//مسلم خواتین اسلام کی شجاعت کا تاریخی پس منظر
muslim_khwateen

مسلم خواتین اسلام کی شجاعت کا تاریخی پس منظر

قرونِ اولیٰ کے تماتر اسلامی معرکوں کا مرقع اگر سامنے رکھا جائے تو ہمیں ان سے جہاں خواتینِ اسلام کا مذہبی جوش، قومی ہمدردی اور جسمانی و اخلاقی شجاعت کے حیرت انگیز واقعات کا پتہ چلتا ہے وہاں اُن کی جنگی خدمات پر بھی روشنی پڑتی ہے جو صنفِ نازک سے عمل میں آئیں۔ مثلاً زخمیوں کو پانی پلانا، زخمیوں کو معرکہ جنگ سے اُٹھا کر لانا، زخمیوں کو ہمت دلانا، مناسب امداد کرنا اور قبر کھودنا وغیرہ۔ لہٰذا ذیل میں واقعاتی رنگ میں ان خدمات پر روشنی ڈالتے ہیں۔

قادسیہ کے عظیم الشان معرکہ میں جو گھمسان کارن پڑا اسکا اندازہ قبیلہ نخع کی ایک بوڑھی اور ضعیف خاتون کی اس پُرجوش تقریر سے ہو سکتا ہے جو اُس نے اپنے جگر گوشوں کو میدانِ کارزار میں لڑائی کی خاطر ہمت اور جو ش دلانے کے لئے کی:۔

’’پیارے بیٹو! تم اسلام لائے اور پھر اس سے مُنہ نہ موڑا۔ تم نے ہجرت کی تو تم پر کسی نے ملامت نہیں کی۔
تمہارا وطن بھی تمہارے ناموافق نہ تھا۔ نہ ہی تم پر قحط کی وباپڑی۔
تم اپنی بوڑھی ماں کو ساتھ لائے اور اہلِ فارس کے سامنے ڈال دیا۔ خدا کی قسم تم ایک باپ کی اولاد ہو جس طرح تم ایک ماں کی اولاد ہو۔
نہ مَیں نے تمہارے باپ کی خیانت کی اور نہ تمہارے ماموں کی فضیحت کی جاؤ اور اوّل سے آخر تک لڑو۔‘‘  (طبری جلد 6 صفحہ 2307)

لڑکوں نے جب اپنی بوڑھی ماں کی اِس جوشیلی تقریر کو سُنا تو انتہائی جوش اور ولولہ کے ساتھ یکدم دشمنوں پر پل پڑے اور آنِ واحد میں نظروں سے غائب ہو گئے۔ اس بوڑھی عورت نے خدا کے حضور دُعا کی کہ ’’اے خدا! میرے بچوں کو بچانا۔‘‘ خدا نے اس بوڑھی عورت کے نحیف ہونٹوں سے نکلے ہوئے الفاظ کی لاج رکھ لی۔ چنانچہ جنگ کے خاتمہ پر وہ لڑکے بخیر و عافیت اور مظفر و منصور اپنی ماں کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور مالِ غنیمت اسکے قدموں میں لا ڈالا۔

خنساء کی آتش بیانی

اِس سے بھی کہیں زیادہ دلچسپ اور ایمان افروز واقعہ عرب کی مشہور شاعرہ خنساء کا ہے۔ وہ بھی جنگِ قادسیہ میں اپنے چاروں بیٹوں کے ساتھ شریک تھیں۔ رات کی ابتدائی گھڑیوں میں جبکہ ہر سپاہی صبح کے ہولناک منظر پر غور کر رہا تھا۔ اس شیر دل عورت نے جاں نثار بیٹوں کو مخاطب کر کے ان ہیجان انگیز الفاظ سے لڑائی کی ترغیب دی:۔

’’اے میرے پیارے بیٹو! تم اپنی خواہش سے اسلام لائے اور ہجرت کی۔ خدا کی قسم تم بیٹے ہو۔ مَیں نے تمہارے باپ سے بددیانتی نہیں کی اور نہ تمہارے ماموں کو ذلیل کیا اور نہ تمہارے حسب نسب میں داغ لگایا۔ جو عظیم الشان ثواب خدا نے کفار کے ساتھ جنگ کرنے میں مسلمانوں کیلئے رکھا ہے تم اس کو خوب جانتے ہو۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ ہمیشہ رہنے والی چیز اس دارِ فانی سے بدرجہا بہتر ہے۔ خدا فرماتا ہے:

اے مسلمانو! صبر کرو اور استقلال کے دامن کو تھامے رکھو۔ خدا سے ڈرو تا تم کامرانیوں سے ہمکنار ہو جاؤ۔

کل جب خیریت سے تم صبح کرو تو نہایت چاک و چوبند ہو کر اور خدا سے نصرت کے طالب ہوتے ہوئے دشمنوں پر جھپٹ پڑو اور جب دیکھو کہ گھمسان کا رَن پڑ رہا ہے اور ہر طرف اسکے شعلے بھڑک رہے ہیں تو تم اس مشتعل جنگ کے مرکزی حصّہ کی طرف رُخ کرنا اور جب دیکھو کہ فوج غیظ و غضب کے عالَم میں آگ کی طرح بھڑک رہی ہے تو غنیم کے سپہ سالار پر ٹوٹ پڑنا خدا کرے تم دُنیا میں مالِ غنیمت اور عقبیٰ میں عزّت و توقیر پاؤ۔‘‘

(اسد الغابہ ابن اثیر جذری جلد 5 صفحہ 242)

 ماں کی اِس شعلہ بیانی سے بیٹوں کے خُفتہ جذبات نے ایک انگڑائی لی پھر کیا تھا میدانِ کارزار گرم ہوتے ہی خنساءؓ کے چاروں فرزند دشمنوں پر عقاب کی طرح جھپٹے اور بہادرانہ انداز میں جنگی کرتب دکھاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ خنساءؓ   کو جب اپنے جگر پاروں کی شہادت کا علم ہوا تو وہ خدا کے حضور سجدات شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آرزو کو شرف قبولیت بخش کر انکو شہادت کا مقام نصیب کیا۔

غزوۂ خندق میں ایک مسلمان عورت کی پہلی شجاعت

غزوۂ خندق کا مشہور واقعہ بھلا کس کو یاد نہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہؓ یہود سے برسرِ پیکار تھے تو بنو قریظہ لڑتے لڑتے خواتین اور بچوں کے محفوظ مقام تک آ پہنچے تھے، وہاں ان کی حفاظت کے لئے کوئی فوجی دستہ نہ تھا۔ چنانچہ اسی اثناء میں ایک یہودی بھی ان خواتین کی طرف آ نکلا۔ اب اِس بات کا شدید خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر اس یہودی نے بنو قریظہ کو یہاں صرف عورتوں کی موجودگی کی خبر پہنچا دی تو یہودی میدان خالی پا کر ان پر پل پڑیں گے۔

حضرت صفیہؓ نے (جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی اور حضرت زبیرؓ   کی والدہ تھیں)موقع کی نزاکت کے مدّنظر حضرت حسّانؓ بن ثابت سے کہا کہ حسّان! اِس یہودی کو قتل کر دو۔ لیکن حضرت حسّانؓ نے اپنی فطرتی کمزوری کے باعث عذر کیا۔ آخر حضرت صفیہؓ   خیمہ کی ایک چوب لیکر خود نبرد آزما ہوئیں اور اُس یہودی کو وہیں ڈھیر کر دیا۔ مورّخ ابن اثیر جذری نے لکھا ہے کہ یہ پہلی بہادری تھی جو ایک مسلمان عورت سے عمل میں آئی۔ (اسد الغابہ تذکرہ حضرت صفیہؓ)

حضرت خولہؓ   کی قیادت میں خواتین کی دلیری

حضرت عمر فاروقؓ کے عہدِ خلافت کا ایک واقعہ ہے کہ 13 ہجری میں جب مسلمانوں نے دمشق پر فوج کشی کی تو پے در پے چند شدید حملوں کے بعد اہلِ دمشق کو قلعہ بند ہونا پڑا۔ اہلِ اسلام قلعہ کا محاصرہ کئے پڑے تھے۔ ایک روز اچانک انکو معلوم ہوا کہ نوّے ہزار رومیوں کی جمیعت جنگی سازو سامان سے آراستہ اخبادین کے مقام پر جمع ہو رہی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کی تمام فوج ملکِ شام کے مختلف مقامات میں پھیلی ہوئی تھی ۔ حضرت ابو عبیدہؓ اور حضرت خالدؓ نے باہم یہ رائے قائم کی کہ کل اسلامی فوج کو ہر طرف سے سمیٹ کر ایک جگہ جمع کیا جائے۔ (جن کی مجموعی تعداد 24 ہزار تھی)۔ چنانچہ اہل اسلام کے بڑے بڑے جرنیل جہاں جہاں بھی تھے اپنی فوجوں کو ساتھ لئے پورے طمطراق کے ساتھ اخبا دین کی طرف بڑھے۔

حضرت ابوعبیدہؓ اور حضرت خالدؓ نے بھی دمشق کا محاصرہ چھوڑ اخبا دین کا رُخ کیا۔ حضرت خالدؓ   فوج کے آگے آگے جا رہے تھے اور حضرت ابوعبیدہؓ   مختصر سی فوج کے ساتھ خواتین اور بچوں کو ساتھ لئے خیمہ او ر متفرق سامان کے ساتھ پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ اہل دمشق نے جب قلعہ کی دیواروں سے جھانکا تو میدان صاف پایا اور مسلمانوں کو یوں لدے پھندے جاتے دیکھ کر انکی آتشِ انتقام بھڑک اٹھی، انہوں نے سوچا کہ حملہ کا یہی بہترین موقع ہے۔ قلعہ کے پھاٹک کھول کر فوراً پیچھے حملہ کر دیا۔ قیصر روم کی کمک بھی اپنے خیرہ کُن سامانِ حرب کے ساتھ آ پہنچی انہوں نے مسلمانوں کو آگے سے روک لیا۔

اِن نازک حالات میں مسلمانوں میں جو گھبراہٹ اور بدحواسی پیدا ہو سکتی تھی وہ ظاہر ہے لیکن اِس تمام ہولناک منظر کے باوصف ان دلیروں کی جبیں پر شکن تک نہ آئی اور انہوں نے نہایت استقلال، شجاعت اور پامردی سے دونوں حملوں کو روکا۔ لیکن چونکہ مسلمانوں کی زیادہ تر توجہ سامنے والی فوج کی طرف تھی اس لئے دمشقیوں نے موقع پا کر مسلمان خواتین کو اپنی حراست میں لے لیا۔ حضرت خولہؓ جو ضرار بن ازور کی بہن تھیں اور جس خاندان کی شجاعت اور غیرت عرب بھر میں مشہور تھی وہ بھلا اِس ذلّت کو کب گوارا کر سکتی تھیں۔ انہوں نے خواتینِ اسلام کو مخاطب کر کے کہا:۔

’’بہنو! تمہیں کیا ہو گیا ہے، کیا تم عرب کی شجاعت اور حمیّت کے دامن پر بزدلی کا بدنما داغ لگانا چاہتی ہو؟ آگے بڑھو اور عزّت کی موت مرو۔‘‘

حضرت خولہؓ کے اِن چند فقروں نے آگ لگا دی۔ تمام عورتوں نے ایک فیصلہ کن عزم کے ساتھ خیموں کی چوبیں تھامے ہوئے ضرارؓ کی بہن خولہؓ   کی قیادت میں ایسا جان توڑ حملہ کیا کہ اہلِ دمشق کے تیس آدمی وہیں ڈھیر کر دیئے۔ اتنے میں مسلمان بھی فارغ ہو کر وہاں آ پہنچے۔ انہوں نے جب عورتوں کو یوں لڑتے دیکھا تو بے حد خوش ہوئے اور اُن کے ساتھ مل کر دمشقیوں کو مار بھگایا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی جان بچانے کے لئے پھر قلعہ کی پناہ لی۔

ایڈورڈ گبن اِس واقعہ کو نقل کر کے خواتین اسلام کی شجاعت اور بہادری کی تعریف میں رطب اللّسان ہو کر لکھتا ہے:۔

’’یہ عورتیں ہیں جو شمشیر زنی، نیزہ بازی، تیر اندازی میں نہایت مہارت رکھتی تھیں۔
یہی وجہ ہے کہ انتہائی نازک مواقع پر بھی یہ اپنے دامنِ عفّت کو محفوظ و مصئون رکھنے میں کامیاب ہوتی تھیں۔‘‘