//گھنگریوں والا پراندہ
Ghungru

گھنگریوں والا پراندہ

تحریر مُبشرہ نازجرمنی

بڑا شوق تھا اسے بننے سنورنے کا اور پھر پراندہ پہننے کا وہ بھی گھنگریوں والا پراندہ۔۔۔! چوڑیاں تو کبھی باہوں سے اُتری ہی نہ تھیں ہر دوسرے دن مہندی سے ہاتھ رنگ لیتی۔۔۔! امّاں سے سارا دن جھڑکیاں کھاتی اور گھر کے کام کرتی جاتی۔۔۔! لڑکی ذات اور یہ چونچلے یہ لچھن۔۔۔! لوگ کیا کہیں گے۔۔۔؟ ارے امّاں لوگوں کا کیا ہے لوگوں کو تو بہانہ چاہیئے باتیں کرنے کا۔۔۔!یہ روزانہ کا مکالمہ تھا جو اس کے اور امّاں کے درمیان ہوتا ابّا حمایت کرتے مگر امّاں۔۔۔! امّاں کے سامنے ان کی بھی نہ چلتی۔۔۔! مگر وہ اپنے مَن کی کی لاڈلی تھی۔۔۔! کسی کی کیا سُنتی۔۔۔؟ اُس کا مَن اُس کے لاڈ اُٹھاتا اندر کی دنیا میں بڑے رنگ بکھرے تھے۔۔۔! بہت پیار تھا اُسے اپنی اس دنیا سے۔۔۔!  پھول ، تتلیوں ، بادل اور بارش سے محبت تھی۔۔۔! چہرے پر معصومیت اور بلا کا  سکون تھا۔۔۔!

 دیکھ امّاں ایک پراندہ ہی تو مانگا ہے۔۔۔! روز امّاں سے ایک ہی فرمائش امّاں گھنگریوں والا پراندہ لے دو۔۔۔! امّاں نے سادہ پراندہ لا کر دے دیا۔۔۔! ارے لڑکی ذات کنواری چھن چھن کرتی پھرے گی۔۔۔؟ باپ کے سامنے ، لاج نہیں تجھے۔۔۔؟ پر پتہ نہیں دل میں کیا سمائی تھی جو پیسے جمع ہوتے چاندی کی گھنگری لا کر لگا لیتی۔۔۔! اری کتنی گھنگریاں لگائےگی۔۔۔؟ امّاں ہر گھنگری خریدنے پر ڈانٹتیں۔۔۔! امّاں پوری سو گھنگریاں لگاؤں گی۔۔۔!

لمبے بالوں میں پراندہ ڈال کر جب چلتی تو چھن چھن کرتا۔۔۔! مہندی سے رَنگی ہتھیلیاں اور پاؤں۔۔۔! دھانی آنچل کجرے کی دھار۔۔۔! بس یہی تھا کل سنگھار۔۔۔! پر جانے کیا بیر تھا امّاں کو۔۔۔؟ اس پر بھی ڈانٹتی۔۔۔! پھر ایک دن پُھپھی امّاں اپنے آوارہ بیٹے کا رشتہ مانگنے چلی آئیں جسے ابّا نے رَد کر دیا۔۔۔! اور پُھپھی امّاں نے اپنی بے عزتی اور انا کا مسئلہ بنا کر جی بھر کر اُس کو بدنام کیا۔۔۔! ارے لڑکی کا دِل ہی نہیں تھا۔۔۔! کسی کے ساتھ چکر ہو گا۔۔۔! لچھن نہیں دیکھے۔۔۔؟ مہندی تو اُترتی نہیں اور گھنگریوں والا پراندہ پہن۔۔۔! طوائفوں کی طرح سارے پاسے مٹکتی پھرتی ہے۔۔۔! ابّا کونوں کُھدروں میں مُنہ دے دے کر روتے۔۔۔! بیٹی کی رگ رگ سے واقف تھے۔۔۔!

ایک رات جی میں آیا کہ بیٹی کا حال پوچھوں۔۔۔؟ رات کا پچھلا پہر۔۔۔! جاءِ نماز پر بیٹھی گھنگرو گنتی جاتی۔۔۔! ابّا ایک طرف کھڑے دیکھتے رہے۔۔۔؟ تینتیس بار سبحان اللہ ، تینتیس بار الحمدللّٰہ اور چونتیس بار اللہُ اکبر۔۔۔! پڑھ کر بولی۔۔۔! اللہ مَیں نے تو تیرے لیئےسو گھنگرو لگائے تھے۔۔۔! اب تو جان اور تیرے بندے جانیں۔۔۔!

            ابّا کے پیچھے کھڑی امّاں زار زار رو رہی تھی۔۔۔!

’’وہ دن کہ جب میری آوراگی کے چرچے تھے

قسم خدا کی بڑی پارسائی کے دن تھے‘‘