اور پاکستان بن گیا
اماں فیروزہ کی کہانی
جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارے گھروں میں کوئی نہ کوئی بزرگ ضرور ہوتا تھا جو پاکستان بننے کے واقعات اپنی آنکھوں دیکھی کہانیوں کی صورت میں سنایا کرتا تھا۔ وہ کہانیاں کتابوں میں نہیں لکھی گئی تھیں، وہ ان کے دلوں اور یادوں میں محفوظ تھیں۔
میرے دادا ابو کا تقریباً دو سال پہلے انتقال ہوا۔ میری نانی بھی اکثر ہمیں پاکستان بننے کے وقت کی تکلیفیں، ہجرت کے حالات اور ہندوستان میں گزرے ہوئے دنوں کے واقعات سنایا کرتی تھیں۔ شاید اسی لیے وہ زمانہ، جسے ہم نے دیکھا نہیں، آج بھی ہماری یادوں کا حصہ ہے۔
لیکن کبھی کبھی میں سوچتی ہوں: کیا ہم اپنے بچوں کو بھی یہ کہانیاں سناتے ہیں؟ کیا انہیں معلوم ہے کہ جس آزاد فضا میں وہ سانس لے رہے ہیں، اس کی قیمت کیا تھی؟
اسی خیال نے آج مجھے ایک ایسی کہانی یاد دلائی جو میں نے اپنے گھر کی ایک بزرگ، اماں فیروزہ سے سنی تھی۔
اماں فیروزہ سے ہماری فیملی کی پرانی جان پہچان تھیں۔ تقسیم سے پہلے بھی ان کے خاندان کے ہمارے آباؤ اجداد سے تعلقات تھے اور پاکستان آنے کے بعد بھی یہ محبت اور تعلق قائم رہا۔ وہ اکثر میری امی اور نانی سے ملنے ہمارے گھر آیا کرتی تھیں۔ کبھی کبھی بیٹھے بیٹھے وہ پاکستان بننے کے دنوں کی اپنی یادیں بھی سنایا کرتی تھیں۔
ان کی ایک کہانی آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے۔
وہ بتاتی تھیں کہ تقسیم کے وقت وہ خود صرف دس بارہ برس کی ایک بچی تھیں۔ حالات ایسے تھے کہ خاندان کے افراد مختلف راستوں اور ٹرینوں میں بٹ گئے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کون کہاں پہنچے گا، کون زندہ رہے گا اور کون راستے ہی میں بچھڑ جائے گا۔
وہ کہتی تھیں:
“ہم تپتی گرمی میں، خوف اور بے یقینی کے عالم میں سفر کر رہے تھے۔ راستے میں جگہ جگہ حملے ہوتے تھے۔ لوگ زخمی تھے، بیمار تھے، تھکے ہوئے تھے۔ کسی کو اپنی جان کی فکر تھی اور کسی کو اپنے بچھڑے ہوئے عزیزوں کی۔ مگر سب کے دل میں ایک ہی منزل تھی— پاکستان ۔”
وہ خود ایک چھوٹی سی بچی تھیں، مگر ان کی آنکھوں نے وہ مناظر دیکھے تھے جنہیں شاید ایک بڑی عمر کا انسان بھی ساری زندگی بھلا نہ سکے۔
ٹرین کا سفر جاری تھا۔ خوف ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ ان کی ایک بڑی بہن بھی ان کے ساتھ تھی۔ اس کے بہت لمبے بال تھے۔ سفر کی سختیوں اور بیماری کے باعث اس کی طبیعت بہت خراب ہوگئی۔
پھر ایک ایسا لمحہ آیا جس نے اماں فیروزہ کی پوری زندگی پر ایک نقش چھوڑ دیا۔
ان کی بڑی بہن کا ٹرین ہی میں انتقال ہوگیا۔
گرمی کا موسم تھا۔ سفر بہت طویل تھا۔ لوگ پہلے ہی زخموں سے چور، تھکے ہوئے اور بیماریوں میں مبتلا تھے۔ منزل ابھی بہت دور تھی۔ ایسے حالات میں ایک میت کو اپنے ساتھ لے کر چلتے رہنا انتہائی مشکل تھا۔ نہ کفن کا انتظام تھا، نہ تدفین کی کوئی صورت، نہ معلوم تھا کہ اگلا پڑاؤ کہاں ہوگا اور یہ سفر کب ختم ہوگا۔
یہ فیصلہ کسی بے حسی کی وجہ سے نہیں، بلکہ مجبوری کے عالم میں کیا گیا۔
آخرکار ان کے اپنے ساتھ ہجرت کرنے والے لوگوں نے، دل پر پتھر رکھ کر، ان کی بہن کی میت کو ٹرین کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔
اماں فیروزہ بتاتی تھیں کہ وہ اپنی بہن کو کھڑکی سے دور تک دیکھتی رہیں۔ ان کی بہن کے لمبے بال ایک درخت کے ساتھ جا کر اٹک گئے۔
وہ منظر ان کی آنکھوں میں آج تک زندہ تھا۔
ٹرین چلتی رہی
انکی بہن پیچھے رہ گئی۔
اور وہ پاکستان کی طرف بڑھتے گئے۔
ایک دس بارہ سال کی بچی کے دل پر اس منظر نے کیا نقش چھوڑا ہوگا؟
اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بہن کو کھویا، مگر سفر رکا نہیں۔ کیونکہ یہ صرف ایک سفر نہیں تھا؛ یہ ہجرت تھی۔ ایک ایسی ہجرت جس کے پیچھے آزادی کی امید تھی، اپنے دین کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش تھی، اور ایک ایسے وطن کا خواب تھا جہاں مسلمان اپنے عقیدے اور شناخت کے ساتھ آزاد زندگی گزار سکیں۔
آج ہم پاکستان میں آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں۔
ہم اپنے دین پر عمل کر سکتے ہیں۔
ہم اپنی عبادت گاہوں میں جا سکتے ہیں۔
ہم اپنی شناخت کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔
ہم اپنے بچوں کو اپنے دین کی تعلیم دے سکتے ہیں۔
لیکن کبھی کبھی ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ سب ہمیں کتنی بڑی قیمت کے بعد ملا۔
ہم 14 اگست کو جھنڈیاں لگاتے ہیں، ملی نغمے سنتے ہیں، سبز لباس پہنتے ہیں اور جشن مناتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ خوبصورت ہے۔ مگر شاید یومِ آزادی کا ایک حصہ یاد کرنا بھی ہے۔
ان لوگوں کو یاد کرنا جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے۔
ان ماؤں کو یاد کرنا جنہوں نے اپنے بچے کھوئے۔
ان بہنوں کو یاد کرنا جو اپنے پیاروں سے بچھڑ گئیں۔
اور ان معصوم بچوں کو یاد کرنا جنہوں نے اپنی عمر سے کہیں بڑے دکھ اپنی آنکھوں سے دیکھے۔
اماں فیروزہ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان کی سنائی ہوئی وہ کہانی میرے ذہن میں آج بھی زندہ ہے۔
اور آج میں سوچتی ہوں کہ اگر ہم نے یہ کہانیاں اپنے بچوں کو نہ سنائیں تو شاید آنے والی نسلیں صرف یہ جانیں گی کہ “14 اگست کو پاکستان بنا تھا۔”
مگر وہ یہ نہیں جان سکیں گی کہ پاکستان بنانے کے لیے کیا کچھ برداشت کیا گیا تھا۔
شاید اسی لیے ہمیں اپنے بچوں کو صرف پاکستان کی تاریخ کی نہیں پڑھانی ، پاکستان کی کہانیاں بھی سنانی ہیں۔
انہیں بتانا ہے کہ آزادی صرف ایک لفظ نہیں۔
یہ ان گنت قربانیوں کی امانت ہے۔
اور جب کبھی کوئی یہ سوال کرے کہ
“پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی؟”
تو شاید اسے اماں فیروزہ کی وہ دس بارہ سالہ بچی یاد دلا دینی چاہیے، جو اپنی بہن کو ٹرین سے دور ہوتے دیکھتی رہی تھی، مگر پھر بھی پاکستان کی طرف سفر کرتی رہی۔
کیونکہ کچھ قومیں وطن صرف نقشے پر حاصل نہیں کرتیں۔
وہ اسے اپنے آنسوؤں، اپنے خون اور اپنی قربانیوں سے حاصل کرتی ہیں۔
پاکستان ہمارے لیے صرف ایک ملک نہیں، ایک امانت ہے۔
اور شاید ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس امانت کی کہانیاں اپنے بچوں تک پہنچاتے رہیں۔
تاکہ وہ آزادی کی قدر بھی جانیں،
اپنے بزرگوں کی قربانیاں بھی یاد رکھیں،
اور کبھی یہ نہ بھولیں کہ جس آزاد فضا میں وہ آج سانس لے رہے ہیں،
اس کے پیچھے کتنی نسلوں کی دعائیں اور کتنے بچھڑے ہوئے لوگ ہیں۔
پاکستان زندہ باد
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


