//مسلمان عورتوں کی تنظیم و تربیت
tanzeem

مسلمان عورتوں کی تنظیم و تربیت

عورتیں قوم کا آدھا دھڑ ہوتی ہیں بلکہ بعض لحاظ سے ان کا کام مردوں سے بھی زیادہ ذمہ واری کا رنگ رکھتا ہے کیونکہ قوم کا آئندہ بوجھ اٹھانے والے نونہال انہی کی گودوں میں پرورش پاتے ہیں اسی لئے مقدس بانئے اسلام نے لڑکیوں کی تربیت پر خاص زور دیا ہے تا کہ وہ اس کام کے قابل بنائی جا سکیں جو بڑے ہو کر انہیں پیش آنے والا ہے۔ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ؓنے بھی اس نکتہ کو اپنی شروع خلافت سے مدنظر رکھا اور احمدی مستورات کی تنظیم اور تربیت کی طرف خاص توجہ فرمائی۔ چنانچہ 1922ء کے آخر یا 1923ء کے شرو ع میں آپ نے قادیان میں لجنہ اماء اللہ کی بنیاد رکھی۔ یہ انجمن خالصۃً مستورات کی انجمن تھی اور اب تک ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے مخصوص فرائض مثلاً عورتوں کے چندوں کی تحصیل، عورتوں میں تبلیغ، لڑکیوں کی تعلیم، مستورات کی تربیت اور تنظیم وغیرہ کا کام لیتی ہیں اور جب قادیان کی لجنہ کچھ عرصہ کام کر کے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے بیرونی جماعتوں میں بھی تحریک فرمائی کہ وہ اپنی اپنی جگہ مقامی لجنہ قائم کریں۔ چنانچہ اب خدا کے فضل سے بہت سے شہروں میں لجنات قائم ہیں جن میں سے بعض بہت اچھا کام کر رہی ہیں اور ان کے ذریعہ احمدی مستورات میں بہت بڑی بیداری اور کام کی زبردست روح پیدا ہو رہی ہے۔

1925ء میں آپ نے اس کام کو مزید توسیع دی اور ایک خاص مدرسہ بڑی عمر کی لڑکیوں اور عورتوں کی تعلیم اور ٹریننگ کے لئے قادیان میں جاری فرمایا تا کہ چند منتخب شدہ عورتوں کو تعلیم دے کر مدرّسی اور سلسلہ کے دوسرے کاموں کے لئے تیار کیا جا سکے۔ چنانچہ اس مدرسہ سے بہت سی احمدی مستورات نے مولوی وغیرہ کے امتحانات پاس کئے اور ایک لڑکی پنجاب بھر میں مولوی کے امتحان میں اول رہی۔ ان کی تعلیم میں دینیات اور تربیت اطفال وغیرہ کے علاوہ کچھ ابتدائی حساب کچھ تاریخ، جغرافیہ اور کچھ انگریزی بھی شامل تھی اور اس کے ساتھ ہی مستورات کے لئے ایک علیحدہ لائبریری بھی قائم کی گئی۔

اس کے بعد آپ نے1926ء میں مستورات کے لئے ایک خاص رسالہ ’’مصباح‘‘ نامی جاری فرمایا اور مستورات میں تحریک کی کہ وہ اس رسالہ میں علمی اورتربیتی مضامین لکھا کریں۔ یہ رسالہ اب تک جاری ہے اور مستورات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا موجب بن رہا ہے۔

اسی زمانہ کے قریب آپ نے مستورات میں یہ تحریک بھی فرمائی کہ وہ گھریلو دستکاری کی طرف توجہ دیں تا کہ اوّل ان کا وقت بیکاری میں نہ گذرے۔ دوسرے وہ اس ذریعہ سے تھوڑا بہت کما بھی سکیں اور تیسرے ملک میں صنعت اور دستکاری کے فن کو ترقی حاصل ہو اور اس تحریک کے ساتھ ہی ایک زنانہ نمائش کا بھی آغاز کر دیا گیا جو ہر سال جلسہ سالانہ کے موقعہ پر قادیان میں لگتی ہے اور اس میں احمدی مستورات اپنی دستکاری کے نمونے پیش کرتی ہیں۔

اسی تنظیمی پروگرام کی ذیل میں آپ نے یہ بھی تجویز فرمائی کہ جس طرح احمدی مردوں کا سالانہ جلسہ ہوتا ہے اسی طرح عورتیں بھی اپنا سالانہ جلسہ کیا کریں تا کہ انہیں تقریر کی مشق ہو اور مردوں کی طرح ان کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ بھی ترقی پائے اور قادیان میں آ کر ان کا وقت بیکار نہ گذرے۔ چنانچہ اب مردانہ جلسہ کے علاوہ ہر سال قادیان میں زنانہ جلسہ بھی ہوتا ہے جس میں ہزاروں عورتیں شریک ہوتی ہیں۔ اس جلسہ میں عورتوں کے علاوہ بعض خاص خاص مرد بھی پردہ کے انتظام کے ساتھ تقریریں کرتے ہیں اور ایک تقریر خود حضرت خلیفۃ المسیح کی بھی ہوتی ہے اور ہزاروں عورتیں ان تقریروں سے فائدہ اٹھاتی اور ایک نئی روح کے ساتھ قادیان سے واپس جاتی ہیں۔

عورتوں کے متعلق ایک اور اہم اصلاح جس کا اصل موقعہ تو آگے چل کر آتا ہے کیونکہ وہ 1936ء میں شروع ہوئی مگر چونکہ ہم اس جگہ مستورات سے تعلق رکھنے والے امور کو یکجا لکھ رہے ہیں۔ اس لئے زمانہ کے لحاظ ترک کر کے اسے بھی یہاں درج کیا جاتا ہے۔ یہ اصلاح قادیان کے زنانہ سکول کے متعلق ہے جس کا نام نصرت گرلز ہائی سکول ہے۔ یہ سکول ایک لمبے عرصہ سے قادیان میں قائم ہے شروع شروع میں وہ پرائمری کی حد تک تھا پھر مڈل تک بڑھایا گیا۔ اور 1929ء میں اس کا ہائی ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بھی کھول دیا گیا۔ چنانچہ 1931ء میں اس کی لڑکیاں پہلی دفعہ انٹرنس کے امتحان میں شریک ہوئیں۔ مگر حضرت امیر المؤمنین کو ایک عرصے سے یہ خیال تھا کہ زنانہ تعلیم کو مردانہ تعلیم کے رستہ پر چلانا درست نہیں کیونکہ ہر دو کا کام اور ضروریات جداگانہ ہیں۔

چنانچہ آپ نے 1936ء میں یہ ہدایت جاری فرمائی کہ مڈل تک عام مروجہ تعلیم رکھ کر (کیونکہ ایک مشترک ابتدائی معیار عام تعلیم کا ہونا ضروری ہے) اس کے بعد سکول کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے ایک حصّہ وہی مروجہ تعلیم کی لائن پر جاری رہے تا کہ جو لڑکیاں مدرّسی یا ڈاکٹری وغیرہ کی لائن کی طرف جانا چاہیں وہ ادھر جا سکیں۔ مگر دوسری لائن جس میں زیادہ لڑکیوں کو جانا چاہیئے وہ مروجہ طریق تعلیم سے ہٹا کر خالصۃً اپنے پروگرام اور اپنے نصاب کے ماتحت قائم کی جائے اس لائن میں دینیات کی تعلیم پر زیادہ زور ہو اور سلسلہ احمدیہ کا لڑیچرپڑھایا جاوے اور تربیت کے اصول سکھائے جائیں اور کچھ حصہ نرسنگ اور امور خانہ داری کا بھی ہو۔ اس کے علاوہ تقریر و تحریر کی بھی مشق کرائی جائے تا کہ یہ لڑکیاں دین کی خادم بن سکیں۔ چنانچہ مدرسہ کی یہ شاخ تین سال سے نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے اور اس کے ذریعہ احمدی لڑکیوں میں ایک نمایاں تبدیلی اور غیر معمولی ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔

الغرض حضرت خلیفۃ المسیح کے زمانہ میں حضور کی ہدایات اور نگرانی کے ماتحت احمدی مستورات نے ہر جہت سے ترقی کی ہے اور بعض کاموں میں تو وہ اس قدر جوش اور شوق دکھاتی ہیں کہ مردوں کو شرم آنے لگتی ہے اور مالی قربانی میں بھی ان کا قدم پیش پیش ہے۔ احمدی مستورات کی مالی قربانی کا اندازہ صرف اس ایک واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ جب اوائل 1923ء میں حضرت خلیفۃ المسیح نے یہ تحریک فرمائی کہ جرمنی میں ایک مسجد کی تعمیر کے لئے صرف احمدی عورتیں چندہ جمع کریں تو اس اپیل پر چند ماہ کے عرصہ میں عورتوں نے ایک لاکھ روپے سے زیادہ رقم اکٹھی کر لی اور یہ رقم صرف مستورات سے لی گئی جس میں مردوں کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ مشیّتِ الہٰی سے جرمنی کی مسجد تعمیر نہیں ہو سکی اور یہ روپیہ مستورات کے مشورہ سے بعض دوسرے اہم دینی کاموں میں خرچ کر لیا گیا مگر بہرحال احمدی مستورات نے اس موقعہ پر اپنی مالی قربانی کا ایک حیرت انگیز ثبوت پیش کیا۔ اس چندہ میں بڑی رقمیں شامل نہیں تھیں بلکہ چھوٹی چھوٹی رقموں سے یہ بڑی میزان حاصل ہوئی تھی اور اکثر صورتوں میں نقدی کی بجائے عورتوں نے اپنے زیورات پیش کر دیئے تھے۔

(سلسلہ احمدیہ صفحہ 387 تا 390 حضرت مرزا بشیر احمد)