//MITکے شعبہ سائینس کی نئی سربراہ پاکستانی نژاد نرگس ماولوالا کون ہیں؟

MITکے شعبہ سائینس کی نئی سربراہ پاکستانی نژاد نرگس ماولوالا کون ہیں؟

. امریکہ کی معروف اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے بڑی یونیورسٹی کہلائی جانے والی ایم آئی ٹی کے شعبہ سائنس کی نئی ڈین ایک پاکستانی نژاد سائنسدان کو بنایا گیا ہے۔

نرگس ماولوالا ایک ایسٹرو فزیسسٹ ہیں۔ اُن کی تعیناتی کے اعلان میں ایم آئی ٹی نے بتایا کہ انھوں نے کشش ثقل کی لہروں کا سراغ لگانے کے بارے میں نئے خیالات متعارف کروانے کی وجہ سے شہرت پائی۔

یہ کام انہوں نے لیگو (لیزر انٹرفیرومیٹر گرویٹیشنل ویو آبزرویٹوری) کی ایک اہم رکن کی حیثیت سے کیا۔ ایم آئی ٹی کے مطابق انھیں متعدد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا چا چکا ہے۔اس خبر پر پاکستان میں انھیں بہت سراہا جا رہا ہے اور اُن کا نام سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔زیادہ تر افراد نے اس پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اس بات پر فخر کیا کہ وہ پاکستانی ہیں اور ایک خاتون ہیں۔راشنہ گزدر لکھتی ہیں کہ ‘ہم پاکستان کے پارسیوں کو نرگس ماولوالا کی اس نمایاں کامیابی پر بہت فخر ہے۔‘مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر مملکت احسن اقبال نے ٹویٹ کی اور لکھا کہ ‘پاکستانی امیریکن اسٹرو فزیسسٹ نرگس ماولوالا کو مبارک ہو جو ایم آئی ٹی کی سکول آف سائنس کی نئی ڈین نامزد ہوئی ہیں۔ مجھے 2016 میں اپنے ایم آئی ٹی، امریکہ کے دورے میں اُن سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ وہ ایک غیر معمولی سائنسدان ہیں۔‘نذھت صدیقی نے اس بارے میں ٹویٹ کی کہ ‘اپنا ہاتھ کھڑا کریں اگر آپ نہیں چاہتے کہ نرگس ماولوالا کبھی یہ سوچیں کہ وہ پاکستان واپس آ کر اپنے ملک کی خدمت کریں کیونکہ یہاں بھیڑیے صرف ایسی کوشش کرنے پر بھی برباد کر دیں گے۔’

نرگس ماولوالا کی زندگی

ایم آئی ٹی کے مطابق نرگس ماولوالا پاکستان کے شہر لاہور میں پیدا ہوئیں اور اُن کی پرورش کراچی میں ہوئی۔ وہ بچپن ہی سے میکینکس میں دلچسپی رکھتی تھیں اور سائیکل کی مرمت میں مگن رہتی تھیں۔ کم عمری ہی میں وہ میتھس اور فزکس کی طرف کھینچی چلی گئیں اور اُن کے والدین نے انھیں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک کالجوں میں داخلوں کا کہا۔

ویلزلی کالج سے فزکس اور ایسٹرونومی میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1990 میں وہ فزکس میں پی ایچ ڈی کے لیے ایم آئی ٹی گئیں جہاں ان کے ایڈوائزر رینر وائیس تھے۔ رینر وائیس کشش ثقل کی لہروں کا سراغ لگانے کے لیے ایک آلے پر کام کر رہے تھے اور ماولوال نے اسے بنانے میں اُن کی معاونت کی اور یہ ہی اُن کی پی ایچ ڈی کا ایک حصہ بنا۔ سنہ 2017 میں رینر وائیس کو اس کام پر فزکس کا نوبیل انعام ملا تھا۔

نرگس ماولوالا نے اپنی اس تعیناتی کے بارے میں کہا ہے کہ ’ایم آئی ٹی دنیا میں جدید ترین سائنس کے لیے اہم جگہوں میں سے ہے اور یہ رتبہ برقرار رہے گا۔ ساتھ ساتھ ہمیں تنوع، نسلی اور سماجی مساوات کے لیے کوشش کرنی ہے۔’

ایم آئی ٹی کا نرگس ماولوالا کے حالات زندگی کے بارے میں کہنا تھا کہ ‘ماولوالا کو متعدد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں 2010 میں مک آرتھر فیلوشپ، 2014 کے لیے انھیں ایک ادارے کی جانب سے ایل جی بی ٹی کیو پلس سائنٹسٹ آف دی ایئر قرار دیا گیا۔ 2015 میں بنیادی فزکس میں اہم پیشرفت پر ایوارڈ، نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے لیے منتخب ہونے کا اعزاز، اور آئی ٹی یو پاکستان کی جانب سے لاہور ٹیکنالوجی ایوارڈ بھی شامل ہے۔اسد غفور نے ایم آئی ٹی کے اعلان والی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ایک پاکستانی خاتون فزیسسٹ دنیا کی سب سے بہترین سائنس یونیورسٹی کی سربراہ۔ اس سے بہتر اور کچھ نہیں’۔