//آزادئ پاکستان کے حوالے سے ہماری نسلوں کے لیے اک پیغام اک کہانی

آزادئ پاکستان کے حوالے سے ہماری نسلوں کے لیے اک پیغام اک کہانی

. تحریر نُزہت جہاں ناز کراچی

علی پرائمری پاس کر کے سکینڈری میں آگیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس کے تعلیمی اخراجات میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوا تھا اپنے ماں باپ کا اکلوتا اور بہت ہونہار بیٹا تھا اس کے والد ایک اسٹور میں ملازم تھے ان کی تنخواہ واجبی سی تھی مگر وہ اوور ٹائم لگا کر اپنے بیٹے کو اچھے اسکول میں پڑھا رہے تھے۔

ہوا یوں کہ اسکول میں گہما گہمی بڑھنے لگی 14 اگست قریب تھی اور پرنسپل آفس سے سارے اساتذہ کو ہدایات موصول ہورہی تھیں کہ جشنِ آزادی خوب اہتمام سے منایا جائے اور اس کے لیے طلباءکے رئیس والدین کو بھی نوٹِس جاری کردیے گئے تھے جن میں ان کے شایان شان فرمائشوں کی لمبی فہرست درج تھی۔

علی نے گھر آکر وہ نوٹس امّی کو دیا اور امّی نے فکرمند ہو کر ابّا کو تھما دیا ابّا نے اک سرسری نگاہ ڈال کر اسے جیب میں رکھ لیا۔

 کچھ دن یوں ہی گزر گئے اس دوران سارے طلبإ یکے بعد دیگرے فہرست میں لکھی اشیاءاسکول والوں کی فرمائش پر لاتے رہے اب 14 اگست بالکل سر پر آگئی تھی سر نے اُس روز جب سارے طلبإ کے نام لیے تو علی اک اکیلا ایسا تھا جو اب تک کچھ نہ لایا تھا سر نے اسے سخت سست کہا اور بچوں نے مذاق اُڑایا علی بے حد حساس تھا آج اس کا دل بھی بہت دُکھا ہوا تھا اس لیئے گھر آکر وہ کچھ کھائے پیے بنا ہی بستر پر چلا گیا وقفے وقفے سے اس کی آنکھوں کے کونے بھیگتے رہے امّی سے اس کا دکھ دیکھا نہ گیا انھوں نے ابّا سے دریافت کیا تو ابّا نے صاف منع کردیا کہ جتناوہ کر رہے ہیں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کرسکتے۔

 علی ایک کونے میں افسردہ سا بیٹھا سوچ رہا تھاکہ ابّا اس سے بالکل پیار نہیں کرتے اور اب وہ جشن آزادی میں بھی شامل نہیں ہوسکتا کیونکہ وہاں سب اس کا مذاق اڑائیں گے اس کی تو قسمت ہی خراب ہے۔تب ہی اچانک دادا جی اس کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔

دادا جی جب بھی اس کے پاس آتے اس سے خوب ڈھیر ساری باتیں کرتے اس کا دل بہلاتے اس سے لاڈ کرتے مگر آج نہ جانے کیوں وہ کچھ سنجیدہ سنجیدہ سے تھے پہلے تو کچھ دیر چپ چاپ بیٹھے رہے جیسے بات کرنے کو لفظ تلاش رہے ہوں پھر گلا کھنکار کر اس سے مخاطب ہوئے ”جانتے ہو علی یہ ہمارا وطن کیوں وجود میں آیا“ علی نے ان کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔” تا کہ جو کچھ دنیا میں غلط ہوتا ہو اُسے ہم اپنے وطن میں ٹھیک کر سکیں“وہ مستحکم لہجے میں بولے” اچھاااا؟ “ علی نے حیرت سے انھیں دیکھا ” یعنی ایسا ہو سکتا ہے ہم سب کچھ ٹھیک کر سکتے ہیں؟“”کیوں نہیں “دادا جی نے لمبی ہونک بھری ” اسی لیے تو یہ وطن بنا تھا اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے کتنا ٹھیک کرسکتے ہیں“

”تو دادا جی ہم کیا کیا ٹھیک کرسکتے ہیں؟“ علی نے اشتیاق سے پوچھا”بیٹا بہت کچھ مثلاً جھوٹ، برائی، نفرت، لڑائی جھگڑا، سستی کاہلی، کنجوسی، تنگدلی، گندگی“دادا جی گِنوانے لگے”مگر ہم انھیں ٹھیک کیسے کریں گے“علی سمجھ نہیں پارہا تھا۔”تبدیل کر کے ٹھیک کریں گے جیسے جھوٹ کو سچ سے تبدیل کرکے، برائی کو اچھائی سے بدل کر، نفرت کو محبت سے، لڑائی جھگڑا صلح صفائی سے، سستی کاہلی کو محنت و مشقت سے، کنجوسی کو سخاوت سے، تنگدلی کو مہمان نوازی اور گندگی کو صفائی ستھرائی سے۔

مگر اس تمام عمل میں بہت صبر اور لگن کی ضرورت ہے اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے“ دادا جی نے سمجھایا” مگر دادا جی کتنا وقت؟ اب تو پاکستان بنے 73 برس گزر گئے مگر ابھی تک تو کچھ بھی ٹھیک نہ ہوا“

”وہ اس لیے کہ ابھی تک کسی نے اس مقصد کے لیے کوشش ہی نہیں کی جس کے لیے پاکستان بنا تھا “ دادا جی کچھ پژمردہ سے ہوگئے” مگر دادا جی سب کہتے ہیں پاکستان تو اسلام کے نام پر بنا تھا“علی نے اپنی دانست میں عقلمندی دکھائی” ہاں بیٹا تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اسلام ہے کیا؟ “ دادا جی نے نرم لہجے میں پوچھا”اسلام تو نماز روزہ حج ذکواة یہی سب سکھاتا ہے نا دادا جی “ علی سوچتے ہوئے بولا”بے شک مگر نماز روزہ حج زکوٰة مقاصد نہیں بلکہ حصول مقاصد کے زرائع ہیں۔ نماز سے وقت کی پابندی، طہارت و صفائی اور محنت و مشّقت کی عادت پروان چڑھتی ہے، روزے سے صبر اور پرہیزگاری اور نیکیوں کا شوق پیدا ہوتا ہے،زکوٰة تنگدلی دور کرتی ہے، ہمیں سخاوت ہمدردی اور مہمان نوازی سکھاتی ہے حج عاجزی، اتحاد اور جامعیت کا سبق دیتا ہے اور اس سب کے پیچھے کلمہٕ لا الٰہ الاّ اللہ یعنی اللہ پر ایمانِ کامل اور اُس کا خوف کارفرما ہوتا ہے ہر لمحہ یہ احساس کہ کوئی دیکھے نہ دیکھے وہ ہمیں دیکھ رہا ہے! یوں پھر ہمارے سارے اعمال پوری کی پوری سوچ آپ ہی آپ ٹھیک ہوتی چلی جاتی ہے اور یوں جس مقصد کےلیے پاکستان بنا تھا وہ مقصد بھی پورا ہو جاتا ہے“ دادا جی کی گفتگو حکمت سے لبریز تھی اور علی کا ذہن کم عمری کے باوجود فہم سے بھر پور اور آگہی کا دلدادہ ” مگر دادا جی یہ سب باتیں جو آپ نےبتائیں یہ تو ہمیں پاکستان میں کہیں نظر نہیں آتیں یہاں تو سب جھوٹ، بے ایمانی، نفرت، لڑائی جھگڑا، گندگی ہے آخر پاکستان کیوں ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا ؟ اب تو اسے وجود میں آئے ہوئے بھی اتنا لمبا عرصہ گزر گیا “

دادا جی نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چند لمحے غور سے دیکھا پھر دھیمے لہجے میں گویا ہوئے ” اس لیے بیٹا کہ جس بات پر آپ اتنے افسردہ سے بیٹھے تھے پاکستان کے تمام لوگوں نے بھی اسی ایک بات، اسی ایک خواہش کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا وہ سب بھی شیطان کے جھانسے میں آکر اللہ پر اعتبار چھوڑ بیٹھے ان کے لیے بھی مال و دولت کا حصول سب سے اہم ہوگیا۔

جیسے آپ کے اسکول میں بچوں کو یومِ آزادئ پاکستان کے موقع پر پاکستان اور اس کی آزادی کا اصل مقصد بتانے کے بجائے اساتذہ نے شروع سے ہی اُن کے ننھے ذہنوں کو کھیل کود اور دنیا کی پُرکشش چیزوں میں اُلجھا دیا ہے، اِس دن کو سنجیدگی سے لینے، آزادی کی قدر کرنے اور اس آزادی کو فہم و ادراک کےاحاطے میں محصور کر کے سنبھالنے کی بجائے جشنِ رنگ و طرب کا پیراہن پہنا دیا ہے تو اب ایسے میں پھر کیسے سب ٹھیک ہو؟“

دادا جی کی بات میں بڑا دم تھا علی کی افسردگی ایک دم نشاط میں بدل گئی اب اسے اپنی کم مائیگی کا احساس نہیں بلکہ اللہ کی تقسیم پر یقینِ کامل اور اپنی ذات پر مکمل اعتماد تھا دادا جی کی باتیں اس کی روح کے ذخموں پر پھاہے کا کام کرگئیں ابّا کی شفقت و مشقّت کا بھی اندازہ ہوا دل میں ایک تحریک پیدا ہوئی اور وہ ایک نئے عزم کے ساتھ کل یومِ آزادی منانے کے لیے تیار ہوگیا!….