//قمر ہے چاند اَوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے
قمر چاند

قمر ہے چاند اَوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے

رضیّہ شاہین صاحبہ بنت قاضی محمدؐ یوسف صاحب ھوتی۔ مردان

قرآن کریم ایک قیمتی گنجینہ ہے، مخزن العلوم کتاب ہے۔ یہ سراسر ہدایت اور دلوں کو جلا دینے والی روشنی اور مکمل تعلیم ہے۔ جو سب کتابوں سے افضل کتاب اور سب علموں سے اعلیٰ درجہ کا علمی خزانہ ہے۔ جس کو پڑھ کر ہدایت حاصل ہوتی ہے اور جس کو پڑھ کر ہم جہالت سے بچ سکتے ہیں اور جس کے پڑھنے سے ہم شریعتِ اسلام سے بخوبی واقف ہو سکتے ہیں اور جس کے پڑھنے سے ہمارے ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور جس کے پڑھنے سے ہمارے خیالات اعلیٰ اور پختہ ہو سکتے ہیہ وہ مبارک کتاب ہے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ نے نازل کی اور جس میں ہر ضروری ہدایت کا خزانہ رکھ دیا۔ ہر ہدایت اس میں مکمل طور پر موجو د ہے۔ اِس سے بڑھ کر دُنیا میں اور کوئی سچی تعلیم نہیں اور نہ ہی کوئی کتاب اس سے رہنمائی میں بڑھ کر ہے۔ ہر انسان کے لئے کامل نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ جو سچی تعلیم خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے ہمیں چاہیئے کہ اس سے فائدہ حاصل کریں اور اپنی زندگی میں ہر وقت تعلیم فرقان کو مدّنظر رکھیں۔ ہر روز اس کو پڑھیں اور سمجھیں۔ اس کے پڑھنے میں کبھی غفلت نہ کریں۔ بہنوں کو ہمیشہ صبح کی نماز کے بعد قرآن کریم پڑھنے کا التزام رکھنا چاہیئے۔ اس کو سمجھ کر اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیئے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے:وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ  تَرْتِیْلاً ۔قرآن کریم پڑھنے کا نمایاں فائدہ اُسی وقت ہو گا جب اس کی ہر ایک آیت پر غور کیا جائے گا۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جب پتھر پر بارش ہوتی ہے تو پتھر میں سے ہرگز کسی درخت کی شاخ باہر نہیں نکلتی۔ اور اگر کھیتوں میں بارش ہوتی ہے تو ان میں فصل اچھی اور کثرت سے ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر قرآن کا مطالعہ غور و تدبر سے کیا جائے تو اس کے معارف انسان پر کھلتے ہیں اور انسان روحانیت میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ مگر بصورتِ دیگر اگر محض لفظی طور پر پڑھا جائے تو جس طرح پتھر پر بارش کا کوئی اثر نہیں ہوتا انسان بھی کماحقہٗ اس کے معارف سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

پس بہنو! باقاعدہ اور بلاناغہ قرآن شریف غور سے پڑھا کرو اور اس کے نہاں در نہاں نکاتِ معرفت پر تدبّر بھی کیا کرو۔ اور پھر اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرو۔ اور جو بہنیں خود قرآن مجید نہ پڑھ سکتی ہوںان کو سناؤ اور ان کو بھی قرآن مجید کی سچّی اور پاک تعلیم سے آگاہ کرو۔ البتہ یہ نہیں کرنا چاہیئے کہ صرف یونہی پڑھ لیا اور معنوں پر اور حقائق و معارف پر غور ہی نہ کیا اور پھر اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش نہ کی۔ نہیں بلکہ پڑھ کر اس کے مطابق عمل کرنا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا مومن کا فرض ہے۔

قرآن کریم میں ہر قسم کی پاک تعلیم موجود ہے۔ لہٰذا قرآن شریف پر کسی دوسری کتاب کو ترجیح مت دو۔ اور یہ جو عام قصّے کہانیاں ہیں ان کا ہرگز کچھ اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ تو آدمیوں کی لکھی ہوئی ہیں۔ پس پاکیزہ اور سچی تعلیم وہی ہے جو قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ دوسری کتابیں ہرگز قابل اعتبار نہیں ہو سکتیں۔ مثلاً کسی لکھنے والے نے کتاب میں لکھ دیا ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے اپنی طبعی موت سے وفات نہیں پائی بلکہ زندہ بجسم عنصری آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح  ؑ ناصری وفات پا چکے ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

موت عیسیٰ کی شہادت دی خدا نے صاف صاف

پھر احادیثِ مخالف رکھتی ہیں کیسا اعتبار

افسوس! ایسی کتابوں کے لکھنے والوں کی غلطی اور نادانی نے کس قدر مخلوق کو گمراہ کیا۔ یعنی ان کو اس خیال نے کہ خدا تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بجسم عنصری آسمان پر اٹھا لیا تھا اور آخری زمانہ میں وہ نازل ہوں گے اور امّت محمدیہؐ کے مسیح موعود اور مہدی ہوں گے ایک سچے مامور من اللہ اور مثیل مسیح حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بانیٔ سلسلہ احمدیہ علیہ السلام مسیح موعود اور مہدیٔ معہود کے ماننے سے روک دیا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔ اب یہ آیتیں غیر احمدی صاحبان کے سامنے جب پیش کی جاتی ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ موجود ہیں حالانکہ ایسا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ بلکہ حدیث میں تو صاف طور پر یہاں تک لکھا ہے کہ:۔

انّ عیسی ابن مریم عاش عشرین و مائۃَ سنۃٍ۔ (طبرانی و مستدرک حاکم)

’’یعنی حضرت مسیحؑ ناصری ایک سو بیس سال تک زندہ رہے۔‘‘

ان حالات میں قارئین خود سمجھ لیں کہ یہ لوگ جو حدیث کو قرآن کریم پر ترجیح دیتے ہیں اور انسانی تصانیف کو قرآن کریم پر مقدم کرتے ہیں کہاں تک حق بجانب ہیں۔ نعوذ باللّٰہ من ذٰلک۔