غزل — کشور ناہید
شاعره : کشور ناہید
خوشبو کو رنگتوں پہ ابھرتا ہوا بھی دیکھ نقش زر بهار چمکتا ہوا بھی دیکھ
رکھ کے مدار شوق کسی آفتاب پر تو سنگ انتظار پگھلتا ہوا بھی دیکھ
آنکھوں کیے گرد جھانکتے حلقے نہ دیکھ تو سیل خجسته خوکو اترتا ہوا بھی دیکھ
بے فیض دشت درد میں آبستگی کے ساتھ آہو سرشت لوگوں کو چلتا ہوا بھی دیکھ
رنگ حنا کو نقش قدم سے ے جدا بھی کر صحرا میں رخش شوق کو گرتا ہوا بھی بھی دیکھ
محسوس کر چھلکتے ہوئے شوق کی جلن یخ چاندنی میں جسم کو جلتا ہوا بھی دیکھ
ہر چیز دیے کے جاتی ہے اپنی نشانیاں برگل میں رنگ صبح جھلکتا ہوا بھی دیکھ
ناہید چیره دستی یاران عزیز رکھ موقع کے ساتھ ان کو بدلتا ہوا بھی دیکھ


