//صم بکم عمی
Quran

صم بکم عمی

. تحریر طیبہ سعدیہ ہالینڈ

انسانی فطرت کی عکاسی کرتا ہوا یہ دلکش چہرہ بظاہر سر اٹھائے، بال بنائے ہر چیز کو بہت گہری نظر سے دیکھ رہا ہے۔ زباں بھی بولنے کی طاقت رکھے ہوئے ہے۔ کانوں پر بھی لاکھ پردے سہی مگر شنوائی سے محروم نہیں ہیں۔ لیکن خدا کے دئے ہوئے ان انعامات گویائی، بصارت اور شنوائی کے گرد چڑھائے ہوئے خودساختہ دھاگے انکی صلاحیت کو محدود کئے ہوئے ہیں۔

یہ خوبصورت آنکھیں جو بصارت کو بصیرت بنانے کی طاقت رکھتی ہیں اپنے گرد لپٹے دھاگوں کی وجہ سے سب کچھ دیکھنے کے باوجود صرف اس چیز پر توجہ مرکوز کریں گی جس کی یہ دھاگے اسے اجازت دیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انسان ایک ہی منظر کو دیکھتے مگر الگ الگ کہانی بناتے ہیں۔ بولنے اور سننے کی برابر صلاحیت رکھنے کے باوجود کسی کے لبوں سے پھول جھڑتے ہیں اورکسی کے الفاظ تیر سے بھی گہرے گھاو لگا جاتے ہیں۔خود پر چڑھائے گئے یہ دھاگے ہماری سوچ کے دائرے ہیں جنہیں ہم نے اپنے خواس خمسہ پر سوار کر لیا ہے۔ بے شک بظاہر دیکھنے میں یہ ربڑ کی لچکدار نرم رسیاں نظر آرہی ہیں مگر یہ کس قدر طاقتور ہوتی ہیں اسکا اندازہ لگانے کےلیے امریکہ میں ایک ریسرچ کی گئی۔

جیل کا ایک قیدی جسے سزائے موت سنا دی گئی تھی اسے اس ریسرچ کے لیے چنا گیا۔ اور جس دن اسے سزا دی جانی تھی اس دن اس کے سامنے ایک سانپ کی پٹاری لائی گئی اور اسے کہا گیا کہ موت کی سزا تو تمہیں دی جانی ہے مگر پھانسی پر نہیں اس سانپ کے ذریعے۔ یہ تمہیں ڈسے گا اور اسکا زہر تمہیں چند لمحوں میں ہی ہلاک کر دے گا۔ اس کے خواس پر خوف کی یہ رسیاں چڑھانے کے بعد اسکی آنکھیں بند کی گئیں اور بجائے سانپ کے اسے ایک عام معمولی سی پن یعنی سوئی چبھا دی گئی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص مر گیا۔ اسکی موت نے ریسرچرز کو حیرانگی میں ڈال دیا کہ آخر اسکی موت ہوئی کیسے؟ اسکا جواب ڈھونڈنے کے لیے جب اسکا پوسٹ مارٹم کروایا گیا تو اس کے جسم میں سانپ کا وہ زہر موجود پایا گیا جس کہ بارے میں اسے صرف بتا یا گیا تھا۔ جب کہ سانپ تو اسکے قریب بھی نہ گیا تھا پھر وہ زہر کہاں سے آیا؟

جی ہاں! یہ اسکی سوچ اور خوف کا زہر تھا۔ جس نے اسکے خواس کو مفلوج کر کے حقیقت حال کے برعکس اسے سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

کچھ ایسی ہی صورت حال کے بارے میں قرآن مجید میں یہ الفاظ آتے ہیں

صم بکم عمی فھم لا یرجعون

کہ انکی آنکھیں تو ہیں مگر وہ دیکھ نہیں سکتے، اندھے ہیں ۔ کان ہیں مگر سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے، بہرے ہیں۔ زبان ہے مگر حق بولنے سے عاری ہے، گونگے ہیں۔

اپنے اعصاب کو ان دائروں میں قید اور محدود کر دینے کی وجہ سے انسان ازل سے نقصان اٹھاتا چلا آیا ہے۔ آدم کے بیٹوں سے لیکر فرعون تک اور فرعون سے لیکر ابو جہل تک اور پھر لیکھرام اور آجکل کے نام نہاد علماء سمیت ہر کوئی انہیں دائروں کی وجہ سے خود بھی زلیل ہوتا رہا ہے اور عوام لناس کی گمراہی کا بھی سبب بنتا رہا ہے۔ ورنہ خدا تو بارہا روشن دلائل اور نشانات دکھاتا آیا ہے۔ مگر تکبر، حرص اور خود غرضی نے انکی آنکھوں، کانوں اور زبان کو ایسا جھکڑا کہ ابو الحکم کو ابو جاھل بنا دیا۔ آدم کا بیٹا قاتل بن گیا اور علماء امت علماء سوء میں بدل گئے۔

مگر یہ کہانی اور یہ دائرے انہیں لوگوں تک محدود نہیں ہیں ۔ بلکہ ہر فرد، گھرانے، معاشرے سے لیکر ملکی اور بین الاقوامی سطح تک ہر کوئی ان میں قید ہے۔ اور عورت کا چہرہ ان سب کا نمائندہ ہے کیونکہ عورت جہاں افزائش نسل کی علامت ہے وہیں معاشرتی سوچ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ ہر قوم کا ہر فرد اسی کی گود سے نکلتا ہے۔

آئے روز ہم اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں، غلط فہمیوں، بد گمانیوں اور رنجشوں کی بنا پر لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت تک بات پہنچ جاتی ہے۔ ہم نے ان دائرون کو خود پر اس قدر سور کر لیا ہے کہ ہماری زندگیاں ان کے اثرات سے باہر نکل کر سوچنے اورسمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوچکی ہیں۔

مثلاً ہم جب بھی کسی سے ملتے ہیں تو فوراً اسکی ہر بات اور رویے کو ان دائروں کے مطابق جج کرنے لگتے ہیں کہ اس نے یہ بات کیوں کہی ہو گی اس رنگ کے کپڑے کیوں پہنے ہیں یا آج ہمارے گھر آیا ہے تو ضرور کوئی بات ہوگی حتیٰ کہ اگرکسی نےکوئی نیکی بھی کی ہےتوہم یہی سوچنےلگتےہیںکہاسکے پیچھے ضرور اسکا کوئی مطلب ہو گا۔ بے شک سوچنا ایک اچھی بات ہے مگر ہم کسی چیز کا کیا مطلب نکالتے ہیں اسکا انحصار ہمارے ان دائروں پر ہے اگر تو ہم ایک مثبت سوچ رکھنے والے انسان ہیں تو ہم حسن ظن کا دائرہ قائم کرتے ہوئے ہر بات کا اچھا مطلب نکالیں گے مگر اگر ہم ایک منفی سوچ رکھنے والے انسان ہیں تو ہم ہر اچھی چیز سے بھی برا پہلو نکال کر اپنے لیے اپنے ہاتھوں سے ہی ایک عذاب تیار کر لیتے ہیں اور اس میں جلتے رہتے ہیں ۔

انہی دائروں میں قید کی وجہ سے ہی ذات پات نسل پرستی، صوبائیت، ملک پرستی حتی کہ مذہب پرستی جنم لے لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسمان کی بلندیوں کو چھونے کے باوجود زمین کے رہائشیوں میں کالے گورے، عربی، عجمی اور مسلم عیسائی کی تفریق ختم نہیں ہو پائی۔ ہر کوئی اپنا راگ الاپتے ہوئے دوسرے کو کمتر اور خود کو برتر خیال کرتا ہے۔ ایک طرف مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے حجاب نہ پہننے پر اور مذہب پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے دہشتگردی کے واقعات ہوتے ہیں اور دوسری طرف مذہب پر عمل کرنے اور حجاب پہننے پر پابندیاں لگا کر حراساں کیا جاتا ہے۔ گویا خود کو کنزرویٹو یعنی قدامت پسند اور لبرل یعنی آزاد خیال کہنے والے اصل میں انہیں شکنجوں میں قید ہو کر ایک ہی صف میں کھڑےہیں۔

اور ہمارے مشرقی ملکوں خاص کر برصغیری خطوں میں تو اس قسم کے ہزار دھاگے اور درجے ہیں۔ امیر غریب کے ساتھ، چوہدری ملکوں کے ساتھ ملک قریشیوں کے ساتھ، سندھی بلوچیوں کے ساتھ بلوچی پنجابیوں کے ساتھ، شیعہ سنی کے ساتھ سنی احمدیوں کے ساتھ، مسلم عیسائی کے ساتھ عیسائی ہندو کے ساتھ غرض کوئی بھی ایک انسان کسی دوسرے انسان کو جو اسکے دائرہ مذہب و نسل میں نہ آتا ہو اس کے ساتھ بیٹھنا، کھانا، پینا اور تعلق رشتہ داری قائم کرنا اپنی توہین خیال کرتا ہے۔

غرض یہ دائرے ہی ہیں جو ہمیں تنگ نظری سکھاتے ہیں اور تنگ نظر بنا دیتے ہیں سب کچھ دیکھنے کے باوجود ہم صرف اسی چیز کو قبول کرتے ہیں جو ہمارے دائروں کے مطابق ہوتی ہے اور جو چیز ان دائروں میں فٹ نہیں آتی وہ ہمیں پسند بھی نہیں آتی اور ہم ایک صحیح اور منصفانہ فیصلہ کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں بہت سی منصف عدالتیں اور حکومتیں اسی کی نظر ہو کر اپنا امن اور چین کھو چکی ہیں مثلاً پاکستان میں 1974 اور 1984 کے بنائے گئے قوانین جس کے بعد ملک فسادات کی نظر ہو گیا اور مسلسل تنزلی کا شکار ہے، اسی تنگ نظری کا نتیجہ ہے۔ مسلسل کئی سالوں سے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اور اب حالیہ بھارت کی نئی پالیسیاں بھی انہیں دائروں کی مرہون منت ہیں۔ سینکڑوں شہر اور بستیاں جلا کر کئی معصوم بچوں کے ماں باپ گھر اور اسکول چھین کر انہیں خون آلود چہروں کے ساتھ در بدر کر دینے والوں کی خوشیاں اور وضاحتیں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں اور تو اور ان تمام واقعات پر وہ اقوام متحدہ جو فضائی آلودگی پر حشر برپا کر کے اسے ایمرجنسی قرار دیتی ہے ان تمام واقعات پر انکا چپ سادھ لینا بھی انہی رسیوں کی قید کا نتیجہ ہے۔

بے شک ان رسیوں کی قید بہت تکلیف دہ ہے جو نہ صرف قیدی کے لیے بلکہ اس کے اردگرد کے لیے بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ربڑ کی بنی ہوئی زنجیریں ہیں جو انتہائی لچکدار ہیں تھوڑی سی کوشش سے ان میں وسعت پیدا کی جا سکتی ہے اور اگر ہمت سے کام لیا جائے تو انکو توڑ کر آزادی حاصل کرنا اور پر سکون زندگی گزارنا بھی نہایت آسان ہے ۔

اسی لیے خدا تعال ٰی جو اپنی تخلیق کی فطرت اور ضروریات سے خوب واقف ہے قرآن مجید میں جہاں یہ وعدہ کرتا ہے کہ

لا نکلف اللہ نفساً الا وسعھا کہ خدا کسی نفس پر اسکی وسعت سے بڑھ کر بوجھ نہین ڈالتا وہیں یہ دعا بھی سکھاتا ہے ربنا ولا تحملنا ما لا طا قت لنا بہ واعف عنا واغفر لنا ورحمنا انت مولنا فانصرنا علی القوم الکفرین

اے ہمارے رب بیشک تو بہت وسعتوں والا ہے مگر تیرے انعامات کی نا شکری کر کے ہم اپنی طاقتوں کو صلب کر چکے ہیں سو ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جنہیں اٹھانے کی طاقت ہم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے کھو چکے ہیں۔ پس تو ہم سےدرگزر کرہمیںمعاف کر دےاورہمیںبخشدےاور ہم پررحم کردے اور کافر قوم کے مقابل پر ہماری مدد کر۔ آمین