//نصيحت

نصيحت

تحریر مہر منظور

’’ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت ابراہیم ادھم ؒ سے کہا ، کہ میں بہت گناہ گار اور بدکردار ہوں۔ لاکھ چاہتا ہوں کہ گناہ نہ کروں، مگر اپنے نفس پر قابو نہیں رہتا۔

’’حضرت ! آپ اپنے تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں ایسی نصیحت کیجئے کہ جو میری دنیا ہی بدل دے‘‘ آپ نے فرمایا ،غور سے سنو اور یاد رکھو کہ چھ عاداتاپنانے اپنے آپ کودنیا بدل سکتےہو۔

پہلی یہ کہ جب تم گناہ کا ارتکاب کرتے ہو تو رب تعالیٰ کا رزق مت استعمال کرو۔دوسری بات یہ کہ گناہ کا ارادہ کرو تو رب تعالیٰ کی مملکت سے نکل جائو۔

تیسری بات یہ کہ گناہ ایسی جگہ کرو جہاں رب تعالیٰ نہ دیکھ رہا ہو۔ چوتھی بات یہ کہ موت کے فرشتے سے توبہ کا وقت طلب کرو۔ پانچویں بات یہ کہ منکر نکیر کو اپنی قبر میں مت آنے دو اور سب سے آخری بات یہ ہے کہ جب جہنم میں جانے کا حکم ملے تو وہاں جانے سے انکار کردو۔

اس شخص نے عرض کیا یا حضرت یہ تمام کام تو ناممکنات میں سے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ایسا کام نہیں قابل عمل ہو۔

آپ ؒ نے فرمایا ’’جب یہ تمام باتیں ناممکن العمل ہیں تو پھر گناہ مت کرو۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ رب تعالیٰ کا رزق استعمال کرو ، اس کی سلطنت میں رہو اور اس کے سامنے حکم عدولی بھی کرو۔