//تاریخی معلومات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
tareekh_muhammad

تاریخی معلومات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

سلسلہ وار (پہلی قسط)

مطابق 20 اپریل 571ء یوم دو شنبہ9 ربیع الاوّلولادت
مطابق 20 ستمبر 622ء8 ربیع الاوّلہجرت
مطابق 8 جون 633ء 12 ربیع الاوّلرحلت
 63 سالمدّت عمر 
23 سالمدّت نبوت 

اسلام کی بعثت کو آج چودہ سو سال کا زمانہ ہوتا ہے۔ بعض قومیں اِس عرصہ میں پُوری طرح قائم بھی نہ ہوئی تھیں، بعض اِس عرصہ میں اُبھریں بِگڑیں اور بالکل ختم بھی ہو گئیں۔ لیکن اسلام پر اس عرصہ میں اگرچہ بے شمار مدوجزر آئے لیکن وہ اب تک زندہ اور باقی ہے اور تا قیامت باقی رہے گی۔

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِہِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْن

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عرب میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو بُت پرستی اور توہم پرستی کو برا سمجھتے تھے۔ مثلاً قیس بن ساعدہ، ابو سعید بن زید، ورقہ بن نوفل وغیرہ۔ اس زمانہ میں عرب کی اخلاقی حالت نہایت پست تھی۔ کعبہ ان کا مرکزی بُت خانہ تھا جس میں انہوں نے 360 بُت کھڑے کر رکھے تھے۔ سیاسی حیثیت سے یہ لوگ خود مختار تھے۔ بعض چھوٹی چھوٹی حکومتیں بھی تھیں لیکن کسی کو تاجدارانہ حیثیت حاصل نہ تھی۔ یہ لوگ متعدد قبائل میں منقسم تھے۔ اور انہیں قبائل میں سے ایک قبیلہ قریش تھا جسے سیادتِ مکّہ حاصل تھی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اسی قبیلہ سے تھا۔ حضور انورؐ کے خلفاء راشدین اور حضورؐ  کی 5 بیویاں آپؐ کے ہم کفو تھیں۔ دیکھوشجرہ:

july_holyprophet_1

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مکہ میں ہوئی۔ والد کا نام عبد اللہ بن عبد المطلب تھا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا سِلسلۂ نسب عدنان تک پہنچتا ہے جو آل اسمٰعیل ؑ سے تھا۔ والدہ کا نام آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب تھا۔ والد کے انتقال کے دو ماہ بعد حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور حلیمہ بنت ابی ذوئیب السعدیہ کے پاس رضاعت و پرورش کے لئے بھیج دیئے گئے۔ ان کا قبیلہ بنی سعد فصاحت و بلاغت میں سارے عرب میں مشہور تھا۔ حذاقہ اور انیسہ حضورؐ کی رضاعی بہنیں اور عبد اللہ و شیما رضاعی بھائی تھے۔ جناب حلیمہ سعدیہ اور ان کے شوہر حارث کا مسلمان ہونا ثابت ہے۔

جب حضورؐ   کی عمر 4 سال کی ہوئی تو حضورؐ اپنی والدہ کے پاس تشریف لے آئے مگر دو سال کے بعد جناب آمنہ کا انتقال ہو گیا اور ام ایمن جو جناب آمنہ کی ایک کنیز تھیں حضورؐ    کو لے کر مکہ آ گئیں۔ حضور انورؐ کے والد کی قبر مدینہ میں اور والدہ کی قبر ابوا میں ہے۔ والدہ کے انتقال کے بعد حضورؐ اپنے دادا عبد المطلب کی نگرانی میں آئے۔ دو سال کے بعد دادا جان بھی 82 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اور حجون میں دفن ہوئے۔ اب حضورؐ اپنے چچا ابو طالب کی کفالت میں آ گئے۔

13 سال کی عمر میں حضورؐ نے اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ شام کا سفر فرمایا۔ پھر 25 سال کی عمر میں دوبارہ جناب خدیجہ بنت خویلد کا سامانِ تجارت لے کر شام کی طرف تشریف لے گئے اور واپسی پر جناب خدیجہؓ نے حضورؐ کے ساتھ نکاح کر لیا۔ حضرت خدیجہؓ  کی عمر اس وقت 40 سال کی تھی۔ ان کے بطن سے 3 لڑکے اور 3 لڑکیاں پیدا ہوئیں:۔

لڑکے: قاسم، عبد اللہ اور ابراہیم۔ صغرسنی میں فوت ہو گئے۔اور

لڑکیاں:۔ زینب، رقیّہ، ام کلثوم اور فاطمۃ الزہرا۔ جوان ہوئیں اور بیاہی گئیں۔

جب حضور انورؐ  کی عمر 40 سال کی ہوئی تو حضورؐ منصبِ نبوت پر فائز ہوئے اور دعوتِ اسلام کا کام شروع فرمایا۔ ابتداء میں مَردوں میں سے سب سے پہلے حضرت ابوبکرؓ بن قحافہ، عورتوں میں حضرت خدیجہؓ بنت خویلد، لڑکوں میں حضرت علیؓ بن ابو طالب اور غلاموں میں زیدؓ بن حارث ایمان لائے۔بعض مؤرخین کا قول ہے کہ مَردوں میں سب سے پہلے حضرت علیؓ بن ابو طالب ایمان لائے تھے مگر ایمان کا اعلان مَردوں میں سے سب سے پہلے حضرت ابو بکرؓ بن قحافہ نے کیا۔ حضورؐ نے 50 سال کی عمر سے لے کر 63 سال کی عمر تک 13 عورتوں سے شادی فرمائی جن کے نام یہ ہیں:۔

خدیجۃ الکبریٰ  ؓ ، سودہؓ بنت زمعہ، عائشہؓ بنت ابوبکرؓ، حفصہؓ بنت عمرؓ، زینبؓ، امّ سلمہؓ، زینبؓ بنت جحش ، امّ حبیبہؓ ، جویریہؓ، میمونہؓ، صفیہؓ، عمرہؓ بنت یزید، اسماءؓ بنت نعمان

ان میں سے عمرہ بنت یزید اور اسماء بنت نعمان کو خلوت سے پہلے طلاق دیدی۔ چنانچہ تاریخ الخمیس میں عمرہ بنت یزید کے متعلق لکھا ہے کہ:۔

یری بھا بیاضًا فقال دلستم علیّ فردَّھا۔

گویا حضور انورؐ نے اس کے بدن پر سفید داغ دیکھے اور فرمایا کہ تم نے مجھے دھوکا دیا ہے اور اسکو واپس فرما دیا۔ اسماء بنت نعمان کے متعلق بخاری شریف میں حدیث موجود ہے کہ:۔

لمّا دخلت علی رسول اللہ صلعم و دنا منھا فقالت اعوذ باللہ منک۔

گویا اس نے آپؐ سے پناہ مانگی۔ اِن ہر دو واقعات کے بعد یہ آیت نازل ہوئی:۔

لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَالَمْ تَمَسُّوْ ھُنَّ۔

بعض بیویاں زیادہ بوڑھی ہو گئی تھیں۔ مثلاً میمونہؓ اور سودہؓ وغیرہ۔ حضرت سودہؓ   سکران بن عمر کی زوجہ تھیں۔ سکران حبش جا کر پھر عیسائی ہو گیا اور ہجرت نبوی سے 3 سال قبل مکّہ واپس آ کر جلد ہی مر گیا۔ ادھر حضرت خدیجۃ الکبریٰ کا انتقال ہو چکا تھا اس لئے حضورؐ نے سودہؓ   کو اپنے حبالہ عقد میں لے لیا۔ اِس نکاح کے 11 سال بعد سودہؓ بہت ضعیف ہو گئی تھیں اور جسم میں غیر معمولی فربہی آ گئی تھی اس لئے وہ ڈرتی رہتی تھیں کہ عرب کے عام رسم و رواج کے مطابق رسول اللہؐ انہیں طلاق ہی نہ دیدیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہؓ کے حق میں معاف کر دیا تا کہ طلاق سے بچ جائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:۔

اِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَھُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَیْرٌ۔

بیویوں میں حضرت اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ صدّیقہؓ سے زیادہ محبت تھی۔ آپ 18 سال کی عمر میں بیوہ ہوئیں۔