//شکریہ کرونا
couple

شکریہ کرونا

. سعدیہ تسنیم صحر

چھوٹے ہوتے ایک کہانی اکثر پڑھا اور سنا کرتے تھے کہ ایک کسان اور اس کی بیوی ہمیشہ لڑتے تھے شوہر کہتا کہ میں دن بھر کام کرتا ہوں صبح سویرے اٹھ کر کھیتوں کی سیوا کو نکلتا ہوں تو شام پڑ جاتی ہے دھوپ چھاؤں بارش بادل ہر موسم میں صرف کام اور تم آرام سے گھر میں بیٹھی رہتی ہو اکثر کھانا کھیت میں دیر سے لا کر دیتی ہو سارا دن کیا کرتی رہتی ہو۔

ادھر بیوی تڑپتی کہ صبح سویرےکی کام میں لگتی ہوں تو ایک کے بعد ایک کام آتا جاتا ہے تم تو شام کو آرام کر لیتے ہو مجھے تو شام کو بھی آرام نصیب نہیں ہوتا۔

روز روز کے جھگڑوں سے تھک کر ایک دن دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہم کام تبدیل کر لیتے ہیں چنانچہ بیوی صبح صبح کسی پھاوڑا پکڑ کھیت کو نکل لی اور شوہر نے گھر کے کام دھندوں کی طرف توجہ کی۔ لیکن کچھ گھنٹوں کے بعد ہی دونوں کو علم ہو گیا کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں قریب آنے پر وہ کان پھاڑ دیتے ہیں۔ اس کہانی کو سنے کوئی 30 سال تو ہو گئے ہوں گے لیکن کچھ عرصہ قبل تک بھی ایسی ہی آوازیں ہماری روز مرہ کی زندگی میں گونجتی تھیں

سارا دن گدھوں کی طرح کام کرتا ہوں اور تم لوگ دونوں ہاتھوں سے اجاڑو …

بیوی کی آواز بھی اسی ماحول کا حصہ تھی ۔سارا دن کام کرتی ہوں اور آپ لوگوں کو قدر ہی نہیں …کچھ عرصہ سے بچوں کی آوازیں بھی کان میں آتی تھیں کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے دو وقت کی روٹی تو سب ہی کھلا دیتے ہیں …

اور پھر اپنا کھانا خود گرم کرو … م

میرا جسم میری مرضی … ا

اس طرح کے اقوال بھی دیواروں پر لکھے نظر آنے لگے تھے گو یہ سب ابھی ہمارے معمولات کا حصہ نہیں بنا تھا مگر پھر بھی یہ سب ہمارے اطراف میں خاموشی سے پھیل ضرور رہا تھا … پھر 2020 آیا …اور ایک چھوٹے سے کیڑے نے انسان کو عاجز کر کے رکھ دیا وہ سب کاروبار زندگی بیک جنبش آبرو ٹھپ ہو گئے جن کے بغیر چند پل گزارنے محال تھے یہ ایک تکلیف دہ موقع ہے لیکن اس کے ساتھ بہت سی آسانیاں بھی ہیں۔

اکثر گھروں میں ہوم آفس بن گئے ہیں تو وہ سب جو صبح صبح اپنے اپنے کام کو نکلتے تھے اب گھروں میں بیٹھےکام کرتے ہیں اور گھٹن کا شکار نظر آتے ہیں اور جو اپنے گھر بسنے والی پھر زدہ بابل پیاریوں کو روز گھر آکر کہتے تھے کہ تم سارا دن کرتی کیا رہتی ہو وہ سب بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر خود کو ناشکرا محسوس کرتے ہیں۔

۔جو بیویاں شکایت کرتی تھیں کہ آپ خود تو نکل جاتے ہیں اور سارے مسئلے میرے لیے ہیں انجوائے کر کے ہمارے سر احسان دھرتے ہیں ان کو بھی کچھ کچھ عقل آئی ہے۔ وہ شوہر جو گھر میں اپنے آپ کو مطلق العنان بادشاہ سمجھتا ہے باس کی ہر بری بھلی سن کر سوری سر سوری سر کی گردان دہراتا ہے تو بیوی بھی تکلیف محسوس کرتی ہے۔

 بچے نیٹ سے آنکھیں اٹھا کر باپ کو مسلسل کام کرتے دیکھتے ہیں اور ماں کو ڈیوٹی دیتے دیکھتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ یہ صرف دو وقت کی روٹی نہیں ہے یہ احساس ہے کہ ہم تم سے پیار کرتے ہیں اور تمھارے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔

شام کا وقت ہے۔ دن بھر کی تپش رات کی مہربان ٹھنڈک میں ڈھل رہی ہے پرندے واپسی کا سفر شروع کر چکے ہیں تارے آسمان پر پہلے سے زیادہ چمکدار لگ رہے ہیں اور ہوم آفس کے میز کے دونوں طرف بیٹھے ہوئے میاں بیوی سوچ رہے ہیں کہ ہم کتنے ناشکرگذار ہیں اور ہمارا ساتھی ہمارے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں تکالیف بھی ہر ایک کو پہنچتی ہیں صرف اتنا کیجئے کہ کسی کو الزام دھرنے سے پہلے ایک نظر اس کی جگہ کھڑے ہو کر سوچ لیجئے اور یہ کہ اچھا بڑا وقت صرف ہماری اپنی سوچ کی وجہ سے ہے سوچ کو مثبت کر لیجئے اور زندگی کو بہشت بنا لیجئے۔