//وہ کون تھی

وہ کون تھی

. مومنہ ہالینڈ

ایلس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی گاڑی کی چابیاں میز پر پھینکیں اور اپنے آپ کو ایزی چیئر پر گرا لیا..۔ ہمیشہ متحمل مزاج اور منظم رہنے والی ایلس آج بہت اُلجھ سی گئی تھی .وہ اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی، حالانکہ اسکے اندر کی کوئی آواز اُسے تسلی دینے کی کوشش بھی کر رہی تھی، لیکن اسکی الجھن تھی کہ دور ہونے کا نام نہ لے رہی تھی،اُس نے اپنی الجھن سے چُھپنے کو آنکھیں موندھ لیں..۔ ابھی ایک سال قبل ہی تو اسکے والد اچانک ہارٹ فیل کی وجہ سے اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے .۔ ایک شفیق دوست نما باپ سے یوں اچانک بچھڑنے کا غم تو ایک طرف ایلس کو تو اپنی چھپن سالہ والدہ کی فکر ستانے لگی تھی۔ باپ کی آخری رسومات اور تدفین میں گو کہ وہ اپنے اکلوتے بھائی البرٹ کیساتھ مل کر تمام انتظامات میں شریک تھی مگر ذہنی طور پر وہ اپنی والدہ کی دیکھ بھال کی پوری منصوبہ بندی کر چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اپنی ماں کی ساری ذمہ داری اب اسے ہی اُٹھانا ہوگی، نا صرف اس لئے کہ اس کا بھائی دوسرے شہر میں رہتا تھا بلکہ اس لئے بھی کہ اسے علم تھا، اسکی والدہ کبھی اکیلے زندگی نہیں گزرا سکیں گی۔ انکو قدم قدم پر کسی سہارے کی ضرورت ہوگی۔ اب وہ سہارا میں بنوں گی۔ ماں، جس کو ایلس نے تمام عمر صرف والد کے سہارے زندگی بسر کرتے دیکھا۔ گویا انکی ہر سانس والد کی مرضی سے چلتی تھی انکے ہر کہے پر عمل کرنا اور کروانا اپنا فرض سمجھتیں … وہ والد کے اشاروں پر اسطرح عمل کرتیں جیسے کوئی چابی کی گڑیا، جس کی اپنی نا تو کوئی مرضی ہوتی ہے اور نا ہی خواہش۔ والد کی خواہشات کا نہ صرف خود خیال رکھتیں بلکہ بچوں کو بھی مائل کر لیتیں اور والد بھی ان سے بہت خوش تھے کھلے دل سے شکریہ اور تعریف کے کلمات سننے کو ملتے، اور ماں صرف مسکرا کر اپنے کام میں مصروف ہو جاتیں…لیکن انکی مرضی اور مدد کے بغیر کوئی کام نہ کرسکتیں۔ حتیٰ کہ بازار سے سودا تک وہ کبھی اکیلے نہ لاتیں، بچپن میں ایلس کی خواہش ہوتی کاش اسکی ماں بھی دوسری عورتوں کی طرح گاڑی چلائے اور والد کا انتظار کئے بغیر ہمیں کہیں باہر لے جا ئے .مگر وقت کیساتھ وہ اپنے گھر کی روٹین میں رچ بس گئی بلکہ اسی میں خوش رہتی۔ اسے اپنے والدین اور اپنا گھر آئڈیل لگتے۔ جس میں وہ اپنا کردار بہت ذمہ داری سے نبھاہتی تھی۔

اور اب شادی کے بعد وہ خود بھی ایک سمجھ دار بیوی اور ماں تھی۔ سسرال میں بھی ہر دل عزیز تھی۔ اور اسکا شوہر بھی اسکا گرویدہ اور ہر بات میں تعاون کرنے والا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ایلس نے اپنے میاں کو بھی آمادہ کر لیا تھا کہ وہ ماں کو اپنے پاس ہی لے آئے گی۔ مگر اس پر حیرت اور مایوسی کا پہاڑ آن گرا، جب والد کی تدفین کے بعد اس نے ماں کو اپنے گھر لے جانے کی بات کی تو، انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گی۔

 ایلس کے لئے یہ پہلا تجربہ تھا کہ ماں نے اپنی رائے یا ارادے کا اظہاراس طرح کھل کر کیا ہو۔ اُسے حیرت تو ہوئی مگر تازہ صدمے کی وجہ سے اور ماں کے احترام میں خاموش ہوگئی۔ مگر اپنی پریشانی میں اضافہ کر لیا، کہ یہ اکیلی کیسے رہ سکیں گی۔ اور پھر تو اکثر یہی ہونے لگا۔ وہ ہر روز ہر متوقع کام کے لئے اپنی سی خدمات پیش کرتی مگر ماں مسکراتے ہوئے اسکی پیشکش کو بڑے سلیقے سے رد کر دیتیں اور ایلس کو حیرت اور افکار کے سمندروں میں ڈال دیتیں.۔ اسی کشمکش میں ایک سال گذر گیا

…والد کی پہلی برسی قریب تھی۔ ایلس نے اپنے طور پر اس تقریب کے لئےپورا پروگرام سوچ رکھا تھا۔ اور اسکا ارادہ تھا کہ آنے والے ویک اینڈ پر اپنے بھائی اور والدہ کیساتھ مل کر وہ سب جزئیات طے کرلیں گے۔ ابھی وہ یہ سوچ رہی تھی کہ ماں کی طرف سے برسی کی تقریب میں شمولیت کا دعوت نامہ پوسٹ کے ذریعے موصول ہوا..۔ وہ حیراں و ششدر کھڑی رہ گئی اس بار کچھ غصہ و ناراضگی کا عنصر بھی اسکے دل ودماغ میں گردش کرنے لگا..۔ اس نے اپنے میاں اور بھائی سے اس کا اظہار کیا..۔ مگر ان دونوں نے ہنس کر ٹال دیا کہ چلو اچھا ہے جان چھوٹی سو لاکھوں پائے تم کیوں ٹینشن لے رہی ہو..۔ اور وہ صرف تلملا کر رہ گئ۔ آخر وہ یہ سب کچھ ماں کی سہولت کی خاطر ہی کرنا چاہ رہی تھی۔ لیکن پھر بھی وہ خود کو مطمئن نا کر پائی، اور آج تو حد ہی ہو گئی۔ رات اس نے ماں سے پوچھا بھی کہ تقریب میں جانے کے لئےمیں آپ کو پک کر لوں گی۔ مگر انہوں نے بڑے پیار سے یہ کہہ کر اسکی آفر رد کر دی کہ تم مجھے وہاں ویلکم کرنا..۔ اور جب صبح ماں ہال کے باہر گاڑی سے نکلیں جس کو وہ خود ڈرائیو کر کے لائی تھیں تو ایلس کی حالت دیدنی تھی..۔ حیرت سے اسکی آنکھیں پھٹی جا رہیں تھیں۔ منہ کھلے کا کھلا رہ گیا کچھ بے ھنگم سے الفاظ نکلنے کی ناکام کوشش میں تھے کہ ماں نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما، ہلکا سا دبایا اور اسے اپنی بغل میں لپیٹ کر کچھ کہے بغیر ہال میں داخل ہوگئیں ہال میں موجود کئی چہرے اس لئے بالکل اجنبی تھے۔ لیکن ماں نے آگے بڑھ کر سب کو اپنی بیٹی سے ملوایا .۔ وہ سب ماں کو دیکھتے ہی خوشدلی سے انھیں ملے کہ گویا وہ دیرینہ دوست تھے .انہوں نےایلس سے مل کرخوشی کا اظہار کیا اور اسکو خوش نصیب گردانا کہ اسکی ماں بہت بہادر، باہمت خاتون ہیں اور یہ کہ وہ ان کے سنگلز کلب کا ایک جاندار رکن ہے وغیرہ وغیرہ..۔ لیکن ایلس اپنا بازو ماں کی گرفت میں دیئے ایک مقناطیس کی طرح انکے ساتھ ساتھ چل رہی تھی …وہ اجنبی لوگوں سے مل رہی تھی مگر جو ملوا رہی تھی وہ اس کے لئے ان سے زیادہ اجنبی تھی ..۔ اجنبی ماں..۔ اگر یہ میری ماں ہے تو وہ کون تھی جس کیساتھ زندگی کے پینتیس سال گذارے تھے ..۔ کیا وہ ایک جھوٹ تھا..۔ نہیں! اگر جھوٹ ہوتا تواسے محسوس کیوں نہ ہو سکا۔ یہ کیسا معمہ ہے۔ ایلس الجھ گئ ..۔ اپنے والد کی برسی کے موقع پر اپنے والدین کی مثالی محبت کے زمرے میں کہنے کو جو الفاظ اس نےسوچ رکھے تھے اُسے جھوٹ لگنے لگے۔ اس نے کچھ کہنے سے معذرت کر لی۔ تقریب کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی ایلس الجھی رہی..۔ اس کے ذہن میں اپنے ماضی کی فلم چل رہی تھی جسمیں اسکی ماں ایک جانثار .خدمت گذار بیوی اور مشفق، مستعد و محافظ ماں کی کامل تصویر تھی لیکن یکا یک ایلس کو وہ ایک کمزور عورت کی طرح بےچاری اور لاچارعورت سی دکھائی دی جسکو اسکے سبھی گھر والے اپنی اپنی اغراض و محبت کے نام پر استعمال کرتے رہے۔ اور اسکی اپنی ذات کو شائد انکی محبت کی خودغرضی نے فراموش کئے رکھا، کہ وہ بھی ایک جیتی جاگتی انسان ہے،

 جو بیوی اور ماں کے رشتے کے علاوہ بھی کوئی کردار نباہ سکتی ہے….” تو کیا؟ کیا میں بھی اپنے والد کی طرح اپنی محبت میں ماں کو اپنی خواہشات کا پابند کرنے جا رہی تھی” ..۔ بس یہی سوال ایلس کو بری طرح الجھائے ہوا تھا۔