//شعر و شاعری ماہ اگست ۲۰۲۰
urdu_shairy

شعر و شاعری ماہ اگست ۲۰۲۰

.

اپنا ارمان خيالوں ميں ہي پورا کرتے

نزہت جہاں ناز کراچي

حُسنِ يوسف کي قسم شہر ميں چرچا کرتے

ہم اگر ہوتے زليخا ترا سودا کرتے

مانگ ليتے تجھے بدلے ميں بہشتوں کے يہاں

پھر ترے چاند سے چہرے کو ہي ديکھا کرتے

کفر ہوتي نہيں انساں کي عبادت گرچہ

سر نگوں ہوکے ترے سامنے سجدا کرتے

ايک پلڑے ميں ہم انمول اثاثے رکھتے

ايک پلڑے ميں تمہيں رکھ کے تو تولا کرتے

باندھ کر ان کے تصور کو جو فرصت ہوتي

اپنا ارمان خيالوں ميں ہي پورا کرتے

روح کي پياس نہ بجھتي جو تصور سے ترے

ہجر کے دشت ميں ہم آنکھ کو دريا کرتے

مختصر زندگي کتني ہے اگر جانتے يہ

بھول کر جاتے کوئي بعد ميں سنبھلا کرتے

ہم سے بيزار جو ہو کے وہ چھڑاتے دامن

ناز ان کے نہ کبھي نام کو ميلا کرتے

غزل

بشارت سکھي

مجھے جلتے انگارے بيچنے ہيں

دو نينوں کے کٹارے بيچنے ہيں

کہ آنکھيں دشت مانگيں بيکراں اب

سمندر کے کنارے بيچنے ہيں

لگاو سب سے بڑھ کر تم بھي بولي

مجھے اب ہجر سارے بيچنے ہيں

نہ ہو تکليف جلتي آندھيوں کو

چراغوں کے اشارے بيچنے ہيں

اٹھائے بوجھ ميں اب تھک گئي ہوں

مجھے لفظي سہارے بيچنے ہيں

سکوں دينے لگيں ويرانياں اب

سنو مجھ کو نظارے بيچنے ہيں

بھرم رکھنا ہے مجھ کو رتجگوں کا

کہ نيندوں کے خسارے بيچنے ہيں

سفينے ريت پر اب چل پڑے ہيں

مجھے موجوں کے دھارے بيچنے ہيں

ارے صاحب فقط مسکان قيمت

سکھي کو خواب سارے بيچنے ہيں

غزل

(فہميدہ مسرت احمد، جرمني)

قاتل نگاہ اُس کي مرا کام کر گئي

آنکھوں کےراستے سے جگر ميں اُتر گئي

کل شام يُونہي بيٹھي تھي ساحل کي ريت پر

ہر موج مجھ پہ کھولتي سوچوں کے در گئي

پھر يُوں ہُوا کہ وقت نے سب گھاؤ بھر دئيے

تتلي تمہاري ياد کي بے موت مر گئي

اشکوں نے دل کي ساري کثافت کو دھو ديا

کيسے کہوں کہ ميري دعا بے اثر گئي

موذي وبا نے لاشوں کے پُشتے لگائے وہ

اک حشر کا سماں تھا جہاں بھي نظر گئي

کہنے کو چار دن کي ہے يہ زندگي فقط

ليکن ہر ايک موڑ پہ حيران کرگئي

اپنے ہي دوستوں کا مسرت کمال ہے

ورنہ عدو کو راز کي کيسے خبر گئي

غزل

امتہ الجميل سيال جرمني

اپني چاہت کو حسيں رنگ ميں يوں ڈھالا ہے

جس طرح چاند کي آغوش ميں اک ہا لہ ہے

ہم نے ہنس ہنس کے گزارے ہيں شب و روز تمام

يوں تو ہر روز نئے غم سے پڑا پالا ہے

جب بھي ما نگي ہے ميرے دل نے دعا اس کے حضور

اس کي رحمت نے کبھي کل پہ نہيں ٹالا ہے

اور تو کچھ بھي نہيں ان ميں محبت کے سوا

اپنے جذبوں کو ہي شعروں ميں ذرا ڈھالا ہے

غزل

طاہرہ زرتشت نازؔ

درد کي، دردِ دل کي بات کريں

کيسے ظاہر غمِ حيات کريں

عيد آئي تو ہے سجن ليکن

بن ترے کيسے چاند رات کريں

اپنے بس ميں رہا نہيں ليکن

ورنہ تم سے مذاکرات کريں

ہم نے بھي آج خوب سوچا ہے

اب نہ تم پہ ہم التفات کريں

بے وفائي کا جو بھي ہو مجرم

اس سے ترکِ تعلقات کريں

 تم سے مل ليں تو ! پھر يہ سوچيں گے

’’تم کو ديکھيں کہ تم سے بات کريں‘‘

اس طرح چپ رہيں گے ہم کب تک

کيوں نہ ہم ان سے دو، دو ہات کريں

ہم کو مصرعہ ديا گيا ايسا

ورنہ ہم ! اور ايسي بات کريں؟

غزل

امة الباري ناصر

اب ہم کو کوئي بات بھي کڑوي نہيں لگتي

جلتے ہوئے لہجوں ميں بھي گرمي نہيں لگتي

مشکل ہے کہ تدفين ہو مٹي ميں وطن کي

ہوں دفن تو پھر مرضي کي تختي نہيں لگتي

حالات کي سختي نے بہت چھيد کئے ہيں

چھلني ہوں مگر ديکھو تو زخمي نہيں لگتي

تم کو تو نہيں کوئي بھي انداز گوارا

تم کو تو کوئي بات بھي اچھي نہيں لگتي

ہر سمت وہ ظلمت ہے کہ دل ڈوب رہا ہے

يہ دنيا تو اب جنت ارضي نہيں لگتي

وہ نقش بگاڑے ہيں ستم خيز ہوا نے

آئينے ميں صورت بھي اب اپني نہيں لگتي

کم کوش ہيں محرومي کا درماں نہيں کرتے

کہہ ديتے ہيں حالات کي مرضي نہيں لگتي

آنکھوں سے نماياں نہيں الفاظ کا مفہوم

جو بات ترے لب پہ ہے سچي نہيں لگتي

تھا مان بہت رکھا ہے جذبات پہ قا بو

يہ بات مگر اب مرے بس کي نہيں لگتي

جب پروين شاکر کو شوہر نے طلاق دي

توکسي شاعر کے الفاظ يہ نکلے

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہيں گيا

وہ کيوں گيا ہے يہ بھي بتا کر نہيں گيا

وہ يوں گيا کہ باد صبا ياد آ گئي

احساس تک بھي ہم کو دلا کر نہيں گيا

يوں لگ رہا ہے جيسے ابھي لوٹ آئے گا

جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہيں گيا

بس اک لکير کھينچ گيا درميان ميں

ديوار راستے ميں بنا کر نہيں گيا

شايد وہ مل ہي جائے مگر جستجو ہے شرط

وہ اپنے نقش پا تو مٹا کر نہيں گيا

گھر ميں ہے آج تک وہي خوشبو بسي ہوئي

لگتا ہے يوں کہ جيسے وہ آ کر نہيں گيا

تب تک تو پھول جيسي ہي تازہ تھي اس کي ياد

جب تک وہ پتيوں کو جدا کر نہيں گيا

رہنے ديا نہ اس نے کسي کام کا مجھے

اور خاک ميں بھي مجھ کو ملا کر نہيں گيا

ويسي ہي بے طلب ہے ابھي ميري زندگي

وہ خار و خس ميں آگ لگا کر نہيں گيا

يہ گلہ ہي رہا اس کي ذات سے

جاتے ہوئے وہ کوئي گلہ کر نہيں گيا

غزل

شوکت سلطانہ احمد، جرمني

دل غنچے کي مانند کھلانے نہيں آتے

افسوس مجھے روٹھے منانے نہيں آتے

کي جائے نہ رد ميري صدا خوف مجھے ہے

آدابِ فلک بھي تو نبھانے نہيں آتے

اس دل ميں کئي درد نئے آن بسے ہيں

اب ياد مجھے درد پرانے نہيں آتے

پہرے پہ جمے ناگ سے لڑنا تو ہے لازم

 بزدل کے تصرف ميں خزانے نہيں آتے

گر نيک عمل بن کے رہيں زاد سفر تو

زد ميں کسي پتھر کي دہانے نہيں آتے

تا دير کھڑے ديکھتے رہتے ہيں تماشہ

اب لوگ مجھے صرف گرانے نہيں آتے

ہو جاتا ہے چہرے سے ہميشہ ہي عياں سچ

شوکت کو بہانے بھي بنانے نہيں آتے

دلہن

امۃ الباری ناصر

مري بارات آئے گي مجھے دلہن بنا ديجے

مرے ہاتھوں پہ گہرے رنگ کي مہندي لگاديجے

بجاؤں ساز خوشيوں کے چھنا چھن چھن چھنا چھن چھن

سنہري چوڑياں بھر بھر کے ہاتھوں ميں چڑھا ديجے

بڑا دلکش ہے جوڑا جو مري شادي کا آيا ہے

يہ خواہش ہے کہ اب سچ مچ کي شہزادي بناديجے

مجھے تو تازہ پھولوں اور کليوں سے محبت ہے

مجھے از سر تا پا پھولوں کي خوشبو ميں بسا ديجے

نہايت خوبصورت ہيں يہ بندے ہار اور جھومر

مرے ماتھے پہ ماں کے پيار کا ٹيکا لگا ديجے

نئے گھر کي بِنا رکھيں گے ہم سچي محبت پر

مري آنکھوں ميں پي کے پيار کا کاجل لگا ديجے

ستارے آسماں کے آج ميري مانگ ميں بھرديں

وہ زينت ہو کہ بالکل رات کي راني بنا ديجے

وہ آئيں گے تو شرماؤںگي ميں آنکھيں جھکالوں گي

دوپٹہ کوئي بھاري سا مرے سر پر اڑھا ديجے

وہاں ميکے کي يا د آئے گي او ر تڑپائے گي بے حد

مرے سسرال والے بھي مجھے چاہيں دعا ديجے

بہار آکر ٹھہر جائے جہاں بھي ميں قدم رکھوں

خدايا خير کي پيغامبر مجھ کو بنا ديجے

آوارہ  بادل

مدثرہ عباسى

اتني گرمي شدت کي دھوپ

ہائے يہ گرمي برداشت نہيں ہے

کہاں کو جاؤں کيا کروں ميں

کچھ سجھائي نہيں ہے ديتا

جب بھي کوئي مشکل آن پڑي ہے

سوچو خدا نے کيا کہا ہے

چاہے چاہئے جوتي کا تسميہ

چاہے چاہئے ہانڈي ميں نمک

کسي کے آگے ہاتھ نہ پھيلاؤ

صرف ہاتھ اٹھا کہ دعا جو مانگو

مانگو صرف خدا سے

يہ تو ہے فرمان الہي

مجھي سے مانگو

ميں تمہيں دوں گا

تو پھر کيوں نہ مانگوں ميں خدا سے

کچھ سورج تو کم تو کر دے

کر دے مجھ پر سايہ

لے لے اپني آغوش ميں

کہيں سے نکلا آوارہ بادل

چلتا چلتا جھومتا جھومتا

آکے ٹہرا ميرے سر پر

ٹہر گيا سورج کے نيچے

اففف اللہ يہ کيا ہؤا ہے

کچھ منٹ پہلے جو گرمي تھي

اب تو صرف ٹھنڈک ہي ٹھنڈک ہے

اتني چھوٹي دعا تھي ميري

کيوں نہ مانگوں پھر ميں خدا سے

اپنے گناہوں کي بخشش کو

اے اللہ تو تو عفو ہے

پسند کرتا ہے معاف کرنے کو

پس تو مجھ کو معاف کردے

دھو دے ميرے گناہوں کي تپش کو

اللھم انک عفو

تحب العفو فاعف عني

آيا کہاں سے تھا يہ بادل

مجھ کو سبق سکھا گيا يہ بادل

یتیم لڑکا

وہ بيٹھا ہے لڑکا جھکائے جو سر

اٹھاتا نہيں ہے کبھي جو نظر

ٹپکتا ہے چہرے سے جس کے ملال

سبھي جانتے ہيں کہ ہے خوش خصال

خزاں بن کے آئي جو بادِ نسيم

تو بچپن ميں ہي ہوگيا وہ يتيم

اچانک ہي اجڑا امنگوں کا باغ

بجھا اس کي خوشيوں کا روشن چراغ

جو رکھتے تھے سر پر محبت سے ہاتھ

چھڑايا ہے تقدير نے ان کا ساتھ

اميدوں کا شعلہ لہکتا نہيں

چہکنے کے دن ہيں چہکتا نہيں

بہت غمزدہ ہے بہت ہے اداس

چلو چل کے بيٹھيں ذرا اس کے پاس

اسے خوش کريں اپني باتوں سے ہم

کہ وہ بھول جائے ہر اک درد و غم

وہ لڑکا اگر مسکرانے لگے

تو اپني محبت ٹھکانے لگے

مٹھو مىاں

زہرا نگاہ

مٹھو مياں چپ رہو

ٹيوں ٹيوں مت کرو

لال مرچ کھاؤ گے

اپني کہے جاؤ گے

ميري بات بھي سنو

کل سبق پڑھايا تھا

آج تم نے دہرايا

ہوم ورک تو کرو

چونچ ميں کيا درد ہے

رنگ يہ کيوں زرد ہے

دال کھانا کم کرو

ٹيوں ٹيوں مت کرو

کتني بار سمجھاؤں

کتني بار دہراؤں

ايک لفظ تو کہو

ٹيوں ٹيوں مت کرو

کيا کہا سنوں ذرا

مني بي بي کہہ ديا

واہ واہ واہ وا

مٹھو مياں خوش رہو