//اس کا پیرہن ہوگا بہار سا

اس کا پیرہن ہوگا بہار سا

. تحریر  منزہ سلیم جرمنی

*اس کا پیرہن ہوگا بہار سا*

*اسکے ہاتھوں میں کھلیں گےگلاب بھی*

شاذمہ آج بہت خوش تھی۔ اخبار کا پہلا صفحہ اسکی تصاویر سے مزین تھا۔ اور تفصیلی انٹرویو جس کے بعد مبارک بادوں کا سلسلہ کئی روز جاری رہا۔

اس مرتبہ تو اسنے رپورٹر کو واضع طور پہ کہا تھا کہ آج تک اس کی جتنی خواہشات تھیں اللہ تعالی نے اس کے لئے کوئی نہ کوئی سبب پیدافرما ہی دیا تھا۔

آج بی اے کا رزلٹ بھی آیاتھا جس میں شاذمہ نے ٹاپ کیا تھا۔ اسکا دل مسرت و شادمانی سے جھوم رہا تھا۔جب تک بابا زندہ تھے شاذمہ کے وارے نیارے تھے۔ ہر جائز ناجائز خواہش پوری کر دی جاتی تھی۔ قدرت کا ہر حسن اس کو بھاتا تھا۔ تتلیاں پکڑنا اسے بہت اچھا لگتا۔ رنگ برنگے پھولوں میں وہ اک پھول ہی کی طرح ہی تو تھی۔ نازک، خوبصورت، اچھی صحت مند تروتازہ گلابی رنگ والی ہر اک کا دل موہ لینے والی، ہنس مکھ اور کھلنڈری وہ اپنے گھر کے خوبصورت باغیچے میں، جہاں چاروں طرف خوش نُما اور دیدہ زیب رنگوں کے پھول جو نہ صرف نظروں کو طراوت بخشنے کا باعث بنتے بلکہ ان کی مدھر خوشبو سے فضا بھی ہر دم معطر رہتی۔ وہ گھنٹوں بیٹھ کر قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوتی۔

در اصل شاذمہ نے آنکھ ہی دریائے نیلم سے کچھ دور ایک پر فضا مقام پہ واقعہ بنگلے میں کھولی جہاں چاروں طرف سرسبز پہاڑ تھے۔ اس پر مستزاد یہاں چار سُو ہریالی، دُور دُور تک سفیدے کے گھنے جنگلات، دیودار، فر اور اخروٹ کے درختوں کی بھرمار اور مختلف پرندوں کی چہچہاہٹ ایک حسین سماں باندھتی۔

شوخ و چنچل مسکراتی، شیشے سا دل اور اس میں اس سے بھی زیادہ نازک احساسات، کائنات کا سارا حسن اپنے آنچل میں سمیٹ لینے کی خواہش مند شاذمہ کا بچپن اپنے بابا، امی جی اور دادی کی سنگت میں گزرا تھا۔

اللہ تعالی نے اس کو بہترین اوڑھنے پہننے کا سلیقہ عطا کیا ہوا تھا اور ہر نعمت سے نوازا تھا مگر اسے ہر نعمت کو پا نے کے لئے خاصی تگ و دو کرنی پڑتی تھی۔

اس ہر فن مولا فنکارہ کو سلائی کڑھائی اور اون سے سویٹر، موزے بننے میں تو خاصا مزا آتا تھا۔ سب سے زیادہ مشکل اسے اس وقت درپیش ہوئی جب اس نے خواہش ظاہر کی کہ وہ قران کریم پڑھنا چاہتی ہے۔ قاعدہ تو خوشی خوشی پڑھ لیا اور سب مسرت کا اظہار بھی کرتے رہے۔ اصل امتحان یہ تھا کہ جب قران کریم پڑھنا چاہا اسکی شاذمہ کو اجازت نہیں دی گئی۔ دادی نے فتوی دیا کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ خدا نخواستہ قرآن کریم کی بے حرمتی ہمارے گھر میں ہو۔ پر شاذمہ اٹھ گئی کہ “نہیں مجھے لازما” قرآن پاک پڑھنا ہے۔ سب بچے پڑھتے ہیں۔ میں تو ضرور پڑھوں گی۔”

مولوی صاحب سے راہ نمائی لی گئی مولوی صاحب نے صاف کہ دیا کہ نہیں پاک کلام ہے، اس کو جب تک بچی خود کھول کہ پڑھنے کے قابل نہ ہو اسے نہ پڑھائیں۔ بہت مشکلوں سے اس کی امی نے دادی جان، جوکہ اسی فیملی کا حصہ تھیں۔ سے چھپ کر اسے قرآن کریم کا پہلا دور مکمل کرایا تھا۔

آسانی اور سہولت سے جو نعماء میسر ہوں انسان کو ان کی قدر ہی نہیں ہوتی۔ کتنے ہی بچے قرآن پاک کا پہلا دور ختم کرتے ہونگے۔ مگر شاذمہ کی خوشی سب سے سوا تھی کیوں کہ اسنے اس کارنامے کو سر انجام دینے کی خاطر کئی راتیں اپنے آنسوؤں سے تکئے بھگوئے تھے۔ دعائیں کیں تھیں۔

جب پڑھائی کی باری آئی تو بابا نے کہا کوئی مسئلہ نہیں میں گھر میں ہی اسے پڑھا لوں گا۔ سو بابا پڑھاتے اور ٹیوٹر بھی مقرر کر دیا گیا۔ امتحان جا کر سکول میں دلوا دیا جاتا۔ پرائمری کے بعد مڈل اور پھر میٹرک میں اچھی پوزیشن لینے کے بعد اس کی بہت بڑی خواہش تھی کہ وہ بی اے کرے۔

دادی اماں نے صاف منع کر دیا کہ ہر گز نہیں اس جیسی لڑکیوں کا میٹرک تک پہنچنا کافی ہے۔ آگے کیا ضرورت ہے۔ گھر میں بیٹھو۔ اکیلا میرا بیٹا کمانے والا ہے سو کوئی ٹیوشن وغیرہ نہیں رکھی جائے گی۔جو پیسہ ٹیوشن پہ لگانا ہے وہ مجھے دیں میں بیمار رہتی ہوں پھل وغیرہ کھاؤں تو طبیعت سنبھلے۔ (جبکہ گھر میں کھانا پینا پھل وافر تھےاور ایک چچا الگ خرچہ بھی بیرون ملک سے دادی کو باقاعدگی سے بھیجتےتھے)۔

اب کی مرتبہ تو بابا نے بھی شاذمہ کا ساتھ نہیں دیا۔ الٹا سمجھانے بیٹھ گئے کہ “بیٹا دادی ٹھیک ہی کہ رہی ہیں۔ آپ نے کون سی نوکری کرنی ہے۔ بڑوں کی بات میں مصلحت ہوتی ہے”۔ شاذمہ کو چیلنجز بہت پسند تھے سو اس نے تہیہ کیا کہ دادی کو اپنے بل بوتے پہ بی اے کر کے دکھاؤں گی۔ سو ہمیشہ کی طرح امی جی کے سامنے اور اکیلے میں خدا کے حضور گریہ و زاری کرتی رہی۔فیس کے مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ ٹیوشن پڑھانا شروع کر دی۔ بچوں کا بھی شاذمہ سے بہت دل لگتا تھا۔ شاذمہ ایک ہنس مکھ، خوبصورت شکل و صورت والی ماڈرن اور فیشن ایبل دوشیزہ تھی۔ بلا کی ذہین اور غیر مرئی صلاحیتوں کی مالک، بہت پر اعتماد لڑکی تھی۔ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد۔

ابا کے گورنمنٹ آفیسر ہونے کی وجہ سے شہر کے ماڈرن پر فضاء علاقے میں دو کنال پہ مشتمل بنگلہ میں رہائش پزیر تھی۔ وہیں چھوٹا سا ٹیوشن سنٹر کھول لیا۔ شاذمہ کی اپنے ایریئے میں اچھے اخلاق و کردار کی وجہ سے کافی واقفیت تھی۔ بچے آسانی سے ٹیوشن پڑھانے کے لیے مل گئے۔ اور انھی بچوں کے والدین میں سے ایک نے ایف اے کی تیاری کی حامی بھر لی۔ سو شام کو ٹیوشن پڑھاتی اور صبح ایف اے کی تیاری کرتی رہی۔ دادی سے روز یہ سننے کو ملتا اچھی بھلی لڑکیاں نہیں پڑھ سکتیں اس نے کیا پڑھنا ہے۔ بیٹا اسے سمجھاؤ پڑھائی کا خیال دل سے نکال دے۔ اس نے پڑھ لکھ کے کونسا تیر مار لینا ہے۔ ان باتوں سے شاذمہ مسوس کے رہ جاتی اور سب غصہ رات بھر نیر بہا کے رفو چکر کرتی اور اگلے روز اک نئے عزم کے ساتھ دن کا آغاز کرتی۔

اور اب کی مرتبہ تو اس نے بڑے جوش سے کہا تھا کہ ایک روز آئے گا کہ میں بی اے کی ڈگری لےکر ابا اور دادی کو ثابت کروں گی کہ میں کسی سے کم نہیں۔ انشاءاللہ

دادی نے قہقہہ لگایا اور کہا “او دن ڈُبہ جدوں گھوڑی چڑھیا کُبہ”

روزانہ ٹیوشن پڑھانے کے ساتھ ساتھ دل لگا کر محنت کرنے کے بعد اللہ اللہ کرکے بی اے کے امتحان بھی مکمل ہوگئے۔ شاذمہ کو بڑی بے چینی سے رزلٹ کا انتظار تھا۔

زندگی کا ایک اور خواب کافی تگ و دو، مشکلات اورطعن و تشنیع سننے کے عوض پورا ہونے کو تھا۔ یہ بہادر اور جفا کش لڑکی ایک مقصد کے حصول پہ خوش ہو کر زندگی کو ساقط کرنے والوں میں سے نہیں تھی۔ اپنی پیاری امی جوکہ اس کے مددگار ہاتھ بھی تھیں سہیلی بھی تھیں۔ انھیں کے آگے وہ کھل کے غم ہلکا کرتی۔

امی پڑھی لکھی تو نہ تھیں مگر بہت عقل مند نیک اور دعا گو خاتون تھیں۔ شاذمہ کے لئے پانچوں وقت کی نماز میں دعاء ان کا خاصہ تھا۔ کہ اے خدایا میری بچی سب بچوں کی طرح وہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے۔ اے خدا اب تک تو زمانے سے ساس، نندوں سے خاندان سے لڑ کر اسکا بی اے تک ساتھ دیا ہے۔ اے مالک آئندہ بھی تو ہی مدد فرمانا۔

ہاتھوں پہ گرفت صحیح نہ ہونے کی وجہ سے شاذمہ کو کھانا کھلانے، بیت الخلاء میں، کپڑے پہننے میں مدد کرنے میں ماں نے کبھی شاذمہ کو احساس ہی نہ ہونے دیا کہ اس میں کوئی کمی ہے۔ شاذمہ کو خدا نے ہاتھوں پہ گرفت صحیح نہ ہونے اور صحیح چل نہ سکنے کے عوض بہت سی ایسی صلاحیتوں سے نوازہ تھا جو کہ عام لڑکیوں کے بس کی بات نہ تھی۔ وہ پاؤں سے بہت خوبصورت لکھائی میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں ماہر تھی۔ امی کسی کام باہر جاتیں تو خانصامہ سے نئے نئے پکوان بنوالیتی۔ سب کھا کر حیران رہ جاتے۔ اور خانصامہ کہتا بی بی جی بتاتی گئی ہیں ایسے کرو، اب یہ ڈالو تو کھانا اچھا بن گیا۔ مجھے تو یہ ڈش بنانی نہیں آتی۔

اب شاذمہ کے سر پہ سوار تھا کہ بی اے کے بعد اسے شادی کرنی ہے اور اللہ سے دعا کرتی کہ اے خدا اب تو بابا کا سہارا بھی نہیں رہا۔ دادی مستقل مخالفت پہ تلی رہتی ہیں۔بس تو ہی مجھے اچھا ساتھی دے اور مجھے چاہے ایک بچہ عطا فرمانا۔ پر مجھے صاحب اولاد ضرور کرنا۔

سب خاندان والوں نے ہمیشہ کی طرح بہت سمجھایا اور متنبہ کیا کہ یہ خیال دل سے نکال دو۔ اچھی اچھی لڑکیاں بیٹھی رہتی ہیں تم تو اپاہج ہو واش روم تک تو جا نہیں سکتی پانی پینے اور کھانا کھانے کے لئے تمہیں کسی کا سہارہ لینا پڑتا ہے۔ بغیر کسی مددگار کے تم چل نہیں سکتی۔ اسلئے اس سوچ کو ذہن سے نکال دو۔ پھوپھی نے تو یہاں تک کہ دیا کہ ’’آنکھوں دیکھی مکھی کون نگلے گا‘‘۔ وغیرہ وغیرہ

حسب معمول مخالفت کی تیز آندھی شاذمہ کے حوصلہ اور پختہ عزم کو متزلزل نہ کر سکی۔

اوپر سے شہر کےمعروف اخبار میں انٹرویو!

شاذمہ کی بڑی بڑی تصاویر جس میں وہ پاؤں سے لکھائی کرتی، کپڑے کاٹتی سلائی کرتی اور اونی کام کرتی دکھائی گئی۔ اس انٹرویومیں خواہش کا بھی اظہار تھا کہ اب شاذمہ گھر بسانا چاہتی ہے۔

انٹرویو کے بعد بےشمار لڑکوں نے اخبار کی وساطت سے خطوط لکھے کہ وہ ایسی باصلاحیت، جرأت مند اور بہادر لڑکی سے شادی کے لئے تیار ہیں۔

گھروالوں اور خاندان کی بڑی شدید مخالفت کے باوجود ہمیشہ کی طرح اب بھی صرف ماں اور چند سہیلیاں اس کی ہم خیال تھیں۔ خیر والدہ کے ساتھ مل کر شاذمہ نے کچھ چھان بین کی اور ایک بظاہر نیک شریف النفس اور خوب صورت نوجوان نے کچھ ہی عرصے میں والدہ اور شاذمہ کو اپنی بظاہر بے لوث محبت کا اثیر بنا لیا۔ اور بے پناہ مخالفت کے باوجود خاموشی سےشاذمہ کا فرازسے نکاح ہو گیا۔ شروع شروع میں تو شاذمہ کو اپنے نام کے معنی کی طرح لاڈلے چاند ہی کی طرح سے رکھا گیا۔ اور وہ سادہ طبع تھوڑا پیار ملنے پہ خوش ہونے والی شاذمہ اپنے میاں کےلئے پوری وفا کے ساتھ سب زمانے سے لڑ گئی۔

اسکو لگا جیسے اماوس کی تاریک رات میں روشنی ہوگئی ہو۔

جیسے صحرا میں آبلہ پائی کے بعد اچانک نخلستان سامنے آ گیا ہو۔ جیسے طویل راتوں کی بے قراری ختم ہو گئی ہو اور سفر کی صعوبتیں زائل ہو جائیں۔

جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ گیا ہو۔

 پر اسے گمان تک نہ تھاکہ وقت کا ایک سفاک چہرہ اس کے تعاقب میں ہے!

مجازی خدا کو اپنا سب کچھ سمجھنے والی شاذمہ نےاس کےکہنے پہ اپنا حصہ جائداد میں مانگ لیا۔ ان پیسوں سے لئے گئے بنگلے میں اپنے میاں اور امی (جن کے بغیر اسکا بالکل گزارہ نہ تھا) کے ساتھ بخوشی شفٹ ہو گئ۔

پر حقیقی خوشی لگتا ہے شاذمہ کے نصیب میں تھی ہی نہیں۔ آہستہ آہستہ فراز نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا۔ وعدہ کے برخلاف اپنے والدین سے متعارف نہ کرایا۔

شاذمہ کا اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کروانا اس کے لئے لئے خاصہ آسان ہو گیا تھا کیونکہ شاذمہ ایک روایتی بیوی کی طرح میاں کی سب باتیں مانناعین سعادت سمجھتی تھی۔ کچھ عرصہ بعد بنگلہ میں توسیع کرانے کے بہانے سے شاذمہ اور اس کی امی کو رشتہ داروں سے بہت دور ایک کرائے پہ گھر میں پہنچا دیا گیا۔

اس بے حس اور لالچ کی حوس اور دولت کے بجاری نے

بیوی کی لاکھوں کی جائداداور بینک بیلنس ہتھیایا اور اس یتیم اور اپاہج کے مال سے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو پر تعیش زندگی کی آسائشیں فراہم کیں۔

شاذمہ کو آہستہ آہستہ اس مطلبی شخص کی چالاکیاں سمجھ آچکی تھیں۔ مگر اب تو ماں کا شفیق سایہ بھی روٹھ چکا تھا: اسکے لئے ایسے ہی تھا جیسے ماس کو ناخن سے الگ کر دیا گیا ہو۔اب وہ بہت اکیلی ہو چکی تھی۔ میاں بیوی تو ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کےلئے احساس رکھتے ہیں۔اپنے محبوب کی بے اعتنائی کا یہ رنگ، شاذمہ کو اندر سے مکمل طور پہ کھوکھلا کر گیا۔ اور اسکی بے رنگ آنکھوں میں یہ سوال تھا؛…

اے میری جان ادا! اے میرے محبوب فراز!

ہو اجازت تو کروں اک عرض جناب!

مجھ کو جان جاناں نہ سہی فقط آپ…انساں تو سمجھ لیتے!….اتنا تو سمجھ لیتے!

آج وہ معمول سے زیادہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔اسکی مُٹھیاں ہمیشہ بند رہتی تھیں۔ پر اب اسکی مٹھیاں کھلی ہوئی تھیں جیسے اب کسی بھی خواب کے بکھرے کا کوئی “”ڈر نہ ہو۔ کمرہ میں سب چیزیں بہت سلیقہ سے اسی طرح پڑیں تھیں صرف کچھ نہیں تھا تو اس کی روح تھی جو کہ قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی اور دوسرے جہان جا چکی تھی جہاں اس کے بابا اور پیاری والدہ تھیں اور سب سے بڑھ کر یہ کوئی کہنے والا نہیں تھا کہ یہ تو تمھارے بس میں نہیں۔

وہ وہاں جا چکی تھی…جہاں سچی محبت کی قدر ہوتی ہے…خلوص میں ملاوٹ نہیں ہوتی ۔چشم تَخَیل میں دیکھا جا سکتا تھا کہ اس کے ہاتھ خالی نہ تھے بلکہ ان میں محبتوں کے گلاب تھے۔ اوراس پہ رنگ برنگی تتلیاں منڈلا رہی تھیں!

اور گلابوں کی تازگی اور مہک، ماحول اور روح کو معطر کر رہی تھی!

وہاں دائمی زندگی تھی،!…خوابوں کی تعبیر تھی!…اطمینان تھا !…اور بلا کا سکون!

انسان کیسا بے حس اور لالچی واقع ہوا ہے۔ وہ کسی کا حق مارتے ہوئے انسانیت کی معراج سے گہری کھائی میں گرنا پسند کرتا ہے۔پر اپنی خواہشات کا پیٹ آگ کے ایندھن سے بھر تے وقت اس مالک کو بھول جاتا ہے جس کے قبضئہ قدرت میں اسکی جان ہے۔ اور جسے اسنے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہے۔

شاذمہ تو اپنی نیک نیتی، بلند ہمتی، مسلسل جد و جہد، صاف گوئی، شائستہ اخلاق و اطوار کے باعث روشن ستارے کی مانند چمکتی رہے گی۔

مگر اس کی محبت کو پامال کرنے والے، مجازی خدا جیسے پاکیزہ رشتے کی دھجیاں اڑانے والے دولت کے بجاری کا مقدر دیں و دنیا میں رسوائی کے علاوہ کیا ہوگا؟