تعلیممتفرقمعاشرہ

خونی رشتے احساس ہمدردی سے مضبوط ہوتے ہیں

تحریر۔ نیر عارف خان۔ لاہور

خونی رشتے احساس ہمدردی سے مضبوط ہوتے ہیں

انسانی زندگی میں رشتوں کی اہمیت سے مفر ممکن نہیں۔ رشتوں کی نزاکتوں کو سمجھنا اور باریکیوں کو پرکھنا بہت ضروری ہے۔کہا جاتا ہے کہ رشتے انسانوں میں احساس کی ڈور سے جڑے ہیں۔ احساس ہی رشتوں کو جوڑنے کی بڑی وجہ ہے۔ اگر رشتوں میں سے احساس کو نکال دیا جائے تو پیچھے مطلب ہی رہ جاتا ہے۔ جن کو اخلاص اور مروت کی حلاوت ملتی ہے وہی رشتے پنپ کر پروان چڑھتے ہیں۔ دین اسلام نے جہاں ماں باپ اور دیگر رشتوں کا تقدس، حرمت پر ضرور دیا ہے۔ وہیں میاں بیوی کے رشتے کو انتہائی اہمیت دی ہے۔ اگر میاں بیوی میں اعتماد و محبت موجود ھو تو دنیا کی کوئی طاقت انھیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتی۔ اور دوسری جانب شک کی ایک ھلکی سی دراڑ اس رشتے کی مضبوط عمارت کو مسمار کرسکتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے معاشرتی اور معاشی حالات نے جوائنٹ فیملی سسٹم کو فروغ دیا۔ جس کے اپنے فائدے اور نقصان ہیں۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں خواتین کا ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ واسطہ پڑتا ہے۔ بیٹوں کا ماؤں کے ساتھ قدرتی طور پر لگاؤ والد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے اور ان کا زیادہ وقت بھی ماں کے ہمراہ گزرتا ہے ۔ یا گزرا ھوتا ھے ۔ ماؤں کو اپنے دل اور ذہن کو وسعت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ رواداری اور حسن سلوک سے ہی گھر کو جنت نظیر بنایا جاسکتا ہے۔ میاں بیوی دونوں کے لئے ایک دوسرے کے والدین اور خاندان کا احترام کرنا صلح رحمی اور احساس کے جذبات کو فروغ دیتا ہے۔ ایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرنے سے انسیت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ شفقت و محبت بڑھتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ نفسا نفسی کے اس دور میں خونیں رشتے اور قرابت داریاں ہیں واجبی سی ہوتی جا رہی ہیں۔ آج کل اکثر خاندانوں میں رشتے لینا اور دینا اور بعد میں خوش اسلوبی سے نبھانا ناکوں چنے چبانے کے مترادف ہے ۔ بھائیوں میں کاروباری چپقلش، لین دین کے معاملات آج کے دور کا اہم مسئلہ وراثت ھے۔اس لئے آپس کی رنجشوں بدگمانیوں کی آگ کو ہوا دینے کی بجائے انہیں مثبت طریقے سے بجھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کیونکہ کانوں میں گھولے گئے زہر کا کوئی علاج نہیں ہے۔ انسانوں کے اندر قدرت اور رب العالمین نے احساسات، جذبات، درد دل اور محبت جیسی خصوصیات رکھی ہیں۔ اس لئے انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔ یہ رشتے ناطے خاندان بناتے ہیں۔ ہر رشتے کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر کسی کو رشتے کے مطابق پیار محبت اہمیت نہ ملے۔ تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ پہلے دور کے رشتوں میں ملاوٹ اور خود غرضی ہوتی تھی۔ عزیز واقارب , سبھی رشتے دار ایک دوسرے کی خوشی غمی کو اپنی خوشی یا دکھ تکلیف سمجھتے تھے۔ افسوس صد افسوس کہ آج کے دور میں انسان کو کسی کی خوشی غمی کی کوئی پرواہ نہیں ھوتی ۔ آج کا انسان، آج کا خونی رشتہ خود غرضی، اور نفرت کی دلدل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ کسی کے دکھ تکلیف میں ساتھ دینے کی بجائے اس پر ہنستا اور ان لمحات سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اگر انسان کے اندر احساس ہی مر جائے تو ان ٹوٹتے، بکھرتے رشتوں کی باریک کرچیاں ایسے زخم دے جاتی ہیں جو رستے رہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ خونی رشتہ بھی دیمک ذدہ چیزوں کی طرح ختم ہو جاتا ہے۔ اور ایک دن ایسا ضرور آتا ہے کہ ہمیں اس رشتے کا پچھتاوا ضرور ہوتا ہے۔ اکثر گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے بڑے خونی رشتوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ کبھی کبھی غلط فہمیاں رشتوں کے اندر بدگمانیوں کا ایسا سوراخ کر دیتی ہیں کہ انسان ساری زندگی وضاحتیں دیتا رہ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس خوبصورت رشتوں کو نہیں بچا پاتا۔ رشتے نبھانا جتنا ضروری ہے۔ ان میں توازن برقرار رکھنا بھی بہت ھی ضروری ہے۔ رشتوں سے منہ موڑنا ناصرف اپنے ساتھ زیادتی ہے بلکہ دوسروں کے ساتھ بھی زیادتی سے کم نہیں۔ دنیا میں انسانی خونی رشتہ ھی کام آتا ہے۔ مشکل وقت میں یہی خونی رشتے ایک دوسرے کے لئے سہارا بنتے ہیں۔ رشتوں میں مضبوطی ایک دوسرے کی بات برداشت کرنے میں ہوتی ہے۔ خونی رشتوں میں کوئی رشتہ کسی دوسرے رشتے کی جگہ نہیں لے سکتا۔ لیکن افسوس ہوتا کہ ہم کسی دوسرے کی باتوں پر عمل کرکے اپنے رشتوں کو اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ انسان اس رشتے کا بوجھ ساری زندگی اپنے کندھوں پر اٹھاتا پھرتا ہے۔ اور آخر کار جدائی کے گہرے صدمہ کا غم لے کر فانی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے اگر کسی رشتے کے بارے میں ذرا سی بھی بدگمانی دماغ میں پیدا ھو جائے تو اس بدگمانی کو آپس میں مل بیٹھ کر ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ نہیں تو یہ بدگمانی ایک پہاڑ کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ اور آخر میں پچھتاوے کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رھتا ھے۔ رشتے نبھانے کے لئے دل کو بڑا رکھنا پڑتا ہے۔ رشتوں کے لئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ رشتے میں مقابلے بازی نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ رشتوں کو ہمیشہ برابری کا درجہ دینا چاہیے۔ خونی رشتے عزت اور توجہ چاہتے ہیں۔ ایک دوسرے کی دانستہ وغیر دانستہ غلطیوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ بہن بھائیوں میں اگر کچھ اونچ نیچ ھو جائے تو اسکو درگزر کرنا چاہیے۔ خونی رشتوں ملاوٹ یا کسی قسم کی کھوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ بغیر کسی مفاد کے ایک دوسرے کے لئے احساس ہونا چاہیے۔ تقریبا ہر گھر میں بہوؤں کے ساتھ ویسا سلوک نہیں کیا جاتا جیسا کہ اپنی سگی بیٹیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ سارے رشتے بہت پیارے ہوتے ہیں وہ چاہے ساس بہو کا ہو یا بہن بھائی کا رشتہ ھو ۔ اپنے دلوں میں پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کرنی چاھیں ۔ کیونکہ خونی رشتے زندگی کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان سے ہی خاندان کی پہچان ہوتی ہے ۔رشتوں میں اپنائیت ہوگی تو گھر میں سکون اور برکت رہے گی۔ نہیں تو گھر خوشیوں سے محروم ہو جائے گا۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *