//اداریہ ماہ مئی ۲۰
lailatul qadar

اداریہ ماہ مئی ۲۰

۔ مدثرہ عباسی

 رمضان المبارک اپنی پوری برکتوں کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔ اس مبارک مہینہ میں خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل اور برکات نازل فرماتا ہے۔ اپنے بندوں کی دعائوں کو سنتا ہے اور ان کی حاجتوں اور ضرورتوں کو پورا فرماتا ہے اور انہیں قرب خاص سے نوازتا ہے۔

روزہ اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ روزہ عبادت ہے جس سے انسانی زندگی میں ایک انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے روزہ کی اہمیت کے سلسلہ میں یہ امر بھی بیان فرمایا ہے کہ سارے مذاہب اور تمام شرائع میں روزہ فرض ہوتا رہا ہے۔ گویا روزہ سارے مذاہب کی ایک مشترکہ اور بنیادی عبادت ہے۔ اسلام میں جو روزہ کی شکل ہے وہ کامل ہے اور اس سے کامل روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ تندرست اور مقیم ہونے والے ہر بالغ مرد اور عورت پر فرض ہے کہ وہ رمضان کے روزے رکھے اور ذکر الٰہی میں مشغول رہ کر دن بسر کرے۔ اسی طرح روزہ اجتماعی اور انفرادی طور پر بہت سی برکات لاتا ہے۔

رمضان المبارک سے اسلامی معاشرہ میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے روحانی و جسمانی دونوں۔ سحری کے لئے عورتیں اور مرد اٹھتے ہیں اس لئے رمضان کے ایام میں نماز تہجد کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ رمضان کے مبارک مہینہ میں تہجد کی نماز کی برکات سے بھی عام طور پر مستفید ہوتے ہیں۔

پس مومنوں کا فرض ہے کہ ہر قسم کی افراط و تفریط سے بچتے ہوئے شریعت اسلامی کے قانون کی پیروی میں رمضان المبارک کے روزے رکھ کر اس بابرکت مہینہ کی برکتوں سے وافر حصہ حاصل کریں۔

رمضان کے آخری عشرہ کے بہت سے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے ہمیں یہ عشرہ کس طرح گزارنا چاہیے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ آخری عشرہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عبادت کرتے تھے کبھی دوسرے دنوں میں نہیں دیکھی۔ ان کیفیات کو بیان کرنا انسان کی طاقت میں نہیں ہے۔ آپ ذکر الٰہی میں اپنے آپ کو گم کر دیا کرتے اور خیر کے جتنے بھی اعلیٰ پہلو ہیں مال کے علاوہ ان سارے پہلوئوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی تیزی آئی ہوتی جیسے تیز آندھی جھکڑ چل رہا ہو۔ بس یہ تیزی ذکر الٰہی کی تیزی تھی۔ خدا کی ذات میں ڈوب جانے کی تیزی تھی۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق۔ آخری عشرہ سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے نزدیک عظمت والے اور محبوب اور کوئی دن نہیں ہیں عمل کے لحاظ سے جو ان دنوں میں برکت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے تین عشروں کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ پہلا عشرہ رحمت کا، دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے۔

لیلة القدر : رمضان المبارک کی ایک مقدس رات جس کا نام لیلة القدر ہے۔ یہ رات بڑی برکتوں و رحمتوں والی اور اہمیت و عظمت کے لحاظ سے اس کا بڑا اہم مقام و مرتبہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کے متعلق مختلف قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ جو علم سے بے بہرہ ہے غلط من گھڑت طریق پر چل پڑا ہے۔

اس کے اصل حقائق قرآن و احادیث اور بزرگان دین کے واقعات کی روشنی میں لیلة القدر کے لغوی معانی یہ ہیں جو لغت عرب کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ (۱) قسمت والی رات۔ (۲) حرمت والی رات۔ (۳) قوت والی رات۔ (۴) وقار والی رات۔ (۵) سہولت والی رات اور تقدیر کی رات۔

لیلة القدر کے اصطلاحاً معانی : رمضان المبارک کی وہ رات جس میں قرآن کریم کے نزول کی ابتدا ہوئی جیسا کہ رب العزت خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔

اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ (سورۃ القدر آیت 2)

یقینا ہم نے اسے لیلة القدر میں نازل کیا ہے۔ پھر فرمایا:

وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ (سورۃ القدر آیت 3)

اور اے مخاطب ! تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ عظیم الشان رات جس میں تقدیریں اترتی ہیں کیا شے ہے۔ آیت نمبر ۲ کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ نبی کے نزول کا زمانہ رات کی طرح ہوتا ہے مگر رات ایسی جس میں آئندہ زمانہ کے متعلق خدا تعالیٰ کے فیصلے اترتے ہیں یعنی آئندہ زمانہ میں جو کچھ اس دنیا میں پیش آنے والا ہے وہ اس قرآن میں بیان کردیا ہے۔ (تفسیر صغیر صفحہ 836۔ حضرت فضل عمر)۔

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک رات جس میں اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنی خاص تجلی فرماتا ہے اور ان کو اندھیروں سے روشنی میں بدل دیتا ہے۔ جس طرح رمضان قرآن کے نزول کا مقدس مہینہ ہے اسی طرح یہ خاص رات آغاز نزول قرآن کی رات ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کی رات کو برکت والی رات قرار دیا اور فرمایا :

اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ (سورۃ الدخان آیت 4)

یعنی ہم نے اس قرآن کو ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم نے لیلة القدر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔

فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ (سورۃ الدخان آیت 5)

یعنی کہ اس رات میں ہر حکمت والی بات اور امر کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ گویا یہ فیصلوں کی رات بھی ہے۔ اس لئے اسے دعائوں اور عبادات کے ساتھ گزارنا چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہمارے حق میں ہوں اور پھر ان پر دوام اختیار کرنا چاہیے۔

پھر فرمایا :

لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ (سورۃ القدر آیت 4)

یعنی کہ لیلة القدر تو ہزار مہینے سے بھی بہتر ہے۔ اس رات کی عبادات ہزار مہینے کی عبادات سے بہتر اور اس رات کی نیکیوں سے افضل ہیں اور اس رات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا انقلاب ساری زندگی سے بہتر ہے۔ لیلة القدر کی ہی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِیهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ (سورۃ القدر آیت 5)

ترجمہ : اس رات کے فرشتے اور روح القدس بھی اللہ کے حکم سے ہر امر لے کر اترتے ہیں۔ یہ کیا ہی بابرکت اور بختوں والی رات ہے جس میں اللہ کے فرشتے اور خاص روح الامین بھی جن کا کام ہی اللہ کے نیک بندوں پر وحی و الہام کا لانا ہے۔ ہر ضروری بات لے کر نزول فرماتے ہیں تا اس رات سے مومنوں کو زیادہ فائدہ پہنچا سکیں۔ پس کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں لیلة القدر نصیب ہو اور وہ اللہ کے فرشتوں سے ہم کلام ہو رہے ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلة القدر کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے ایمان و احتساب کے ساتھ لیلة القدر کی رات عبادت میں گزاری اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔

یعنی لیلة القدر سے فائدہ اٹھانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شرائط فرمائی ہیں۔ ایک یہ ایمان صحیح، صاف اور کھرا ہو۔ دوسرا انسان اپنے نفس ایمان اور اقوال و اعمال کا محاسبہ کرکے ان کی بہتری اور اصلاح کی کوشش کر رہا ہو تب برکات لیلة القدر کو سمیٹنے والا ہوگا۔ لیلة القدر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے اور اس سے استفادہ کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔

(صحیح بخاری کتاب فضل لیلة القدر بات فضل لیلة القدر)

لیلة القدر رمضان کی کس تاریخ کو آتی ہے: اس کے متعلق متعدد متفرق روایات ملتی ہیں۔ ایک تو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہو سکتی ہے یعنی رمضان کی 21، 23، 25، 27 یا 29 ویں رات۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات کی تاریخ کو معین نہیں فرمایا ہے۔ یہ قدر کی رات مختلف سالوں میں مختلف ملکوں میں اور افراد کے لئے مختلف تاریخوں پر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ وسعت دنیا اور فرق افق کی وجہ سے بعض ممالک ایک دن پہلے روزہ شروع کردیتے ہیں کوئی دو دن پہلے۔ اس طرح ان ملکوں کی طاق راتیں اکٹھی ہو ہی نہیں سکتیں۔

لیلة القدر کی پہچان : بعض روایات بزرگان امت کی تحریر کے مطابق رات کو بارش ہوتی ہے، ہوا چلتی ہے، بجلی چمکتی ہے اور زمین و آسمان کے درمیان نور کی لہریں نظر آتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کی روحانی کیفیت کو تمام لوگ ایک ہی بار یا ہر کوئی دیکھ سکے کیونکہ یہ ایک روحانی کشفی نظارہ ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ لوگ ہر رات کے انتظار اور تلاش میں ہی رہتے ہیں۔مگر بغیر کسی ظاہری تجلی کے سارا رمضان گزر جاتا ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ پورے اخلاص کے ساتھ روزے رکھے اور سارا رمضان خلوص نیت کے ساتھ دعائوں میں لگا رہے۔ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے تا کہ اس کو کسی وقت لیلة القدر کی تجلی نصیب ہو جائے۔

لیلة القدر کے لئے خاص دعا : حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ یہ رات لیلة القدر ہے تو میں اس میں کیا مانگوں؟ جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں دعا کرنا۔ ترجمہ : کہ اے میرے اللہ تو عفو و بخشش کو پسند کرتا ہے پس تو مجھ سے بھی عفو و در گزر کا سلوک فرما۔

(جامع ترمذی کتاب الدعوت)

قیام لیلة القدر من الایمان : لیلة القدر میں تہجد کے لئے بھی ایمان سے ہی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : جو لیلة القدر میں ایمان کی وجہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اٹھتا ہے تو جو بھی گناہ اس کے پہلے ہو چکے ان سے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری باب 25 حدیث نمبر 35) امام بخاریؒ نے اس کی تشریح یوں کی ہے کہ لیلة القدر کی گھڑی پانے کی خاطر جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ نماز تہجد کے لیے اٹھنا خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ خوش دلی سے رمضان میں تہجد کے لئے اٹھنا رمضان کے روزے رکھنا یہ سب باتیں ایمان کی ہی وجہ سے میسر ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ لیلة القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ لہٰذا یہ ہزار مہینوں کے 83 سال اور 4 ماہ بنتے ہیں جو ایک انسان کی مناسب عمر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا لیلة القدر انسان کی ساری عمر سے بہتر ہے۔ کیا ہی وہ خوش نصیب انسان ہے جس کو اپنی زندگی میں لیلة القدر میسر آجائے۔ اللہ کرے ہمیں اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں یہ روحانی رات نصیب ہو جائے اور ہم ہمیشہ کے لئے عباد الرحمن میں داخل ہوجائیں۔ آمین۔

رمضان المبارک کے ختم ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کی پہلی تاریخ کو مسلمانوں کو عید منانے کا حکم فرمایا ہے۔ یہ خوشی اس لئے منائی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان المبارک کی عبادات ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ آپ نے اس خوشی کے اظہار کے لئے تمام مسلمانوں کو کسی کھلی جگہ پر جمع ہو کر دو رکعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور پھر اس نماز کے بعد جائز طور پر خوشی منائی جائے اس دن روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ البتہ عید الفطر کے اگلے دن یعنی دو شوال کو ’’ شش عید ‘‘ کے روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ اس کے چھ روزے ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان روزوں کا بھی اہتمام کیا کرتے تھے اور اس کا بڑا ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو یہ تمام برکتیں اور خوشیاں جو رمضان سے متعلق ہیں عطا فرمائے اور آئندہ بھی ایسی ہزاروں نعمتوں کا وارث بنائے۔ آمین ثم آمین