//ٹیلی ویژن اور عورت
television

ٹیلی ویژن اور عورت

تحریر شیریں پاشا

گزشتہ 28 سال میں پاکستانی ٹیلی ویژن پر عورت کا جو روپ پیش کیا گیا ہے اس پر ناظرین کی طرف سے بےنیازی اور بے اعتنائی کےسوا کبھی کسی اور قسم کے شدید رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مردوں کے اس متعصب معاشروں میں عورت اسی طرح جبر کی چکی میں پس رہی ہے ۔

یہ بے نیازی اور بے اعتنائی اس لئے اور بھی افسوسناک اور تشویش انگیز ہے کہ چند عشر ے پہلے جن گھروں کے باہر کا کوئی آدمی جھانک بھی نہیں سکتا تھا وہاں ایسی ٹیکنالوجی پہنچ گئی ہے جو انسانی زندگی میں انقلاب لا سکتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ان گھروں میں اب بھی ان فرسودہ اقدار کو ہی زندہ رکھنے کی کو شش کی جارہی ہے جو معاشرہ کے لئے افیون کا درجہ رکھتی ہیں ۔ حالانکہ اس معاشرہ کو جگانے  اور جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے بارے میں سوچ سکے اوراپنا تجزیہ کر سکے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے دوسرے تحفوں کی طرح ٹیلی ویژن بھی ایسا تحفہ جو اپنے کنٹرول کرنے والوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہی کام آرہا ہے ۔ ٹیلی ویژن ایک ایسا آلہ ہے جو معلومات بہم پہنچانے کے ساتھ اپنے ناظرین کو دھوکہ بھی دے سکتا ہے انہیں گمراہ بھی کر سکتا ہے ۔

پاکستان میں 1964ءمیں جب ٹیلی ویژن قائم کیا گیا تو اعلان یہ کیا گیا تھا کہ اسے تعلیمی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا ۔ لیکن جلد ہی حکمرانوں کو یہ احساس ہو گیا کہ اسے رائے عامہ ہموار کرنے کے کام بھی لایا جاسکتاہے ۔ چنانچہ 1967ء -1968ء میں ہی حکومت نے اس کے حصص خرید لئے  تھے۔ اس کے بعد سے ٹیلی ویژن ، پوری پابندیوں اور نہایت فرماں برداری سے ہر حکومت کی خدمت کر رہا ہے ۔ اس حقیقت کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ ابلاغ عامہ کا یہ وہ ذریعہ ہے جو ایک پابند معاشرہ کو آزادی اور روشن خیالی کے راستے پر گامزن کر سکتا ہے ۔

ٹیلی ویژن کو ایک خود مختار ادارہ کیوں نہیں بنا یا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کبھی صحیح معنی میں جمہوری روایات پنپ ہی نہیں سکیں۔ کسی حکومت نے بھی اتنے طاقت ور میڈیا کو آزادی کےساتھ کا م کرنے کا موقعے نہیں دیا ۔ کسی حکومت نے ایسا پینل نہیں بنایا جو ٹیلی ویژن کی آزادنہ پالیسی کا تحفظ کر سکے ۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی مختصر سی تاریخ  میں ایسے کئی موقعے آئے ہیں جب حکومت نے عوامی حمایت نہ ہونے کے باوجود ٹیلی ویژن کے ذریعہ اپنا سیاسی مقصد حاصل کر لیا۔ اس وقت اگر ٹیلی ویژن نہ ہوتا تو حکومت وہ سیاسی کامیابی حاصل نہیں سکتی تھی ۔ پاکستان میں ہر حکومت اسے سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔

ٹیلی ویژن کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی انتہا اس وقت ہو گئی جب 1980ء کی دہائی میں اس کے پروگراموں کا ڈھانچہ بھی بدل دیا گیا۔ اس دور میں جس انداز سے ٹیلی ویژن کو استعمال کیا گیا اس کا مقابلہ فسطائی حکومتوں کی پالیسی سےہی کیا جا سکتا ہے۔ جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کےلئے اس طرح ایڈیٹنگ کی گئی کہ جس چیز کا کوئی وجود نہیں تھا وہ جیتی جاگتی حقیقت بن گئی۔ خبروں میں جن واقعات یا جن جلسوں جلوسوں کی اہمیت ختم کرنا چاہا ان کا ساؤنڈ ٹریک بھی بند کر دیا گیا۔ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے کےلئے طرح طرح  کے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ۔

ٹیلی ویژن پر اس جعل سازی اور ان چالاکیوں نے 26 سال کے اندر عام ناظرین کی ایسی برین واشنگ کی ہے کہ اب ان کے اندر کسی بات پر بھی کوئی ردعمل پیدا نہیں ہوتا ۔ناظرین بے حس اور بے عمل جاندار کی طرح ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے بھی ان کی برین واشنگ کی جارہی ہے ۔ عام ناظرین کسی بھی مثبت یا منفی رد عمل کا اظہار نہیں کرتے ۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو عورت کے کردار کو ٹیلی ویژن پر جس بے دردی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اسے بھی سمجھنا آسان ہو جاتا ہے ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں عورت کا کردار صحیح یا غلط طور پر جس طرح بھی پیش کیا گیا اسے ہمیشہ حکمرانوں نے اپنے مقاصد کےلئے ہی استعمال کیا ۔ بعض اوقات متوسط طبقے کے اس جابرانہ کلچر کو بھی پیش کیا گیا جس میں عورت بری طرح کچلی جا رہی ہے لیکن وہاں بھی ان مسائل اور ان اقدار کو بالکل نہیں چھیڑا گیا جن پر حملہ کرنے اور جنہیں تہس نہس کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

ٹیلی ویژن کے پر دہ پر جو عورت پیش کی جاتی ہے وہ ہمارے معاشرہ کی نمائندگی نہیں کرتی ۔ عورتوں کی اکثریت جو محنت مشقت کرتی ہے اسے کبھی ٹیلی ویژن پر پیش نہیں کیا جاتا ۔ اس کی محنت کو کبھی تسلیم نہیں کیا جاتا اسے کبھی ٹیلی ویژن پر پیش نہیں کیا جاتا ۔ اس کی محنت کو کبھی تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ یہ نہایت خطرناک رجحان ہے کیونکہ کام کا 60فیصد بوجھ عورت ہی برداشت کرتی ہے ۔ لیکن ٹیلی ویژن پر محنت مشقت کرنے والا مرد ہی دکھایا جاتا ہے جو عورت کےلئے روزی روٹی کماتاہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ مرد اور عورت الگ الگ مخلوق ہیں۔

ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں (جن میں خبریں ، کمپیئرنگ ، موسیقی ، ڈرامہ اور اشتہار سبھی شامل ہیں )عورت کا ایک بندھا ٹکا روپ پیش کیا جاتا ہے ۔ عورت جو اپنی قسمت پر صابر و شاکر ہے ، بے سہارا ہے ، فرماں بردار ہے اور کسی بھی ظلم پر آواز اٹھائے بغیر اپنے کام سے کام رکھتی ہے ۔ اگر وہ کسی مسئلے پر کوئی مثبت یا ترقی پسندانہ رویہ اختیار کرتی ہے تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے ۔ اسے ایسا سبق سکھایا جاتا ہے کہ اس جیسی ساری عورتیں ہمیشہ یاد رکھیں۔ اگر وہ کام کرتی ہے یعنی کہیں ملازمت وغیرہ کرتی ہے تو دکھایا جاتا ہے کہ وہ اچھی ماں اور اچھی بیوی نہیں ہے ۔ عورت کو جس انداز میں پیش کیا جاتا ہے  یہ خالصتاً رجعت پسندانہ انداز ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہو ا ہے کہ معاشرہ میں ایسے رجحانات پیدا ہو رہے ہیں جو کسی بھی ترقی پذیر قوم کے لئے فائدہ مند نہیں ہیں ۔

توقع تو یہ کی جاتی ہے کہ ہمارے جیسے پابند معاشرہ میں ٹیلی ویژن کے ذریعہ روشن خیالی اور ترقی کے دروازے کھل جائیں گے اور لوگ سماجی تبدیلی اور انقلاب کے لئے تیار ہو جائیں گے لیکن ہمارے ٹیلی ویژن نے فرسودہ اقدار کو نہ صرف برقرار رکھنے میں مدد کی ہے بلکہ اپنے ناظرین میں دقیانوسی خیالات و افکار کو مزید پروان چڑھایا ہے ۔ خوبصورت خوبصورت چہرے ، جدید ترین فیشن ، بڑے بڑے آراستہ و پیراستہ گھر تو پیش کئے جاتے ہیں لیکن ان میں رہنے والے سوچ بچار سے عاری ہوتے ہیں ۔ ان کے پاس غوروفکر کرنے والا دماغ ہی نہیں ہوتا۔

خواتین ڈرامہ نگاروں پر بھی یہ پابندی ہوتی ہے کہ وہ روش خیالی اور بغاوت پیدا کرنے والے خیالات کے بجائے ایسے خیالات پیش کریں جن سے مشرقی معاشرتی روایات کی پاسداری کا رجحان پیدا ہو ۔ ایسے معاشرہ کو متوازن معاشرہ کہا جاتا ہے ۔

ان پابندیوں اور اس قسم کے سنسر کے بعد ٹیلی ویژن پر جو کردار نظر آتے ہیں وہ کاغذی کردار ہی ہوتے ہیں۔ گلی کوچوں کی اصل زندگی ، ننگی حقیقت اور اصلی آوازیں پیش کرنے پر پابندی ہے۔ انہیں جمالیاتی اقدار کے خلاف قرار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان سے کراہت آتی ہے۔

حقیقت کا اصل روپ پیش کرنے والی دستاویزی فلمیں ٹیلی ویژن کےلئے شجر ممنوعہ ہیں ۔ اس کے بجائے جو دستاویزی فلمیں دکھائی جاتی ہیں ان میں صرف اور صرف سیاسی پروپیگنڈہ ہی ہوتا ہے ۔

پاکستان کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں صرف ایک ہی کلچر اور ایک ہی ثقافت ہے۔ اس قسم کی یک جہتی پر اتنا زور دیا جاتا رہا ہے کہ اب کھوکھلے نعروں کے سوا اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں رہی ہے ۔ رنگا رنگ ثقافتوں اور مختلف پاکستان کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں صرف ایک ہی کلچر اور ایک ہی ثقافت ہے۔ اس قسم کی یک جہتی پر اتنا زور دیا جاتا رہا ہے کہ اب کھوکھلے نعروں کے سوا اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں رہی ہے ۔ رنگا رنگ ثقافتوں اور مختلف علاقائی زبانوں اور رسوم و رواج کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ ہو ا ہے کہ پورا معاشرہ شکوک و شبہات کا شکار ہو گیا ہے۔

ٹیلی ویژن پر عورت ایک آرائشی چیز کے طورپر پیش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک محنت کش، ایک ماں اور مرد کی رفیق کار کے طور پر، معاشرے کے لئے جو کام کر رہی ہے اس کی نفی کر دی جائے ۔ عورت کا ایسا کردار پیش کرنے کا مطلب یہ ہےکہ جو ناظرین پہل ہی نیند میں ہیں انہیں اور افیون دے دی جائے۔ اس رویئے نے ہماری قومی ترجیحات کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ خاندانی منصوبہ بندی اور خواندگی کی شرح بڑھانے کے عمل پر اس کے برے اثرات مرتب ہوئے ہیں حالانکہ پاکستان کی ترقی اور خوش حالی کا انحصار انہیں ترجیحات پر ہے۔

ٹیلی ویژن پر ایسے پروگرام پیش ہی نہیں کئے جاسکتے۔ ان پر پابندی ہے حتیٰ کہ ’’حمل ٹھہرنے‘‘کا لفظ بھی ٹیلی ویژن پر ادا نہیں کیا جاسکتا۔

تیسری دنیا کے بہت سے ملکوں میں ٹیلی ویژن سے قومی بیداری اور تعلیمی فروغ کے لئے کام لیا جارہا ہے۔ وہاں بھی تجارتی مجبوریاں ہیں ۔ انہیں بھی اشتہاروں کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی  ہے او راس آمدنی کےلئے، انہیں اشتہار دینے والی کمپنیوں کے مفادات کا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ لیکن انہوں نے اپنے عوام کی تربیت کا راستہ نکال لیا ہے ۔ وہاں پروگراموں میں عورت کے اس کردار کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو صدیوں سے اس پر مسلط کر دیا گیا ہے ۔ وہ سمجھتےہیں کہ قومی بیداری اور ترقی کے لئے ایسا کرنا نہایت ضروری ہے ۔ لیکن پاکستان میں گزشتہ 28 سال سے حکومت کی نگرانی میں جو پروگرام پیش کئے جار ہے ہیں وہ فرسودہ اور دقیانوسی طاقتوں کو ہی تحفظ دے رہے ہیں ۔ اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔ پاکستان میں روشن خیالی اور خود افروزی کا ماحول پیدا ہونے کے بجائے حالت یہ ہو گئی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ دقیانوسیت اور رجعت پسندی کے گڑھے میں گرتے جارہے ہیں۔