہ علم نہ تحقیق نہ لکھنے کا با ادب سلیقہ۔
یہ خیال ہمیشہ آتا تھا کہ علامہ، شاعر مشرق ہیں، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں پر ایک کروڑ بار درود شریف کا ہدیہ علامہ اقبال نے جزبہ عشق میں سرشار ہوکر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا اور منزلت پائی ۔۔۔۔۔پھر بھی آخر کیوں یثرب کا مقدس سفر نہیں کیا۔۔۔ وجہ جان کر ان سے عقیدت مزید بڑھ گئ۔ جب علامہ اقبال بحری سفر سے انگلستان جارہے تھے تو عدن کے قریب سے گزرتے ہوے کہتے ہیں” اے عرب کی مقدس سر زمین تجھ کو مبارک ہو کہ تو ایک پتھر تھی جسے معماروں نے رد کردیا تھا، مگر۔ ایک یتیم بچے نے تجھ پر کیا فسوں پڑھ دیا کہ موجودہ زمانے کی تہزیب و تمدن کی بنیاد تجھ پر رکھی گئ۔ کاش میرے بدکردار جسم کی خاک تیرے ریت کے ذروں میں مل کر تیرے بیبانوں میں اڑتی پھرے۔ کاش تیرے صحراوں میں لٹ جاوں۔ یہی آوارگی میری زندگی کے تاریک دنوں کا کفارہ ہو۔
درد دل مسلم مقام مصطفی است
آبروئے ماز نام مصطفی است
آخری عمر میں شاید حج یا عمرہ کیا تھا۔ترکیہ کی حکومت کے دور میں حج عمرہ بہت مہنگا تھا اور علامہ اقبال کے وسائل اتنے نہیں تھے۔
ایک دفعہ Fc College کے پرنسپل جو انگریز تھے۔ علامہ اقبال سے پوچھا کہ آپ وحی کے بارے میں کہتے ہو کہ قرآن مجید۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور یہ کلام اللہ کا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے ؟ علامہ اقبال نے کہا کہ میں تو صرف ایک شاعر ہوں لیکن جب مجھ پر اشعار کی آمد ہوتی ہے تو میری کیفیت بدل جاتی ہے۔ مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ میں ایک مچھیرا ہوں اور میرے جال میں مچھلیاں ہی مچھلیاں ہیں۔ میں کس مچھلی کو پکڑوں کس کو چھوڑوں یعنی اشعار کی آمد میرے بس میں نہیں ہوتی۔ لیکن ایسا بھی ہوا کہ چار یا پانچ سال میں ایک شعر بھی نہیں کہہ سکا۔ لیکن پھر اللہ کا کرم ہوا اور اشعار کی آمد شروع ہوگئ۔ جب میں خود اپنی مرضی سے ایک شعر بھی نہ کہہ سکا، تو قرآن کا ایک ایک لفظ وحی ہے یعنی اللہ پاک کا کلام ہے انسان کا نہیں۔
مرزا غالب کا بھی ایک شعر اسکی گواہی دیتا ہے وحی اور الہام حق ہے۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں۔
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے۔
علامہ اقبال کی زندگی کے تین خاص محور تھے۔
1۔ قرآن۔ 2۔ رسول مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور 3۔ انکی والدہ۔
قرآن کے بارے میں کہا تھا کہ اگر میری شاعری میں ایک لفظ بھی قرآن کے سوا ہو تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن مجھے رسوا کر دیجئے گا۔ میرا پردہ چاک کردیجئے گا۔ اگر قرآن کے علاوہ ایک لفظ بھی ہو تو مجھے کانٹے کیطرح گلستاں سے باہر کردیجئے گا۔ اور مجھے اپنے قدموں کے بوسے سے محروم کر دیجیے گا۔
میرا دل تو کانپ گیا یہ جان کر
اللہ اللہ یہ عشق اور حق گوئی ۔
قرآن سے عشق علامہ اقبال کے والد جو پیشے کے اعتبار سے درزی تھے وہ خود بھی ایک صوفی تھے اور حق سے جڑے ہوئے ۔ انہوں نے چار سال کی عمر سے ہی علامہ کو مدرسے میں داخل کردیا تھا۔ روز پوچھتے بھی تھے کہ قرآن پڑھا۔ قرآن کو سمجھو سمجھ کر پڑھو۔ گھر میں قرآن کی محفلیں ہوتیں۔ بچپن سے قرآن اور عشق مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سےایسا جوڑا کہ۔محمد اقبال سے علامہ محمد اقبال بن گئے۔قرآن کی تفسیر بن گئے۔
2۔ علامہ اقبال کو اپنی والدہ ماجدہ سے بھی ہی شدید محبت تھی۔ والدہ کے انتقال پر جو اپنے دل کی کیفیت لکھی وہ موجودہ دور کا عظیم مرثیہ کہلایا۔
خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آوں گا
اب دنیائے نیم شب میں کس کو میں یاد آوں گا
تجھ کو مثل طفلک ہے دست و پا روتا ہے وہ
صبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہ
ذرہ ذرہ دہر کا زندانی تقدیر ہے
پردہ مجبوری و بیچارگی تدبیر ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


