//خدا دعاؤں کو سننے والا ہے

خدا دعاؤں کو سننے والا ہے

. مسلمانوں کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ ان کا خدا دعائوں کا سننے والا ہے۔ کبھی ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ ایک طالب نہایت رقّت اور درد کے ساتھ دعائیں کرتا ہے مگر وہ دیکھتا ہے کہ ان دعائوں کے نتائج میں ایک تاخیر اور توقف واقع ہوتا ہے اس کا سرّ کیاہے ؟ اس میں یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اوّل تو جس قدر امور دنیا میں ہوتے ہیں ان میں ایک قسم کی تدریج پائی جاتی ہے۔ دیکھو ایک بچہ کو انسان بننے کے لئے کس قدر مرحلے اور منازل طے کرنے پڑتے ہیں ایک بیج کا درخت بننے کے لئے کس قدر توقف ہوتا ہے اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے امور کا نفاذ بھی تدریجاً ہوتا ہے ۔ دوسرے اس توقف میں یہ مصلحت الٰہی ہوتی ہے کہ انسان اپنے عزم اور عقد ہمت میں پختہ ہوجاوے اور معرفت میں استحکام اور رسوخ ہو۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر انسان اعلیٰ مراتب اور مدارج کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسی قدر اس کو زیادہ محنت اور وقت ضرورت ہوتی ہے ۔ پس استقلال اور ہمت ایک ایسی عمدہ چیز ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو انسان کامیابی کی منزلوں کو طے نہیںکرسکتا۔اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پہلے مشکلات میں ڈالا جاوے۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (سورة الم نشرح آیت ۷) اسی لئے فرمایا ہے۔

(الحکم جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخہ ۱۷ ؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۶)

اگر قبولیت دعا نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی ہستی پر بہت سے شکوک پیدا ہوسکتے تھے اور ہوتے اور حقیقت میں جو لوگ قبولیت دعا کے قائل نہیں ہیں ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی ہستی کی کوئی دلیل ہی نہیں ہے۔ میرا تو یہ مذہب ہے کہ جو دعا اور اس کی قبولیت پر ایمان نہیں لاتا وہ جہنم میں جائے گا۔ وہ خدا ہی کا قائل نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کی شناخت کا یہی طریق ہے کہ اس وقت تک دعا کرتا رہے جب تک خدا اس کے دل میں یقین نہ بھر دے اور انا الحق کی آواز اس کو نہ آجاوے۔

اس میں شک نہیں کہ اس مرحلہ کو طے کرنے اور اس مقام تک پہنچنے کے لئے بہت سی مشکلات ہیں اور تکلیفیں ہیں مگر ان سب کا علاج صرف صبر سے ہوتا ہے حافظ نے کیا اچھا کہا ہے شعر

گویند سنگ لعل شود در مقام صبر

آرے شود و لیک بخون جگر شود

یاد رکھو کوئی آدمی کبھی دعا سے فیض نہیں اٹھا سکتا جب تک وہ صبر میں حد نہ کردے اور اسقتلال کے ساتھ دعائوں میں نہ لگا رہے۔ اللہ تعالیٰ پر کبھی بد ظنی اور بدگمانی نہ کرے اس کو تمام قدرتوں اور ارادوں کا مالک تصور کرے یقین کرے پھر صبر کے ساتھ دعائوں میں لگا رہے وہ وقت آ جائے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعائوں کو سن لے گا اور اسے جواب دے گا۔ جو لوگ اس نسخہ کو استعمال کرتے ہیں وہ کبھی بد نصیب اور محروم نہیں ہوسکتے بلکہ یقینا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی قدرتیں اور طاقتیں بے شمار ہیں۔ اس نے انسانی تکمیل کے لئے دیر تک صبر کا قانون رکھا ہے۔ پس اس کو وہ بدلتا نہیں اور جو چاہتا ہے کہ وہ اس قانون کو اس کے لئے بدل دے وہ گویا اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتا اور بے ادبی کی جرأت کرتا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بعض لوگ بے صبری سے کام لیتے ہیں اور مداری کی طرح چاہتے ہیں کہ ایک دم میں سب کام ہوجائیں میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی بے صبری کرے تو بھلا بے صبری سے خدا تعالیٰ کا کیا بگاڑے گا۔ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ بے صبری کر کے دیکھ لے وہ کہاں جائے گا؟

میں ان باتوں کو کبھی نہیں مان سکتا اور درحقیقت یہ جھوٹے قصے اور فرضی کہانیاں ہیں کہ فلاں فقیر نے پھونک مار کر یہ بنا دیا اور وہ کردیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنّت اورقرآن شریف کے خلاف ہے۔ اس لئے ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ ہر امر کے فیصلہ کے لئے معیار قرآن ہے۔ دیکھو حضرت یعقوب علیہ السلام کا پیارا بیٹا یوسف علیہ السلام جب بھائیوں کی شرارت سے ان سے الگ ہوگیا تو آپ چالیس برس تک اس کے لئے یہ دعائیں کرتے رہے۔ اگر وہ جلد باز ہوتے تو کوئی نتیجہ پیدا نہ ہوتا۔ چالیس برس تک دعائوں میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان رکھا۔ آخر چالیس برس کے بعد وہ دعائیں کھینچ کر یوسفؑ کو لے ہی آئیں۔ اس عرصہ دراز میں بعض ملامت کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ تو یوسفؑ کو بے فائدہ یاد کرتا ہے مگر انہوں نے یہی کہا کہ میں خدا سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ بے شک ان کو کچھ خبر نہ تھی مگر یہ کہا۔ انی لاجد ریح یوسف پہلے تو اتنا ہی معلوم تھا کہ دعائوں کا سلسلہ لمبا ہوگیا ہے اللہ تعالیٰ نے اگر دعائوں سے محروم رکھنا ہوتا تو وہ جلد جواب دے دیتا مگر اس سلسلہ کا لمبا ہونا قبولیت کی دلیل ہے کیونکہ کریم سائل کو دیر تک بٹھا کر کبھی محروم نہیں کرتا بلکہ بخیل سے بخیل بھی ایسا نہیں کرتا وہ بھی سائل کو اگر زیادہ دیر تک دروازہ پر بٹھائے تو آخر اس کو کچھ نہ کچھ دے ہی دیتا ہے۔

(الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱، ۲)

دعا بڑی عجیب چیز ہے مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرانے والے آداب دعا سے واقف ہیں اور نہ اس زمانہ میں دعا کرنے والے ان طریقوں سے واقف جو قبولیت دعا کے ہوتے ہیں بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دعا کی حقیقت ہی سے بالکل اجنبیت ہوگئی ہے بعض ایسے ہیں جو سرے سے دعا کے منکر ہیں اور جو دعا کے منکر تو نہیں ان کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ چونکہ انکی دعائیں بوجہ آداب دعا کی ناواقفیت کے قبول نہیںہوتی ہیں کیونکہ دعا اپنے اصلی معنوں میں دعا ہوتی ہی نہیں اس لئے وہ منکرین دعا سے بھی گری ہوئی حالت میں ہیں ان کو عملی حالت نے دوسروں کو دہریت کے قریب پہنچا دیا ہے۔

دعا کے لئے سب سے اوّل اس امر کی ضرورت ہے کہ دعا کرنے والا کبھی تھک کر مایوس نہ ہو جاوے اور اللہ تعالیٰ پر یہ سوء ظن نہ کر بیٹھے کہ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ اس قدر دعا کی گئی ہے کہ جب مقصد کا شگوفہ سرسبز ہونے کے قریب ہوتا ہے دعا کرنے والے تھک گئے ہیں جس کا نتیجہ ناکامی اور نامرادی ہوگیا ہے اور اس نامرادی نے یہاں تک برا اثر پہنچایا ہے کہ پھر دعا کے تاثیرات کا انکار شروع ہوا اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ پھر خدا کا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اگر خدا ہوتا اور وہ دعائوں کو قبول کرنے والا ہوتا تو اس قدر عرصہ دراز تک جو دعا کی گئی ہے کیوں قبول نہ ہوئی۔

مگر ایسا خیال کرنے والا ٹھوکر کھانے والا انسان اگر اپنے عدم استقلال اور تلوّن کو سوچے تو اسے معلوم ہوجائے کہ یہ ساری نا مرادیاں اس کی اپنی ہی جلد بازی اور شتاب کاری کا نتیجہ ہیں جن پر خدا کی قوتوں اور طاقتوں کے متعلق بد ظنی اور نامرادی کرنے والی مایوسی بڑھ گئی ۔ پس کبھی تھکنا نہیں چاہیے۔