//اداریہ ماہ جولائی اگست
editorial

اداریہ ماہ جولائی اگست

مدیرہ مدثرہ عباسی

اسلام سے قبل اور حضور کی بعثت تک عورت حسب روایت عرب سوسائٹی میں بھیانک مظالم کا شکار رہی ۔ اس ماحول میں بچیوں کا زندہ درگور کرنا قابل فخر فعل تصور کیا جاتا تھا۔ رحمۃ للعالمین ﷺکو  تو کسی انسان کی معمولی سے معمولی اور ادنیٰ تکلیف بھی ناقابل برداشت تھی آپ ﷺکی آنکھیں تو ہر کس و ناکس کی تکلیف کا سن کر امڈ آتی تھیں ۔ آنسو رواں ہو جاتے۔ آپﷺ عورت زاد پر بھلا ایسا ظلم کب برداشت کر سکتے تھے ۔ آپﷺ نے یکساں مردوں کے برابر عورتوں کے حقوق اس وقت قائم فرمائے جب عورت ایک ذلت و رسوائی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ ہم مکہ میں عورت کو کوئی عزت نہ دیتے تھے اس کی جرأت نہ تھی کہ ہمارے سامنے سر اٹھاتی۔ جب مدینہ آئے تو عورت کو اس کی عزت و احترام عطا ہوا۔ حضورؐ نے اپنے خوبصورت عائلی نمونہ اور ارشادات سے عورت کے اعزاز کو نہ صرف قائم فرمایا بلکہ اس مقام کو بلند اور مضبوط بنا دیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح )

عورت کو بحیثیت ماں آپ ﷺ نے مقام دیا اور فرمایا ماں کے قدموں تلے جنت ہے بلکہ اپنے عملی نمونہ سے اسے ثابت بھی کیا اگرچہ آپ ﷺ کی حقیقی والدہ تو آپ کے بچپن میں ہی وفات پا گئی تھیں لیکن آپ اپنی رضاعی والدہ کا بھی بہت احترام فرماتےایک دفعہ حضرت حلیمہ سعدیہ آپ ﷺ کےپاس آئیں تو حضور ﷺ ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر بھی ان کےلئے بچھائی۔

اسی طرح حضور ﷺ اپنی تمام ازواج کےلئے بہترین شوہر تھے چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لئے بہترین ہےا ور یاد رکھو میں تم میں سے اپنے اہل کے ساتھ سلوک میں سب سے بہتر ہوں ۔ ایک مرتبہ کسی سفر میں جب حضور ﷺ کے ساتھ آپ کی زوجہ بھی تھیں اونٹ کو ٹھوکر لگی تو صحابی حضور ﷺ کی طرف لپکے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا پہلے عورت کا خیال کرو۔

  عورتوں کےلئے باقاعدہ دینی تعلیم و تربیت کا نظام رائج کیا انہیں مردوں کی طرح سوال و جواب کرنے کا برابر حق عطا کیا ۔ ایک واقعہ درج کرتی ہوں جس سے زیادہ عورت کی نزاکت اور اس کا خیال رکھنے کی مثال دنیا کے کسی اور مذہب میں نظر نہیں آسکتی ۔ ایک مرتبہ آپ ؐسفر کر رہے تھے کچھ ازواج مطہرات بھی شریک سفر تھیں جو اونٹ پر سوا ر تھیں ۔ ایک ایبے سینین انجشہ نامی غلام اونٹ ہا نک رہا تھا اور ساتھ ساتھ اونٹوں کی رفتار تیز کرنے کےلئے ھدی یا نغمے بھی الاپ رہا تھا جس سے اونٹوں کی رفتاری میں تیزی آگئی۔ جب حضورؐ نے یہ دیکھا تو انجشہ کو مخاطب کر کے فرمایا قواریراً قواریراً اے انجشہ دیکھنا یہ تو ’’آبگینے ‘‘ (یعنی شیشے ) ہیں جو اونٹوں پر سوار ہیں ۔( دیکھنا کہیں ٹوٹ نہ جائیں) ۔ یعنی اونٹوں کو آرام سے چلاؤ ، بھگاؤ نہیں مبادا کسی خاتون کو کوئی تکلیف کا سامنا کرنا پڑجائے۔ (مسلم بخاری )

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ؓ نے اس مضمون کو بڑے خوبصورت انداز میں منظوم کیا ہے ، وہ پیش ہیں؎

رکھ پیش نظر وہ وقت بہن ! جب زندہ گاڑی جاتی تھی

گھر کی دیواریں روتی تھیں ، جب دنیا میں تو آتی تھی

جب باپ کی جھوٹی غیرت کا ، خوں جوش میں آنے لگتا تھا

جس طرح جنا ہے سانپ کوئی، یوں ماں تیری گھبراتی تھی

یہ خون جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے

جو نفرت تیری ذات سے تھی ، فطرت پر غالب آتی تھی

کیا تیری قدرو قیمت تھی؟ کچھ سوچ! تری کیا عزت تھی

تھا موت سے بدتر وہ جینا قسمت سے اگر بچ جاتی تھی

عورت ہونا تھی سخت خطا، تھے تجھ پر سارے جبر روا

یہ جرم نہ بخشا جاتا تھا ، تا مرگ سزائیں پاتی تھی

گویا تو کنکر پتھر تھی ، احساس نہ تھا جذبات نہ تھے

توہین وہ اپنی یاد تو کر ! ترکہ میں بانٹی جاتی تھی

وہ رحمت عالم آتا ہے ، تیرا حامی ہو جاتا ہے

تو بھی انسان کہلاتی ہے ، سب حق تیرے دلواتا ہے

ان ظلموں سے چھڑواتا ہے

بھیج درود اس محسن پر تو دن میں سو سو بار

پاک محمدؐ مصطفیٰ نبیوں کا سردار

اللھم صلّ علیٰ محمد ٍوعلیٰ اٰل محمدٍ و بارک وسلم انک حمیدٌ مجید