//ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ (قسط اوّل)

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ (قسط اوّل)

.

فضائل

حضرت امّ سلمہؓ کو رسول اللہﷺکے ساتھ سب سے زیادہ غزوات میں شرکت کا شرف نصیب ہوا۔صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہﷺ نے جب صحابہؓ کو اسی میدان میں قربانیاں ذبح کرنے کا حکم دیا اور وہ غم کے مارے سکتہ کے عالم میں تھے تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت امّ سلمہ سے مشورہ کرکے اپنی قربانی ذبح کردی جس کی برکت سے تمام صحابہؓ نے فورا ً قربانیاں ذبح کردیں۔حضرت امّ سلمہؓ نے رسول اللہﷺکے ارشاد پرخواتین کو نماز میں پہلی دفعہ امامت کروائی۔

نام و نسب

حضرت ام ّ سلمہ  کا اصل نام ہند بنت ابی امیہ زیادہ معروف تھا۔ اگرچہ بعض روایات میں رملہ بھی مذکور ہے۔ آپؓ اپنے بیٹے سلمہ کی وجہ سے ام سلمہؓ کی کنیت سے مشہور تھیں۔ان کے والد کا نام سہیل اوربعض روایات کے مطابق حذیفہ بیان کیا جاتا ہے جن کی کنیت ابو امیہ تھی۔وہ پورے عرب میں اپنی سخاوت کی وجہ سے”زادالراکب” کےلقب سے مشہور تھے یعنی مسافروں کو زادِ راہ مہیا کرنے والے۔سہیل اپنے ہم سفروں کی مہمان نوازی اور میزبانی کابہت خیال رکھتے تھے یہاں تک کہ انکے ہمراہیوں کو زادِ راہ ساتھ لانے کی ضرورت نہ ہوتی۔ وہ خودان سب کے لئے مہمان نوازی کے جملہ انتظام اس شوق سے کرتے کہ ان کا لقب ہی “زاد الراکب” پڑ گیا۔ گویا وہ مسافر وں کے لئے مجسّم زادراہ ہیں۔

حضرت ام ّ سلمہ  کے والد کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو مخزوم سے تھا۔ والدہ عاتِکہ بنت عامر بھی قریش کی شاخ میں سے تھیں۔بعض روایات میں ان کا نام عاتکہ بنت عبد المطلب مذکورہے یہ دراصل آپؓ کی سوتیلی والدہ کا نام تھاجو آنحضورﷺ کی پھوپھی تھیں۔ ان سےآپؓ کے دو بھائی عبداللہ اور زھیر تھے۔

ہجرت حبشہ و مدینہ

 حضرت ام ّ سلمہ  نے اپنے شوہر حضرت ابو سلمہ  کے ساتھ ابتدائی زمانہ میں اسلام قبول کرنے کی توفیق پائی، مصائب و مشکلات کے ابتدائی مکّی دو ر میں جب حضورﷺ نے اپنے اصحاب کو پہلی دفعہ ہجرت کی اجازت دی تو حضرت ام ّ سلمہ  کو اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ ہجرت کرنے کی سعادت عطا ہوئی۔حبشہ سے مکہ واپس آئیں تودوبارہ مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔ اس موقع پر ایک بہت بڑا ابتلاء بھی آپ کو پیش آیا۔جس میں آپؓ نے کمال استقامت کا نمونہ دکھایا اور اللہ تعالیٰ نےآپ کو سرخروفرمایا۔

واقعہ یوں ہوا کہ حضرت ابوسلمہ اپنے بیٹے سلمہ اور بیوی ام ّ سلمہ  کے ساتھ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جانے لگے توامّ سلمہ  کے قبیلہ کے لوگوں نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو تمہارے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔یوں ابو سلمہؓ بیوی بچوں کی قربانی دے کر تن تنہا ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے۔کچھ عرصہ بعد حضرت ابو سلمہ  کے اہل خاندان نے مطالبہ کیا کہ سلمہ ہمارے بیٹے کی اولاد ہےجس پر ہمارا حق ہے اس لئےوہ ہمیں دے دیا جائے۔سلمہ اس وقت کم سن بچہ تھا۔ جسے انہوں نے حضرت امّ سلمہؓ سے چھین کرالگ کرلیا۔حضرت ام سلمہ کو اپنے خاوند اور معصوم بچے سے جدا ئی کا یہ عرصہ نہایت بے چینی اور اذیت میں گزارناپڑا۔بالآخر ایک سال کے بعد حضرت ابو سلمہؓ کے گھر والوں نے ماں کوبچہ واپس کیا اور حضرت امّ سلمہؓ اسے لیکر اپنے شوہر کے پاس مدینہ پہنچ گئیں۔ حضرت ام ّ سلمہ  کو یہ دوہری سعادت بھی عطاہوئی کہ دو ہجرتوں کی توفیق پائی۔پہلی ہجرت، حبشہ کے دُور دراز ملک میں اور دوسری مدینہ کی طرف۔آپؓ کو پہلی ہجرت کرنے والی خاتون بھی کہاجاتاہے۔ شاید اس لئے بھی کہ تنہا ہجرت کرکے مدینہ آئیں۔ جبکہ ایک اور روایت کے مطابق حضرت لیلیٰؓ بنت خثیمہ زوجہ عامر بن ربیعہؓ بھی اس اوّلیت میں آپؓ کی شریک ہیں۔ حضرت ابوسلمہ سے آپؓ کی اولاد میں سلمہ اور عمر دوبیٹے اور دُرّہ اور زینب دو بیٹیاں تھیں۔

پہلے شوہر کی وفات

حضرت امّ سلمہؓ کے پہلے شوہرحضرت ابوسلمہ آنحضرتﷺ کے انتہائی وفاشعار صحابہ میں سےتھے۔انہوں نے غزوہ بدر میں شامل ہونے کی توفیق پائی اور شجاعت کے جوہر دکھائے، غزوہٴ احد میں بھی حضورؐ کے ساتھ کمال وفا اور اخلاص کے ساتھ شرکت کی۔ اور استقامت کا نمونہ دکھایا۔

غزوہ اُحد میں حضرت ابو سلمہؓ کو ایک بہت گہرا زخم بازو پرآیا تھاجوایک عرصہ تک مندمل نہ ہوا۔ تقریبا ً ایک ماہ کے علاج سے اچھاہوا۔ تیسرے سالِ ہجرت کے آخر میں حضورﷺ نے حضرت ابوسلمہ کوڈیڑھ سو سواروں کا امیر مقرر کرکے قطن کے پہاڑ کی طرف ایک مہم پر بھجوایا۔ ایک مہینہ کے قریب آپؓ اس مہم پر رہنے کے بعد مدینہ واپس لوٹے تو دوبارہ وہی زخم ہرا ہوگیا۔ بالآخراسی بیماری میں چوتھے سال ہجرت میں آپؓ کی وفات ہوئی۔

آنحضرتﷺ کا اپنے وفا شعار رفیق حضرت ابوسلمہ سے بہت ہی محبت اور پیار کا تعلق تھا۔ ان کی وفا ت پر حضورﷺ بنفس نفیس ان کے گھرتعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔ آپؐ نے وہاں موجود لوگوں سے فرمایا کہ ابو سلمہ کے لئے یہ دعا کریں کہ

اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِى سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِى الْمَهْدِیینَ وَاخْلُفْهُ فِى عَقِبِهِ فِى الْغَابِرِینَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ یا رَبَّ الْعَالَمِینَ وَافْسَحْ لَهُ فِى قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِیهِ

یعنی اے اللہ ان کو بخش دے اور ان پر رحم کر اور ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کا درجہ بلند کردے۔ ان کے پیچھے رہنے والوں میں توخود ان کا جانشین ہوپھرآپؐ نے یہ دعا کی کہ “اے اللہ! ان کی قبر کو کشادہ کر اور اس میں ان کے لئے نور بھردے “

رسول اللہﷺ کی اس دعا سےاپنے اس وفا شعار صحابی کے ساتھ آپؐ کی گہری محبت کا بھی پتہ چلتاہے جو حضورﷺ کو تھی۔حضرت ابوسلمہ کی وفات کے بعد طبعاً آنحضرتﷺ کو ان کی بیوہ اور بچوں کی کفالت کے بارہ میں بھی فکرتھی۔ہمدردی کا یہی جذبہ آپؐ نے اپنے صحابہ میں بھی اجاگرکردیاتھا۔چنانچہ حضرت ابوسلمہ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے حضرت ام ّ سلمہ  کو شادی کا پیغام بھیجا اور حضرت عمر نے بھی۔ لیکن حضرت ام ّ سلمہ  نے مختلف وجوہات کی بناء پر معذرت کرلی۔

حضرت ابو سلمہؓ کے اخلاق فاضلہ

 حضر ت ام سلمہؓ فرمایاکرتی تھیں کہ میرے میاں ابو سلمہ بہت محبت اور احسان کرنے والے شوہر تھے۔ ایک دفعہ گھریلوماحول میں میری ابو سلمہ سے یہ بات ہوئی کہ کہتے ہیں اگر میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہوجائے اور وہ جنتی ہو اور بعد میں اس کا ساتھی شادی نہ کرے تو وہ جنت میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ کیا آپ معاہدہ کرتے ہوکہ ہم دونوں میں سے اگر کوئی پہلے فوت ہوجائے تو جو پیچھے رہ جائے گا وہ شادی نہیں کرے گا۔ حضرت ابوسلمہ نے حضرت امّ سلمہؓ سے پوچھا کہ پہلے تم بتاوٴ کہ کیاتم اس کے لئے تیار ہوکہ اگر میں پہلے فوت ہوجاوٴں تو تم بعدمیں کسی سے نکاح نہیں کروگی۔انہوں نے کہا کہ میں تو ازخود یہ تجویز بہت سوچ سمجھ کر دے رہی ہوں کہ آپ کی وفات کے بعد میں نکاح نہیں کروں گی۔ خواہ آپ کی خاطر بیوگی کا لمبا زمانہ ہی کیوں نہ کاٹنا پڑے۔ ابو سلمہ نے کہا توپھر سُنومعاہدہ یہ ٹھہرا کہ اگر پہلے میں مرجاوٴں تو تمہیں لازماً نکاح کرناہوگا۔ تمہارے بعد میں نکاح کروں یا نہ تمہیں ضرور شادی کرنی ہوگی۔ پھر انہوں نے یہ دُعا کی کہ اے اللہ ! اگر پہلے میری وفات ہوجائے تو امّ سلمہ کو مجھ سے بھی بہترشخص عطافرمانا، تاکہ اسے کوئی پریشانی اور تکلیف نہ ہو، اوروہ اسے بہت آرام سے رکھے۔ حضرت امّ سلمہ فرماتی ہیں کہ جب ابو سلمہ فوت ہوئے توآنحضرتﷺ نے مجھے خاص طور پر صبر کی نصیحت کی۔ حالانکہ میں نے اس وقت یہ سوچا تھا کہ ہم ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ آئےہیں۔یہاں غریب الوطنی کی حالت میں میرے شوہرکی وفات ہو رہی ہے۔ میں ابوسلمہ کا ایسا بین کرونگی جو دنیا ایک زمانے تک یاد رکھے گی کہ کسی بیوی نے شوہر کی وفات پر بَین کئے تھے، اس کے لئے میں نے اپنی ایک سہیلی کو بھی کہہ رکھا تھا کہ تم بین کرنے میں میری مدد کرنااور وہ بے چاری میری خاطر آبھی گئی مگر ادھر آنحضرتﷺ نے اس مؤثّر انداز میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایاکہ اے امّ سلمہؓ ! کیا تم اس شیطان کو اپنے گھر میں داخل کروگی جسے اللہ تعالیٰ نے نکالا ہے ؟یہ بات آنحضرتﷺ نے دو مرتبہ دوہرائی جس پر حضرت امّ سلمہؓ نےسب رونا دھوناایسےبند کیا کہ پھر نہیں روئیں۔حضورﷺ نے مزید فرمایا کہ کسی بھی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اس پر صبر کرتے ہوئے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَیهِ رَاجِعُونَ کہے۔ (یعنی ہم اللہ کے ہی ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) اور پھر اس کے بعد یہ دعا کرے کہ اَللّٰهُمَّ أَجُرْنِى فِى مُصِیْبَتِى وَأَخْلِفْ لِى خَیرًا مِنْهَا۔ یعنی اے اللہ میری اس مصیبت میں میرے صبر کا اجر مجھے عطا کرنا۔ اور اس سے بہتر بدلہ مجھے دینا،تو اللہ تعالیٰ غیر معمولی طورپر اسے بہترین بدلہ عطافرماتاہے۔ حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ ابوسلمہ کی وفات کے بعد میں حیران ہوکر سوچتی تھی کہ ابو سلمہ سے بہتر بھی کوئی ہوسکتاہے ؟ وہ تو ایک عظیم انسان تھے، ان سے بہتر کوئی کیسے ہوسکتاہے؟ فرماتی ہیں دعا کرتے ہوئے اس فقرہ پر آکرمیں رک جاتی کہ ’’ان(ابوسلمہؓ) سے بہتر مجھے عطاکردے‘‘ لیکن آنحضرتؐ کی نصیحت کی بدولت اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ ہمّت اور توفیق دے دی اور میں نے یہ دعابھی کی پھریہ دعا ایک عجیب معجزانہ رنگ میں بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آنحضرتﷺ عطافرمادئیے۔

رسول اللہﷺ کے ساتھ شادی

4ھ میں حضرت ام سلمہؓ کی عدت گزر جانے کے بعد حضورﷺنے انہیں شادی کاپیغام بھجوایا۔ حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ حضورﷺکا یہ پیغام لے کر حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے اپنی بعض مجبوریوں کا ذکر کیا کہ اوّل تو میں ایک عیالدار عورت ہوں۔ میرے ساتھ چار بچے ہیں۔ حضورؐ جیسے معمورالاوقات وجود کے عقد میں آکر میں ان کے لئے پریشانی کا موجب ہی نہ بن جاوٴں۔ دوسرے یہ کہ میں بہت غیور عورت ہوں۔ حضورﷺ کے حرم میں پہلے سے متعدد ازواج ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ میں دیگر ازواج کے ساتھ غیرت کا کوئی ایسا نامناسب اظہار نہ کر بیٹھوں جو حضورﷺ کے لئے تکلیف کا موجب ہو۔ تیسرے میراکوئی بالغ ولی اس موقع پر موجود نہیں جو میرا نکاح کرسکے۔ حضرت عمر  کو حضرت امّ سلمہ کے اس جواب کا پتہ لگا تو انہوں نے اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا اے امّ سلمہ ! کیاآپ آنحضورؐ کا پیغام ردّ کروگی؟ حضرت ام سلمہ نے پھر اپنی مجبوریاں دہرا دیں جن کے جواب میں آنحضرتﷺ نے یہ تسلی بخش پیغام حضرت ام سلمہ کو بھجوایا کہ جہاں تک تمہاری عیالداری کاتعلق ہے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولؐ تمہارے بچوں کی کفالت کے ذمہ دار ہیں۔ باقی جہاں تک تمہاری طبعی غیرت کاتعلق ہے ہم دعاکریں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ناواجب غیرت دور کردے۔ رہی یہ بات کہ آپ کا کوئی ولی موقع پر موجو د نہیں تو خاطر جمع رکھیں کہ یہ نکاح تمہارے اولیاء میں سے کسی کو بھی برا نہیں لگے گا اور سب اسےبخوشی قبول کریں گے۔باقی ولایت نکاح اور ایجاب و قبول کے لئے توتمہارا کم سن بیٹا بھی کافی ہے۔حضرت امّ سلمہؓ نے ایک عذریہ بھی پیش کیا کہ میں شادی کی عمرکے لحاظ سے میں عمر رسیدہ عورت ہوں۔رسول کریمﷺنےفرمایاکہ میری نسبت پھر بھی تمہاری کم ہےاس وقت رسول اللہﷺ کی عمر57برس تھی۔ دراصل آنحضورﷺ کے حضرت امّ سلمہؓ سے عقد کی وجہ ایک تو ان کی ذاتی خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے وہ ایک شارع نبی کی بیوی بننے کی اہل تھیں۔دوسرے وہ ایک بلندپایہ صحابی کی بیوہ تھیں اور صاحب اولاد تھیں جن کی وجہ سے ان کا خاص انتظام ضروری تھا۔ان کے شوہر حضرت ابو سلمہؓ رسول اللہﷺ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔اس لئے بھی حضورؐ نے ان کے پسماندگان کا خیال رکھا۔ چنانچہ حضرت ام سلمہؓ کے بیٹے عمر رسول اللہﷺ سےنکاح کے لئے اپنی والدہ کے ولی بنے۔یہ شادی بہت سادگی کے ساتھ ہوئی۔حضورﷺ نےام سلمہؓ سے فرمایا کہ میں نے فلاں بی بی کو جوکچھ دیا تھا بلا کم وکاست وہ آپ کو بھی دوں گایعنی آٹا پیسنے کی دوچکی، دو گھڑےاورگدیلا جس کے اندر کھجور کے نرم ریشے بھرے تھے۔حضرت امّ سلمہ نے محض للہ ایثارو اخلاص کے ساتھ یہ مقدّس رشتہ قبول کیاتھا اس میں کسی دنیوی طمع یا حرص کو دخل نہ تھا۔ چنانچہ حضرت ام ّ سلمہ  سے رشتہ کے لئے بات چیت کے دوران جب حضورؐ نے فرمایا کہ اگرآپؓ (دیگر ازواج کے مقابل پر) حق مہر میں اضافہ چاہیں تو ہم وہ بھی بڑھا دیں گے۔ حضرت ام سلمہؓ نے کسی مرحلہ پر اس پیشکش سے بھی کوئی استفادہ پسند نہ کیا۔

رسول کریمﷺ کی صاحبزادی حضرت امّ کلثوم  سے روایت ہے کہ حضرت امّ سلمہ سے شادی کے موقع پر آنحضرتﷺ نے حضرت امّ سلمہ سے فرمایا کہ میں نے نجاشی شاہ حبشہ کوجو تحائف بھجوائے ان میں مشک(کستوری)، خوبصورت لباس اور چادریں شامل تھیں۔ اب جب کہ نجاشی کی وفات ہوگئی ہے وہ تحائف لا محالہ واپس آجائیں گےاور وہ میں تمہیں تحفہ میں دے دوں گا۔پھر وہ تحائف واپس آنے پر آپؐ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا۔دیگر ازواج کو بھی اس موقع پر آنحضرتﷺ نے ایک ایک اوقیہ مشک عطا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نےحضرت ام سلمہؓ کے حق میں رسول اللہﷺ کی خاص دعا ایسے عجیب رنگ میں قبول فرمائی کہ ان کی ناواجب طبعی غیرت جاتی رہی۔ حضرت امّ سلمہ بیان کرتی ہیں کہ شادی کے بعد آنحضرتﷺ جب میرے ہاں تشریف لائے تو پہلے دن میں نے آپؐ کے لئے جَو کے کچھ ستّو اور کھانا وغیرہ تیار کرکے پیش کیا۔ اس موقع پر بھی حضرت امّ سلمہ کی ناواجب غیرت کے دور ہونے سے متعلق رسول اللہؐ کی قبولیت دعا کا عجیب نظارہ سامنے آیا۔ حضورﷺ نےحضرت امّ سلمہ کو شادی کے معًابعد دیگر ازواج کے ساتھ باری کے لئے اختیار دیااور فرمایا کہ آپ کو اپنے خاوند کے ہاں ایک عزت کا مقام حاصل ہے۔ اگر پسند کرو تو میں شادی کےمعًا بعد کے مسلسل سات دن تمہارے ہاں قیام کرتا ہوںمگر پھر اسی قدر قیام دیگر ازواج کےپاس کرنے کےبعد تمہاری باری آئیگی اور اگر آپ چاہو تو ایک دن قیام کے بعد باری بدل جائے اور پھر دیگر ازواج کی ایک ایک دن کی باری کے بعدجلد آپ کی باری پھرلوٹ آئے گی۔حضرت امّ سلمہ نے شادی کے معا ًبعد بجائے اکٹھےسات دن کا مطالبہ کرنے کے پہلے دن کے بعدہی باری کی تبدیلی قبول کرلی۔

مسابقت فی الخیرات

حضرت امّ سلمہ میں مسابقت فی الخیرات کی روح خوب پائی جاتی تھی۔ایک دفعہ آنحضرتﷺ نے اپنے گھر میں اپنی صاحبزادی حضرت فاطمة الزھراء ، داماد حضرت علی  اور ان کے بچوں کو اپنی اوڑھنے کی چادر میں لے کران کے لئے دعاکی کہ اے اہل بیت !تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ اس موقع پر حضرت امّ سلمہ نے عرض کیا یارسول اللہؐ ! کیا ہم اہل بیت نہیں؟ہمارے لئے بھی یہ دعا کر دیں۔آنحضرتؐ نے فرمایا ’’اے امّ سلمہ !تم اور تمہاری بیٹی بھی اہل بیت میں شامل ہو‘‘

ایسا ہی دوسرا واقعہ حضرت ابو موسیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بارآنحضرتﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان جعرانہ مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ کچھ بدّو آئے اور آنحضورؐ سے کچھ مانگا۔ حضورؐ نے فرمایا “اس وقت تو میں سب کچھ تقسیم کرچکاہوں لیکن تمہیں خوش خبری ہو کہ انشاء اللہ آئندہ کسی وقت تمہاری ضروریات بھی پوری کی جائیں گی” انہوں نے کہا کہ آپؐ تو بس آئندہ کے لئے ہی بشارتیں دیتے رہتے ہیں۔ آنحضرتؐ نےاس موقع پر موجود اپنے صحابہ حضرت بلال اورحضرت ابو موسی سے فرمایا “یہ لوگ ہماری بشارت قبول نہیں کرتے۔ تم یہ بشارت قبول کرو” پھر حضورؐ نے پانی پی کر کچھ تبرک اپنے ان صحابہ کو عطافرمایا۔حضرت ام سلمہ کے دل میں رسول اللہﷺ کی سچی محبت تھی اور ایک معرفت و یقین کے ساتھ انہیں ایسی روحانی برکات کی دلی تمنا ہوتی تھی۔ وہ پردہ کے پیچھے سے بولیں” اے بلال! اپنی ماں کے لئے بھی اس بابرکت پانی میں سے کچھ بچالینا” پھر اس برکت والے پانی سے انہوں نے بھی حسب خواہش حصہ پایا۔اس واقعہ سے ان کے ادب واحترامِ رسولؐ کا بھی خوب اندازہ ہوتا ہے۔حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ آنحضرتﷺ عصر کی نماز پڑھنے کے بعد تمام ازواج کے گھروں میں (جو ایک ہی حویلی میں تھے) باری باری حال دریافت کرنے کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ اس کا آغاز آپؐ حضرت امّ سلمہ سے کرتے تھےاور یوں عمر میں بڑی بیو ی کا ایک احترام بھی باقی ازواج کے مقابل پر آپؐ نے قائم کروایا۔اگرچہ حضرت سودہؓ حضرت ام سلمہؓ سے زیادہ عمر رسیدہ تھیں مگرانہوں نے اپنی باری حضرت عائشہؓ کو دےدی تھی۔

(باقی آئندہ شمارہ میں ملاحظہ فرمائیں)

(بحوالہ اہل بیت رسول ﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)