//شعر و شاعری ماہ دسمبر ۲۰۱۹

شعر و شاعری ماہ دسمبر ۲۰۱۹

سن ۱۹۸۱ ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’میں تمہیں ایک مصرع طرح دیتا ہوں اس پر نظم کہو‘‘اور  وہ مصرع یہ تھا

ہے صبر و رضا  کا مطلب کیا بس لا الہ الا اللہ 

(حضرت صاحبزادی امۃ القدوس)

ہر شے میں وہی ہے جلوہ نما

ہے صبر و رضا کا مطلب کیا 

بس لا الہ الا اللہ

کرتے ہیں اُسی کی حمد و ثنا 

یہ شمس و قمر یہ ارض و سما

گلشن، وادی، صحراء دریا

ہر ایک اُسی کا مدح سرا

جو کچھ بھی مِلا اس سے ہی مِلا

حق اس کا بھلا ہو کیسے ادا

ہر چیز سے بڑھ کر اس کی رضا 

ہے صبر و رضا کا مطلب کیا 

بس لا  الہ الا  اللہ 

وہ حُسنِ مجسم نورِ ازل 

وہ زندہ حقیقت ٹھوس اٹل 

ہر شے کی حقیقت پَل دو پَل

آیا جو یہاں وہ چَل سو چَل 

باقی ہے اگر تو نامِ خدا 

بس لا الہ الا اللہ 

کانوں کی سماعت لَب کی نوا 

ہاتھوں کی سکت قدموں کی بناء 

آنکھوں کی صفاء ذہنوں کی جلا

ادراک کی قوت فہم و ذکاء 

یہ حُسنِ طلب یہ ذوقِ دعا 

یہ عرض تمنا ، طرز ادا

ہر شے ہے اسی کی جود و عطا

وہ رحمتِ کُل مَیں صرف خطا 

ہر درد کا درماں رُوحِ شفاء 

کیا؟ لا  الہ الا اللہ

پھولوں کی مہک بُلبل کی نوا

سورج کی کرن تاروں کی ضیاء  

قریہ قریہ، کوچہ کوچہ

جنگل جنگل، صحرا صحرا

وادی وادی، دریا دریا

ہر شے میں وہی ہے جلوہ نما

بس لا الہ الا اللہ

ملجاء بھی وہی ماویٰ بھی وہی 

آقا بھی وہی مولیٰ بھی وہی 

رحمٰن وہی اَرحم بھی وہی 

نعمت بھی وہی منعم بھی وہی 

عادل بھی وہی حاکم بھی وہی 

رازِق بھی وہی قاسم بھی وہی 

وارِث بھی وہی رافع بھی وہی 

باسِط بھی وہی واسع بھی وہی 

اوّل بھی وہی آخر بھی وہی 

باطن بھی وہی ظاہر بھی وہی 

نیچے بھی وہی اُوپر بھی وہی 

اندر بھی وہی باہر بھی وہی 

منزل بھی وہی رہبر بھی وہی 

مرکز بھی وہی محور بھی وہی  

غالب بھی وہی قادِر بھی وہی 

اعلیٰ بھی وہی اکبر بھی وہی 

قدوس وہی بے عیب وہی 

معبود وہی لاریب وہی 

کثرت بھی وہی واحد بھی وہی 

نگران وہی شاہد بھی وہی 

ربِّ ارض و افلاک وہی 

معبودِ شہہِ لولاکؐ وہی 

قیوم وہی ہوشیار وہی

غم آئے تو ہے غمخوار وہی 

غفار وہی ستار وہی

ہم جیسوں کا پردہ دار وہی 

پھر اور کہوں کیا اس کے سوا 

بس لا الہ الا اللہ

غزل

  فہمیدہ مسرت احمد 

پیار گر تھا تو فاصلے کیاتھے

وہ جُدائی کے فیصلے کیا تھے

دشتِ ہجراں کے سلسلے کیاتھے

ہم کہ زندہ تھے یا مرے کیا تھے

گرچہ حائل تھی درمیاں دیوار

دل سےدل کے وہ رابطے کیاتھے

ہائے اب کس ادا سے پوچھتےہیں 

آپ ہم  سےکبھی ملے کیا تھے. ؟

کیا بھروسہ نہ تھا محبت پر

بُھول جانے کے وسوسے کیا تھے

عُمر گزری ہے پر نہیں سمجھے 

رسمِ اُلفت کے ضابطے کیا تھے

میں جو محصوراپنی ذات میں تھی

جانتے ہو  وہ دائرے کیا تھے

مصلحت کے تھے قُفل  ہونٹوں پر

لفظ آنکھوں سے جھانکتے کیا تھے

کیوں مسرت کسی کو بتلائیں 

 ہم کو درپیش مسئلے کیاتھے

غزل

محترمہ بشارت سکھی جرمنی

کھلتے پھولوں سی لبوں پہ تازگی باقی رہے

روح کے مندر مرے سر خوشی باقی رہے

اس کی آنکھوں میں کسی کی دید کے جلتے دیے

کہ رہے ہیں بس ذرا سی روشنی باقی رہے

ساز دل پر چاہتوں کی ہے انوکھی دھن کوی

اس پہ سانسوں کی ردھم کی نغمگی باقی رہے

وہ حریف جاں مری سوچوں پہ قابض ہوگیا

میں رہوں یا نہ رہوں دیوانگی باقی رہے

عشق میں خود کو منانا ہی اداے دلبری

موت کی دہلیز پہ کچھ زندگی باقی رہے

عجز کی راہیں کٹھن ہیں سوچ کے رکھنا قدم

چھین لے سب ہوش میرے بے خودی باقی رہے

شہرتوں کی میں نہیں طالب اے مرے رب کریم

بس دلوں میں تا ابد یاد سکھی باقی رہے