//بیوہ
widow

بیوہ

. اچھی آپا

کیا ہوا میری گڑیا کا منہ کیوں بنا ہوا ہے؟ آپی نے اسے اس طرح کرسی پہ ٹانگیں پھیلائے منہ بسورے بیٹھے ہوئے دیکھا تو پچکارا۔ وہ تو کب سے ایسے بیٹھی تھی پر کسی کو پرواہ کب ہوتی ہے اسکی اور اب وہ گڑیا بھی تو نہیں تھی پورے پندرہ برس کی ہو چکی تھی اور میٹرک کے امتحان سے فارغ، عجیب حسا سیت اور خاموشی تھی بڑی آپی کے بعد وہ چوتھے نمبر پہ تھی ایک ہی بھائی وہ بھی دوسرے نمبر پہ بے حد لاڈلا اور ضدی اسکی فکر صرف بڑی آپی ہی کرتیں۔ ٹی-وی ڈرامہ میں ہیروئین روتی گلیسرین لگا کر یہ ویسے ہی ناک لال کر لیتی با با ڈانٹتے، نہ دیکھا کرو یہ ڈرامے جب رونا ہے پتہ نہیں کب بابا کو اس کے رونے کی خبر ہو جاتی۔ وہ اتنے بزی تھے کہ ڈرامہ بالکل نہ دیکھتے پر جب کسی رونے والے سین پہ وہ روتی بابا سے نہ بچ پاتی … یہ جو خون ہے ناں بڑا قیمتی ہوتا ہے سو قطرے خون جلے پھر ایک آنسو بنتا ہے اور یہ تم لوگ ایسا ڈرامہ کیوں لگاتے ہو جس میں یہ پیسے لے کر روتی ہیں اور میری ننھی مفت میں روئے جاتی ہے۔ وہ اسے ہمیشہ ننھی ہی کہتے بس بابا اور آپی کی لاڈلی باقی تو شاید اسکے دنیا میں آنے پہ روئے ہو نگے۔ چوتھے نمبر پہ اور وہ بھی پھر ایک بیٹی۔ آج بھی وہ میگزین میں ایک کہانی پڑھ کے ہٹی تھی بیچاری لڑکی اپنے بچوں سمیت نہر میں کود کر جان دے دی۔ خود کشی تو حرام ہے اور اسکے سسرال والے کتنے بے رحم اسے گھر سے نکال دیا اور خاوند کی دوسری شادی کردی، ، تو اس نے خود کشی کرلی۔ ۔ وہ پھر رونے لگی۔ چل ہٹ پگلی یہ سب جھوٹ لکھا ہوتا ہے، ، آپی نے پچکار کر سمجھانا شروع کیا۔

نہیں یہ دیکھ لیں یہ سچی کہانی ہے، ، آپی کے آگے گڑیا نے میگزین کر دیا۔ آپی نے لے کر دیکھا ۔بہت مصروف رہتیں سارے گھر کا کام اماں نے میٹرک کروا کے آپی کے کندھوں پہ ڈال دیا تھا۔ کچن سے نکلیں تو اسے منہ بنائے دیکھ اسکے پاس آگئیں۔ پر یہاں معاملہ وہی تھا بچپن سے لڑکپن اور اب جوانی کی حدود پہ قدم رکھتی ماریہ اپنی حساس طعبیت کی وجہ سے الگ تھلگ رہتی اور کسی کو اسے بلانے اور سمجھانے کی کیا ضرورت تھی؟ ایک بابا اور ایک آپی … یہی اسکے لاڈاٹھاتے اماں تو انہیں بھی ڈانٹ دیتیں، مت چڑھاؤ سر اسے اگلے گھر بھی جانا ہے … مجھے نہیں جانا  اگلے گھر پریشان ہونے، وہ ہولے سے جواب دیتی، اور چل دیتی۔ بابا آپی کی شادی کی فکر میں دن رات کولہو کا بیل بنے تھے زمین کی دیکھ بھال ساتھ ہی تین چار مشینیں لگا رکھی تھیں لکڑیاں کاٹنے والا آرابھی تھا سب کچھ ٹھیک تھا بس وہ ٹھیک نہ تھی ہر وقت ڈرامے دیکھنا اور رونا رسالے پڑھنا اور آپی سے الٹے سیدھے سوال۔ آپی کی شادی کے بعد وہ خودکو بہت اکیلا محسوس کرتی۔ بہانے بہانے سےاسکے سسرال چلی جاتی لیکن اماں کو تو بس اسکے جانے پہ بھی اعتراض تھا۔ اے ابھی چار دن ہوئے ہو کر آئی ہے شادی پاس والے گاؤں ہونے کا یہ مطلب تھوڑی ہے تو روز ادھر ہی جایا کرے آرام سے بیٹھ بڑی ہوگئی ہے اب بچی نہیں۔ بہنوں کے گھر پرائے ہوتے ہیں، ، پر میں وہاں خوش رہتی ہوں بھائی بھی بہت اچھے ہیں، ، ہوں بڑی زبان چلتی ہے تیری ساس کے آگے چلائے گی ناں تو کاٹ کر رکھ دے گی وہ سمجھی۔ ہاں جی سمجھی لیکن ساس کے آگے سے زبان تب چلے گی جب ساس بنے گی نہ شادی ہوگی نہ ساس ہوگی نہ زبان کٹے گی …

ٹھہر تیرا علاج کرتی ہوں اماں تو وائپر سے ہی مارنے دوڑ پڑتیں اور وہ بھاگ کر کمرے میں جا گھستی، ، آپی کے بعددوسری کی شادی ہوئی وہ اب بی۔ اے میں تھی۔ دوسری بہن کی شادی کےبعد اسے گھر کے کاموں پہ اماں نے ڈانٹ ڈانٹ بلکہ مار مار کے لگا کر چھوڑا تھا اور پھر تیسری بہن کی شادی کے بعد اس کا ایم۔ اے کا امتحان بھی نہ دلوایا گیا ہر چند بابا نے بھی اسکی سائیڈ لی تھی پر اماں کے آگے وہ تھک کر چپ ہوگئے … سو اب وہ گھرداری میں بھی طاق ہونے لگی تھی اب تو اسے آپی کےگھر بھی نہ جانے دیتے اور پھر اسکی مرضی کے خلاف روتے پیٹتے اسکی منگنی اور شادی، ، نہ نہ کرتے سب نے اسے سمجھا بجھا کر۔

حتیٰ کہ آپی نے بھی سمجھایا تب جاکر شادی کے لئے مانی۔ عمر کے ساتھ عورتوں پہ ہونے والے مظالم کا احساس اپنی شادی کا سن کر خوف میں بدلنے لگا تھا ‘، رو رو کر جان ہلکان کرلی اماں سے ڈانٹ مزید ملتی آپی کبھی وقت ملتا تو آجاتیں بہلاتیں سمجھاتیں، ، کچھ دیر بہلتی، پھر اداس اور پریشان ہو جاتی، ، جتنا وہ پریشان ہوئی تھی اسکی قسمت میں اسکا سسرال اتنا ہی اچھا ثابت ہوا تھا دوسال میں کبھی کوئی بات نہیں کی کسی نے ایسے لگتا جیسے وہ اپنے گھر سے بھی بہتر جگہ رہنے آگئی ہے جہاں ماں باپ کے ساتھ ساتھ ایک پیار کرنے والا خاوند بھی تھا لیکن قدرت نے ایک سا وقت کب کسی کے مقدر میں لکھا ہے وقت اپنے دھارے یونہی تبدیل کرتا ہے کبھی انسان کو منجھدار تو کبھی کنارے ملتے ہیں تو کبھی ساحل پہ بھی پیاسا رہ کر گزارہ کرنا پڑتا ہے شادی کے ابتدائی سال بہت اچھے گذرے خدا نے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں بھی دیں پر لگتا تھا اسکے خوف اور وہم سر اٹھا رہے تھے وہ جو گھر داری میں بچوں میں اپنا سب کچھ داؤ پہ لگا چکی تھی ڈرامہ دیکھ کر رونا رسالہ پڑ ھنا سب بھول چکی تھی اسے لگ رہا تھا کہیں کچھ رویئے اب بدل رہے تھے حالانکہ اس کی طرف سے کوئی کمی نہ تھی۔ کمی تھی تو انکے بیٹے کے کاروبار میں تھی اچھا خاصہ جیولرز کا کام تھا دونوں بھائی اور سسر مل کر کرتے تھے کہ سامنے تین چا ر بڑی پارٹیوں کے آجانے سے مندا ہو گیا تھا پر اس میں اسکی بیٹیوں یا اس کا کیا قصور تھا وہ لوگ کافی ما لدار تھے جدید مشینوں پہ بنے زیورات اور پھر زیادہ مال بنوانا آرڈر لیتے ہی بہم پہچانا۔ سب جدید تھا۔ انکے کاروبار میں وہی ہاتھ کا کام وہی پرانے ڈیزائن، گاہک نئی چیز کے پیچھے پڑ گئے دوکان بند ہونے لگی کوئی اکا دکا گاہک آجاتا تھا وہ بھی منہ بنالیتے۔ ۔ نوبت جمع پونجی کھانے پہ آگئی سسر نے کہا، کہ چھوٹے کو دوبئی بھیج دیتے ہیں اس سے پہلے کہ سب جمع بھی ختم ہو۔

مل بیٹھ کر مشورہ ہوا اور چھوٹے دیور دوبئی چلے گئے اور جا کر کما کر بھیجنے کی بجائے وہیں ایک پاکستانی نثراد سے شادی رچالی اور نہ مڑ کے خبر لی نہ پتہ کیا۔ نہ پیسہ بھیجا ادھر اسے بھیج کر جو بچا تھا وہ چار ماہ میں ختم۔ گڑیا نے ایک پرائیویٹ ادارے میں اپلائی کیا لیکن ملازمت نہ ملی گھر میں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑنے لگے وہی ساس جوماں سے بھی زیادہ پیار کرتی اٹھتے بیٹھتے اسے بد نصیب کہتی۔ کبھی چھوٹی بیٹی کے ستارے برے بنانے لگتی۔ کبھی آپی آتیں کچھ چھپا کر دے جاتیں کبھی اس کے بابا کچھ دے جاتے پر کتنے دن دوسری بھی بیچاری کبھی کسی کے ہاتھ کچھ نہ کچھ بھیج دیتیں۔

سسر بیمار رہنے لگ گئے تھے دیور کو فون کیے آتے جاتے لوگوں کے ہاتھ پیغام بجھوائے پر اسکے کانوں پہ جوں نہ رینگی۔ آخر ایک دن ہمسائی نے اسے ایک دن کالج کی لائیبریری میں جگہ ہونے کا بتایا وہ اگلےدن ہی اپنے خاوند سے پوچھ کر چلی گئی خدا کا کرنا نوکری تو مل گئی پر پیسے بہت کم اور پھر کالج چھٹی کے تین گھنٹے بعد تک وہیں رہنا پر مرتی کیا نہ کرتی، جاب کر لی۔ خاوند نے صرف انٹر تک پڑھا تھا اور باپ کے ساتھ ہی کا م پہ لگ گیا تھا اور اب انٹر پاس کو نوکری ملنا بہت مشکل ہو گیا تھا سو مزدوروں کے ساتھ ایک مل کے کام پہ جانے لگا زندگی کی گاڑی چل نکلی تھی پر بہت آہستہ آہستہ سسر کی بیماری اور بچوں کی پڑھائی بہت پریشانی بن گئی تھی ہر وقت دماغ پہ بوجھ بننے لگا تھا دباؤ سے بی پی کم رہنے لگا تھا پر گھر اور باہر کی ذمہ داری نبھاتی گئی لیکن شاید تقدیر کے ترکش میں اسکے لئے ابھی اور امتحان تھے ایک اور ایسا حادثہ جو اسے پاتال میں پہنچانے کے لئے کافی تھا مل کی عمارت کا لینٹر گرنے سے چار مزدور نیچے آکر جاں بحق ہوگئے ان میں ایک اس کا خاوند بھی تھا گھر میں کہرام برپا تھا اماں خود بیمار تھیں پھر بھی حوصلہ دیتی رہیں لیکن جوان بیٹی اس طرح بیوہ ہو جائے پھر ایک یا دو نہیں پانچ زندگیوں کا بوجھ، ،، سب پریشان تھے۔ سسر نے تو پریشانی سے رشتہ ہی توڑ لیا ایک بیٹے کی موت تو دوسرے کا جیتے جی مرجانا ایک ہفتے میں ہی اگلے جہان سدھار گئے۔ ساس زندہ لاش بن گئی نہ کچھ بولتی نہ کچھ کہتی اب تو طعنے بھی نہ دیتی بد نصیبی کے، ، اسے لگا وہ جن کہانیوں کو پڑھ کے روتی تھی وہ اب اسے درپیش تھیں پر وہ رو بھی نہیں سکتی تھی اسے لگا وہ بھی اپنے بچوں کو لے کر نہر کے کنارے کھڑی چھلانگ لگانے کی تیاری کر رہی ہے اور پھر اسکو ہوش آجاتی ماریہ بی بی ہوش کر تو تو ایسی عورتوں کو کم ہمت کہا کرتی تھی اب یہ کیا؟ جو ڈرامے دیکھ کر وہ روتی تھی وہی اسکی زندگی بن گئی تھی پر اسے بالکل رونا نہیں آرہا تھا، ،

انہی حلات میں وہ لائبریری جاتی رہی۔ لکین اتنے پیسوں سے گھر کا چولہا جلانا بھی مشکل ہو گیا تھا کالج میں چھٹیاں ہوئیں تو ساس کو انکے ایک بھائی لینے آگئے تھے تو اس نے بھی سوچاکہ چلو ذرا جی بہلا لے خاوند کی موت کے بعد عدت بھی پوری نہیں کی تھی کہ گھر کا کاروبار کیسے چلتا … گاؤن کی طرف مڑتے ہوئے اسکے پاؤں من من کے ہو رہے تھے۔ کہاں وہ میکے اتنی شان سے آتی تھی گاڑی پہ بیٹھ کر اور فروٹ سے لدی بھائی کے لیئے ماں بابا کے لئے تحفے اور کہاں وہ تانگے سے اتری تو چھوٹے سے بٹوے میں مشکل سے کرائے کے لئے پیسے تھے اور بچے اور وہ جن کپڑوں میں آئے تھے وہ بھی ایک الگ منظر پیش کر رہے تھے خیر خدا خدا کر کے نظریں جھکائے کسی سے سلام کرتی کسی کو نظر انداز کرتی گھر پہنچی۔ اماں اور بابا نے سر پہ پیار دیا گلے لگایا دلاسے دئے لیکن یہ کیا اسکے گھر میں داخل ہوتے ہی صدقے واری اور ارے چھوٹی گڑیا کہ کر لپٹانے والی بھابھی منہ بسور روکھا جواب دے کر اندر کو چلی گئی اور تو اور پانی تک کا نہ پو چھا، یا الہی یہ کیا ماجرا ہے، ، اوہ ماریہ بی بی پہلے تم بھابھی کے لئے تحائف سے لدی اتیں تھیں اور اب خالی ہاتھ اور اوپر سے تین بچے بھی، اماں اسکے چہرے پہ پھیلتے سوالیہ نشان سمجھ رہی تھیں پر چپ رہیں کیا کرتیں وہ دونوں بھی اب اس ایک بیٹے اور بہو کے در پہ تھے ظاہر ہے سب انہی کا تھا وہ تو خود بھی اب ایک فالتو کی چیز تھے۔

جو بیٹے اور بہو کی کمائی پہ بقول انکے عیش کر رہے تھے اماں کچن کی طرف بڑھیں تو اس نے راستہ روک، خود جلدی جاکر فریج سے ٹھنڈا پانی لائی وہاں دو تین کولڈڈرنک کی بو تلیں تھیں پر اس نے اپنا بڑھتا ہو ہاتھ روک لیا نہیں ماریہ اب تو  اس پوزیشن میں نہیں ہے اب ذرا سنبھل کر اپنے اماں بابا کے لئےپریشانی نہ بن جانا۔ اماں نے دیکھا تو بول پڑیں ارے بچوں کو ڈرنک دینا تھا یہ کیا؟، ،، نہیں اماں ابھی رستے میں پی کر آئے ہیں اس نے اپنے بچوں کو آنکھ کے اشارے سے سمجھانا چاہا۔ اور اماں دیکھ کر بھی چپ ہو گئیں، اس نے جتنے دن رہی گھر کا سرا کام سنبھا ل لیا تھا بھابھی کو کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتی پر بھابھی تو بات بے بات بچوں کو ڈانٹنے لگتی بچے منہ بسورتے اس کے پاس آتے تو اپنی پریشانی کا کہہ کر چپ کروالیتی۔ ہاں بچےا پنے گھر سے بہتر کھانا پینا پا رہے تھے اور یہاں گھر کا دودھ بھی تھا گوکہ وہ بھی بھابھی خود سنبھلنے لگ گئیں تھیں اور ایسے بچوں کو چھوٹے چھوٹے کپوں میں ڈال کر دیتیں جیسے خیرات دے رہی ہوں اس کا کلیجہ کٹ کٹ جاتا پر برداشت کرتی رہی کہ اب یہی اسے کرنا تھا شام کو تھک کر لیٹ جاتی تو اسے لگتا اس نے جو آنسو بہانے تھے سب لوگوں کے دکھوں پہ رو کر بہا لئے تھے تبھی تو ایک بھی آنسو نہ گرتا نہ ہی بھابی کے رویے پہ نہ ہی بچوں کے رونے بسورنے پہ بس چپ اور چپ کا روزہ رکھنے لگ گئی تھی ایک ہفتے میں ہی بھابھی نے بچوں کو بھائی کے سامنے ڈانٹنا اور شکایت کے رنگ میں آوازیں دے کر منع کرنا شروع کر دیا تھا حالانکہ وہ تو جدھر بٹھاتی بیٹھے رہتے بڑی بیٹی سیون کلاس میں تھی سارادن ماں کے ساتھ کبھی ماموں کے کپڑے استری کرتی کبھی گھر کے اور کام دوڑ دوڑ کر کرتی۔ پر آتش فشاں کب تک نہ پھٹتا اس نے تو پھٹنا تھا سو بڑے دھماکے سے پھٹتا۔ اسکے اپنے بھائی کے ہاتھوں جو اسے جان سے پیارا تھا اس نےصبح جاتے جاتے کہہ دیا اماں ماریہ اور بچوں کو کپڑے لادو تا کہ اب یہ اپنے گھر جاکر پڑھائی کریں اس نے صرف ایک ہزار روپیہ ماں کے ہاتھ پہ رکھا تھا ماریہ نے بھی دیکھ لیا تھا اماں رسائی سے بولیں، ،

یہ تو تھوڑے ہیں بیٹا اور کیا کرے گی اس گھر جاکر چھٹیاں ہیں مہینہ ادھر ہی رہ لے تو پھر چلی جائے گی، ، بھائی پٹی پڑھ چکے تھے بڑی بے رحمی سے بولے اماں گھر کے ماحول پہ اثر ہوتا ہے اب دیکھو رزاق کے پیپر ہیں نویں جماعت کے اور وہ سارادن کھیلتا ہے اور ننھی بھی سارادن نہ ہوم ورک کرتی ہے نہ ٹیوشن جاتی ہے تو ان کو بھی بھیجو اور یہ بھی پڑھیں مجھ سے جو بن پائے گا کروں گا بہن ہے میری، پر پھر بھی اپنے گھر ہی بہنیں اچھی لگتی ہیں، ، اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا پر اتنی تکلیف اور درد نے بھی پانی کو آنکھ سے نہ نکلنے دیا چپ چاپ بچوں کو تیار کیا اور تانگے پہ بیٹھ آپی کے گھر آگئی آپی اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اسکی بھانجیاں بھی جو اسکے ساتھ بہت پیار کرتیں تھیں خدا نے آپی کو دو بیٹیاں ہی دیں تھیں اور اسکے بعد بھول گیا تھا سو آپی نے بڑے علاج کروائے لیکن بے سود بھائی آئے تو دیکھ کر بہت خوش ہوئے پر یہ کیا پہلے تو بھائی اسکے سر پہ پیار دیتے تھے پر اس بار کیا ہوا تھا کیا بیوہ کے سر پہ سینگ اگ آتے ہیں کہ بھائی نے بس دور سے ہی سلام کاجواب دیا اور ایک بڑی عجیب اور گہری نظر اسکے سراپے پہ ڈالی۔ اسے یہ نظر بہت بری لگی یہ وہی بھائی تھے جو اسے آپی کی طرح گڑیا کہتے تھے اور اسکے لئے آئیس کریم لاتے۔ آتے وقت کپڑے لے کر دیتے تھے آج کیا بات ہے بھائی، ، یا الہیٰ میرا کیا قصور ہے بیوہ ہونے میں، اسے آتے ہی دل برا سا ہوتا محسوس ہوا یہ تو بیوہ ہونے کے بعد اس کا پہلا پھیرا تھا میکے بھی اور آپی کے گھر بھی ابھی تو زندگی پڑی تھی ان رشتوں کی مدد اور سہارے کی اسے ضرورت تھی انکے پیار اور دلاسے کی اسے ضرورت تھی یہ سب کیا ہو رہا تھا؟ اتنی جلدی بدل گئے سب پر کس بات پر کس غلطی پہ، ، وہ کب چاہتی تھی کہ اس کا گھر برباد ہو اور وہ اس طرح، ،،

گڑیا یہ لے آپی کی آواز سے وہ چونک گئی خیالوں سے باہر آگئی تھی۔ آپی کولڈ ڈرنک کے گلاس ٹرے میں سجائے بچوں کے لئے کتنے ہی ڈرائی فروٹ بسکٹ کیک لے آیئں تھیں، ، ایک دم بچوں کی خوشی دیکھ سب بھول گئی، ، آپی اتنا کچھ کیوں کیا یہ سب؟ ارے پگلی تو میری بہن ہے اتنے بڑے صدمے سے گذری ہے اور تو بھول گئی، پہلے یہ سب تو اکیلے ہڑپ جاتی تھی کیوں بھئی ناز، آپی نے بھائی کو آتے دیکھ کہا ’’بالکل بالکل یہ تو روزانہ آئسکریم کی فرمائش کرتی تھی‘‘ اور میں اڈے سے جاکر لاکے دیتا تھا تمہاری ماں کو بھائی کی نظر میں پھر اسے وہی لچر پن دکھائی دیا … گوکہ وہ بچوں سے مخاطب تھے پر نگاہیں، وہ حیران ہو رہی تھی کہ اب اسکے جسم پہ سرخاب کے پر اگ آئے تھے کہ، ، کتنا عجیب لگ رہا تھا اسے اور کچھ ڈراؤنا بھی تین چارماہ میں اسے کالج آتے جاتے اتنا ڈر نہیں لگا جتنا اب اپنی ماں جیسی بہن کے گھر داخل ہونے کے بعد لگا تھا۔ حالانکہ جب ایک مہینےکی چھٹی کے بعد وہ کالج گئی تو وہاں کے ہر پرو فیسر اور لیکچرار نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا تھا اور اسے تب بھی بہت برا محسوس ہوا تھا پر اسے اپنا وہم سمجھ کے چپ رہی تھی پھر وہ آتے ہی لائبریری اندر چلی جاتی اور چھٹی کے بعد چوکیدار کے تالے لگانے سے پہلے ہی نکل آتی پھر بھی اسے لگا تھا کہ انگریزی کے پر فیسر کافی دلچسپی سے گیٹ پہ کھڑے اسے آفر کئے بغیر گاڑی نہ بڑھاتے تھے۔ اس نے اپنا حلیہ اور بھی برا بنالیا بالکل ہی چہرہ سادہ اور بال کس کے جوڑا بنا بڑی عمر کی لگنے کی کوشش کرتی تھی کپڑے بھی بد رنگ پہننے شروع کر دیئے تھے گو کہ حالات کی وجہ سے اسکے پاس بہت اچھے کپڑے تھے بھی نہیں۔

لیکن اس نے اپنے گھر کی عزت کے لئے جاب شروع کرنے سے پہلے دو تین اچھے جوڑے بنا لئے تھے پر اب تو وہ بھی بکس میں بند پڑے تھے۔ شام کو آپی اسے بہانے سے اوپر والے کمرے میں لے آئیں گڑیا لو جتنےدن مرضی رہو آرام سے کوئی بھی تمیں ڈسٹرب نہیں کرے گا اوپر ہی بچے بھی آزادی سے کھیلیں پڑھیں مستیاں کریں کوئی فکر نہیں اسے پھر دھکا لگا تھا شادی بعد بچوں کے ساتھ پہلے بھی وہ آپی کے گھر آچکی تھی اپنے خاوند کے بغیر بھی اور ساتھ بھی پر وہ تو نیچے ہی رہتی تھی آپی کے ساتھ چار پانچ کمرے تھے نیچے بھی یہ نہیں کہ جگہ نہ تھی پھر آپی نے، ، آپی اسکے چہرے کو پڑھ کے دل ہی دل میں کڑھیں تھیں، ، تمہیں کیا پتہ گڑیا یہ ٹھیک ہے ہم مسلمان ہیں ہم خاوند کے مرنے ساتھ عورت کو ستی نہیں کرتے پر میری جان کم نہیں کرتے بیوہ کے ساتھ اس معاشرے میں بھی ایسے ہی کوئی نہر میں بچوں سمیت چھلانگ لگا کر جان نہیں دے دیتی۔ ایسے ہی بچے چھوڑ حالات سے مجبور ہو کر گلے میں پھندا ڈال کر لٹک نہیں جاتی اسکے پیچھے درد بھری داستاں ہوتی ہے جسے کوئی بھی جاننےکی کوشش نہیں کرتا۔ میں مجبور ہوں اپنے خاوند کے حکم سے۔ اس نے آپی سے کمرے کی چابی لی یہ کمرہ بند ہی رہتا تھا اس نےکھولا تو کافی گندہ تھا اچھا، ، اب یہ بھی دیکھ لے ماریہ بی بی، کہ اب ادھر تیرے لئے کون سی آزمائش تیار کھڑی ہے کمرہ صاف کیا بچوں کے کپڑے بدلے آپی نے کھانا اوپر ہی بھجوادیا یہ بھی چوکنے سے کم نہیں تھا وہ اپنے بیوہ ہونے کے جرم کی سزا بھگتنے کے لئے تیار کھڑی تھی۔

خیر کھانا کھلا کر نیچے برتن لے کر گئی تو بھائی کسی بات پہ کچن میں بڑ بڑا رہے تھے اور آپی بھی دبی زبان میں کچھ کہہ رہی تھیں بلکہ منت کر رہی تھیں، اسے دیکھتے ہی بھائی تو جیسے خوشی سے کھل اٹھے تھے حیرت ابھی دو چار گھنٹےپہلے اور اب اسے یہ رویہ سمجھ نہیں آیا تھا۔ آپی نے اس کے ہاتھ سے برتن لے لئے تھے اور بڑے پیار سے کہہ بھی دیا میں خود منگوا لیتی گڑیا تم کیوں اتر کر آئیں سیڑھیاں جاؤ آرام کرو تھکی ہوئی آئی ہو … یا اللہ خیر مجھے کونسا سیڑھیاں چڑھنا منع ہے اور پھر ادھر ساتھ والے گاؤں سے ہی تو آئی ہوں پتہ نہیں سب کچھ نیا ہے کہ میری ہی سوچ بدل چکی ہے اور میں ہی غلط سوچنے لگی ہوں رویوں کو شدت سے محسوس کرنے لگی ہوں۔ وہ سوچتی سوچتی اوپر آگئی نیند آنکھوں سے دور تھی جاگتی رہی بچے سو گئے تھے پر وہ شاید رات کے پچھلے پہر ہی سو پائی تھی صبح بھی اٹھ کر نیچے کی طرف دوڑنے لگی پھر قدم روک لئے اور وہیں چارپائی کمرے سے نکال کر بچوں کے پاس بیٹھ گئی بچے کمرے سے لڈو نکال کر کھیلنے لگ گئے تھے آپی ناشتہ لے کر خود ہی آگئی تھیں اور کچھ موڈ بھی آف تھا، کوئی بات نہیں اب میں بیوہ ہوں مجھے بھی ستی ہونا ہے مجھے بھی اپنے خاوند کی چتا کے ساتھ جل کر مرنا ہے وہ سوچتے ہوئے بچوں کو ناشتہ کروانے لگے آپی چپ چاپ بیٹھی اسے دیکھتی رہیں اور پھر نیچے چلی گئیں دودن اسی طرح گذر گئے وہ پچھتا رہی تھی کہ وہ کیوں گھر سے نکلی سب کی پریشانی کا باعث بنی پھررہی ہے۔ پتہ نہیں بھائی بھی بھابھی کی طرح اسے اب بوجھ سمجھ کر آپی کو کچھ برا بھلا کہہ رہے ہیں جو آپی،،،

لیکن کوئی سرا ہاتھ نہ آیا ہاں دودن بعد رونما ہونے والی ایک حرکت نے اس کے دل و دماغ او رروح کو ہلا دیا اور اسے لگا اب واقعی وہ کسی سڑک پہ کسی گاڑی کے نیچے یا کسی پنکھے سے رسی سے لٹک رہی ہوگی یا پھرکسی نہر سے اسکی لاش برآمد ہو رہی ہوگی۔ چھت پہ رات کے پچھلے پہر جب سب گہری نیند سو چکے تھے اور اسکی آنکھوں میں بھی نیند آرہی تھی کہ کسی نے آہستہ سے اسکے بازو کو ہلایا وہ ہڑ بڑا کر اٹھ کر بیٹھ گئی کمرے میں ہلکی سی روشنی باہر کے زیرو پاور کی آ رہی تھی۔ کیا بات ہے بھائی اسکے منہ سے اتنا ہی نکلا تھا کہ بھائی نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا اور اسے بازو سے پکڑ کے کمرے سے باہر لے جانے لگا …

پر بھائی اس سے بولا نہیں گیا وہ مرد یہ ناتواں عورت باہر آتے ہی بھائی نے کمرے کو باہر سے بندکر دیا اور اسے چارپائی پہ دھکا دے دیا پر بھائی بات کیا ہے؟ مجھے اس طرح آپ کیوں؟ اے چپ اس جوانی کاکیا اچار ڈالنا ہے کوئی اور ہاتھ صاف کرے تو اپنے کیوں نہیں؟ یہ اسکے بہنوئی کا لہجہ نہیں تھا جسے وہ باپ کادرجہ دیتی تھی یہ کون تھا؟ کوئی وحشی کوئی درندہ یا پھر ہوس کا پتلا جو ایک بے بس مجبور عورت کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ پتہ نہیں کیسے اس نے اسے زور سے دھکا دیا اور نیچے کی طرف دوڑ لگادی اس سے پہلے کہ گرا ہوا انسان سنبھلتا وہ آخری سیڑھی پہ تھی اس نے اوپر دیکھا اس کے بچے؟ اب کیا پتہ یہ بچوں کو نقصان نہ پہنچا دے، میں وہ اب رسک نہیں لے سکتی وہ دوڑی آپی کے کمرے کی طرف دروازہ کھلا تھا وہ دوڑ کے بیڈ کے سرہانے کھڑی ہو کر آپی کا بازو ہلایا آپی پہلے ہی جاگ رہی تھیں، ، کیا ہے گڑیا کیا مصیبت آن پڑی ہے اس وقت ۔وہ آپی، ابھی وہ یہ بھی نہ کہہ پائی تھی کہ وہ درندہ کمرے میں آگیا تھا۔

اے لڑکی کیا ہوا ڈر گئی کیا؟ لگتا ہے ڈر گئی جاؤ جاکر سو جاؤ۔ وہ کتنی ڈھٹائی سے بولا تھا۔ نہیں آپی نہیں بلکہ … اچھا چلو جاؤ شاباش صبح بات کریں گے جاؤ آرام کرو … آپی نے بھی چپ کروادیاتھا۔ وہ کچھ سمجھتے اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے چھت پہ آگئی اور کنڈی لگا کر بھی جاگتی رہی پر نیند تو سولی پہ بھی آ جاتی ہے آنکھ کھلی تو دھوپ نکل آئی تھی آپی ابھی تک اس سے رات والی بات تک پو چھنے نہیں آئیں تھیں، ، یہ اور بھی حیران کر دینے اور چونکا دینے والی بات تھی کوئی گیارہ بجےآپی ناشتہ لے کر آئیں بچوں کو بٹھا کر اسے اشارہ کیا وہ پیچھے پیچھے باہر آگئی، آپی اسے گلے لگا کر رونے لگ گئیں وہ بھی جی بھر کر روئی شاید اتنے عرصہ بعد پہلی بار روئی تھی جی ہلکا ہو گیا … مجھے معاف کردینا گڑیا تو تو میری بچی ہے میں مجبور ہوں تمہارے بھائی نے کہا ہے کہ گڑیا میری خدمت کرے اور میں اسے سہارا دیتا  ہوں تمہیں تو پتہ میری کوئی نرینہ اولاد نہیں ہر وقت دوسری شادی کی تلوار میرے سر پہ لٹکی رہتی ہے بتا چندا میں کیا کروں میں تجھے گناہ کی دلدل میں نہیں دھکیل سکتی میری بھی دو بیٹیاں ہیں … یہ لے آپی نے چند ہزار ہزار کے نوٹ نکالے اور اسے تھمادئیے اب جلدی سے نکل جا اور ہاں اپنے گھر جانا اپنی ساس جیسی بھی ہے اسے گھر لا کر آرام سے رہ اور اپنی عزت بچا لینا میں نے تانگہ منگوا لیا ہے چل ناشتہ کر اور اسکے آنے تک چلی جا اور ہاں وہ اسکی تھوڑی پکڑ کر بو لیں اس واقعے کو بھول جانا …

وہ چپ چاپ نکل آئی تھی اپنی ہی بہن کا گھر اسکے لئے جنسی ہوس اور گناہ کا گڑھا بن گیا تھا ماں باپ کا گھر اب کسی اور کا تھا اور وہ اسے ایک بوجھ سمجھ رہے تھے وہ کون تھے؟ اسکے اپنے اپناخون اپنا بھائی اس کی جائیداد میں اس کا بھی حصہ تھا پر نہیں بہنیں تو پرایا دھن ہیں پرائی ہی ہو جاتی ہیں اگلے گھر کے دروازے کھلیں چاہے ناں کھلیں پچھلے دروازے بڑے زور سے بند ہو جاتے ہیں تانگے میں بیٹھی تو آنکھوں نے جمع کیے سارےدریا بہادئیے یہ سب کیا ہے؟ کیا بیوہ ہو کر بیٹی اور بہن بھی رشتہ کھو دیتی ہے سسرال والے تو اسے اس کے خاوند کی وجہ سے برداشت کرتے ہیں جسکے چلے جانے پہ وہ اس سے اور اپنی نسل تک سے جو کہ انکی ذمہ داری ہے منہ موڑ لیتے ہیں اور یہ رشتے خون کے رشتے کیا مسلم معاشرے میں عورت بیوہ ہو کر زندہ رہ سکتی ہے کیا اسے آزادی سے اور اپنی خوشی سے زندہ رہنے کا حق دیا جاتا ہے؟ ہے اسے عزت سے جینے کاحق نہیں کیا والدین بہن بھائیوں کے لئے وہ بوجھ ہے اسکا حق کس طرف ہے میکے یا سسرال شریعت نے تو دونوں طرف رکھا ہے لیکن ہم ایسی عورتوں کو انکی بے بسی اور مجبوری کی سزا دے کر فائدہ اٹھا کر دونوں طرف سے کیوں محروم کر دیتے ہیں َ؟

کیا یہ ستی ہو تا نہیں؟ اگر کو ئی بیوہ عورت اپنی زندگی شرافت سے کسی دوسرے مرد کے سہارے کے بغیر اپنے بچوں کے لئے گزارنا چاہتی ہے تو کیا یہ اس کی زندگی سے متعلق اسکا ذاتی فیصلہ اور حق نہیں۔ اسکی جوانی کی فکر غیروں یا اپنوں میں چھپے درندوں کو کیوں ہے؟ جب آپ اسے سانس لینے کا حق دے نہیں سکتے؟ ایسی عورتوں کے لیئے کوئی مالدار ذریعہ آمدنی یا روزگار کا وسیلہ بننے کی کوشش کیوں نہیں کرتا صرف ان کو استعما ل ہونے اور استعمال کرنے پہ ہی کیوں آواز دیتا  اور اکساتا ہے؟ ان سوالوں کا جواب شاید صدیوں سے نہ کسی کے پاس تھا اور نہ ہے مرد بوڑھا ہو یا جوان امیر ہو یا غریب بیوہ اور مجبور عورت کو مالِ غنیمت سمجھ کر اس پہ ہاتھ صاف کرنا اور اسے اپنے گندے مقاصد کے لئے استعمال کرنا اپنا حق سمجھتا ہے کب تک آخر کب تک؟