//اسلام میں مرد و عورت کے حقوق میں مساوات
equality

اسلام میں مرد و عورت کے حقوق میں مساوات

مرد و عورت کے حقوق میں مساوات کا مسئلہ آجکل بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مغرب زدہ اصحاب اِس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اسلام میں عورت کو مرد کے مساوی حقوق نہیں دیئے جاتے۔ بلکہ اس کو ایک مشین سمجھا جاتا ہے کہ جس میں روح نہیں ہے۔ مگر یہ خیال کلیۃً باطل ہے۔ کیونکہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اس کی تردید ہوتی ہے۔ سورۂ آل عمران کے بیسویں رکوع میں آتا ہے:۔

اَنِّیْ لَا ٓ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ

’’کہ اے لوگو! مَیں جو تمہارا خالق و مالک ہوں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا خواہ وہ مرد ہو یا عورت کیونکہ تم سب ایک ہی نسل کے حصّہ دار ہو اور ایک ہی درخت کی شاخیں ہو۔‘‘

پس ثابت ہوا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مرد و عورت اپنے اعمال کی جدوجہد اور ان کے نتائج کے حصول میں برابر ہیں اور سب کے اعمال کا نتیجہ یکساں نکلنے والا ہے۔ پھر سورۂ بقرہ کے اٹھائیسویں رکوع میںمیاں بیوی کے مخصوص حقوق کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔

وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ

’’کہ جس طرح میاں کے کچھ حقوق بیوی کے ذمّہ ہیں۔ اسی طرح بیوی کے کچھ حقوق میاں کے ذمّہ ہیں۔‘‘

پس آیت مندرجہ بالا سے صاف ظاہر ہے کہ حقوق اور ذمہ واریوں کے معاملہ میں خاوند اور بیوی برابر ہیں۔ دونوں اپنی اپنی ذمہ واریوں کے متعلق پوچھے جائیں گے۔

لیکن گھریلو زندگی کے انتظامی معاملات میں اللہ تعالیٰ نے مَردوں کو عورتوں پر امیر اور نگران مقرر فرمایا کیونکہ انتظام کے لئے ضروری ہے کہ معاملہ کی باگ ڈور کسی ایک ہاتھ میں ہو۔ دُنیا کے ہر نظام کو دیکھ لیں کہ وہ کسی نہ کسی ہاتھ پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ دنیا میں جو سوسائٹی بھی ترقی کرتی ہے اس کا ضرور کوئی نہ کوئی بادشاہ، امیر یا حاکم ہوتا ہے۔ میاں بیوی بھی ایک سوسائٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کو بھی ترقی کرنے کے لئے ایک امیر پیدا ہو سکتا ہے کہ عورت کو امیر کیوں نہ مقرر کر دیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دُنیا کے دوسرے نظاموں کو چلانے کے لئے ایسے کہنہ مشق افراد تلاش کئے جاتے ہیں جو جسمانی و دماغی لحاظ سے ہر طرح اس کام کے اہل ہوں تو گھریلو زندگی کے نظام کو چلانے کے لئے جسمانی قوت و دماغی کاوشوں میں مرد سے بڑھ کر عورت نہیں ہوتی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ پس مرد کو اِس قابل سمجھا گیا کہ وہ اس کام کی نگرانی کرے۔ چنانچہ فرمایا:۔

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ (نساء رکوع 6)

یعنی گھریلو زندگی میں مَردوں کو عورتوں پر امیر اور نگران رکھا گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فطری قویٰ میں مَردوں کو فضیلت عطا کی ہے۔ اور پھر عورتوں کے اخراجات کی ذمہ داری بھی انہیں پر ہے۔ پس نیک بیویوں کو ہر حال میں اپنے خاوندوں کی فرمانبردار رہنا چاہیئے۔ لیکن اِس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اسلام میں اگرچہ امیر کو ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے مگر اس کے باوجود اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہوا ان کی خدمت کرے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔

سَیَّدُ القَوْمِ خَادِمُھُمْ

کہ قوم کا سردار اور امیر دراصل قوم کا خادم ہوتا ہے۔ پس خاوندوں کو بھی چاہیئے کہ وہ بیویوں کے حقوق کی ادائیگی میں اپنی پوری سعی سے کام لیں۔

بخاری شریف کتاب النکاح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ملتا ہے کہ:۔

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہِ وَ اَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ

’’کہ تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل کے ساتھ سلوک کرنے میں بہتر ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے مَیں تم سب میں اپنی بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والا ہوں۔‘‘

قرآن مجید میں اِس بارے میں یوں ارشاد معلوم ہوا ہے:۔

وَ عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا (سورہ النساء آیت ۲۰)

کہ اے مسلمانو! اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو ناپسند بھی کرتا ہے تو پھر بھی یاد رکھو کہ ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو مگر خدا تعالیٰ اس میں تمہارے لئے انجام کار بہت بڑی بھلائی کر رکھی ہو۔

خلاصۂ کلام یہ کہ اسلام نے مرد و عورت کے حقوق میں مساوات کے لئے بہترین تعلیم دی ہے۔ نہ اس میں افراط پائی جاتی ہے اور نہ تفریط۔ ۔