//گھی بناوے سالنا

گھی بناوے سالنا

. تحریر طیّبہ شمس فیصل آباد

مثل مشہور ہے’’گھی بناوے سالنا اور بڑی بہو کا نام‘‘۔ مگر جب تک بیگم صاحبہ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا ہی رہے گا ماشاء اللہ یہ پتہ ہی نہیں کہ نمک ، مارچ ، لہسن ، پہاز ، ہلدی ، دھنیا کس کس سالن میں اور کس کس  مقدار میں کون کونسی چیز ڈالی جائے اور کون سی نہیں۔ کسی ہنڈیا میں ہلدی نے رنگ کافی د دیا ہے تو دھنیا ندارد۔ اگر دھنیئے کی بھرمار ہے تو ہلدی غائب۔ کہیں نمک تیز ہے تو کہیں مرچ۔ خیر سے مصالحہ پیسنے بیٹھی ہیں تو کچھ نوکروں کو گالیاں کچھ دکاندار کو صلواتیں اور سینکڑوں نقص مصالحے میں۔ موٹا جھوٹا مصالحہ بہرحال چڑھ ہی گیا۔ اب نہ آنچ کے ہلکے رکھنے کا دھیان نہ تیز کرنے کا پتہ۔ گھی بھر دیا گیا ہے۔ مصالحے کی چھنا چھن ہو رہی ہے۔ اسے بھونے کون! چلو جی ساتھ ہی گوشت دے مارا۔ نہ مصالحے کی بو گئی نہ گوشت گل رہا ہے۔ کہیں سوڈا پڑ رہا ہے تو کہیں چونا ڈالا جا رہا ہے۔ بڑی مشکل سے گوشت گلا ہے تو نوچنے والا ، سبزی وغیرہ ڈالی ۔ پانی نہ چھوڑا۔ تھوڑی دیر میں اُتار کر نیچے رکھ دیا۔ اب گھی ہے یا نمک مرچ کا ذائقہ اور بڑی بہو کا نام ۔ ماشاء اللہ اور چشم بددُور۔

اسی لئے تو دلی اور لکھنو کے لوگ پنجابیوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ ’’اے پنجابی !نہ انہیں کھانا آوے نہ پکانا۔جیسے لٹھ خودویسے لٹھ ان کے کھانے ‘‘ سچ تو یہ ہے کہ ہم خود دلچسپی نہیں لیتے۔ اگر ذرا دھیان دیں تو معمولی سی معمولی کھانا لذیذ ترین بن سکتا ہے۔ مصالحے کا وزن تو نہ پنجاب کے کسی گھر کے لئے مقرر ہو سکتا ہے نہ یو پی کے لوگوں کے لئے۔ یہ تو اپنی اپنی پسند پر منحصر ہے۔ لیکن پسند کا یہ مطلب نہیں آپ مرچ بہت زیادہ کر دیں یا دھنیا ڈالیں ہی نہ۔ اور اگر پڑے تو بے انتہا۔ مقصد یہ ہے کہ جس سالن کے لئے جو جو مصالحہ جس جس مقدار میں ضروری ہے لازماً پڑنا چاہئے۔ خواہ آپ گھی کم ڈالیں یا زیادہ یہ جھگڑا صرف سالن کے لئے ہی نہیں۔ میٹھی چیزیں بناتے وقت بھی معمولی معمولی باتوں کی طرف دھیان دینا چاہئے۔ مثلاً آپ حلوہ بنا رہی ہیں، سوجی کچی ڈال دی یا زیادہ سرخ کر لی۔ گھی بھر دیا کہ تیر رہا ہے مگر چینی کم معلوم ہوتی ہے۔ تو حلوے کا مزہ ہی جاتا رہے گا۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ حلوے میں میوہ وغیرہ بھی ڈالیں سوجی مناسب طور پر بھون کر اس میں گھی ، چینی اتنی مقدار میں ڈالیں کہ اگرگھی نہیں تو کم از کم میٹھا تو ذائقہ دے۔

ہندو پاک میں مصالحے ہی ایک ایسی نعمت غیر مترقبہ ہیں کہ جس سے یہاں کے کھانے لذیذ اور چٹ پٹے بنتے ہیں۔ جنہیں غیر قومیں بھی کھاتے ہوئے انگلیاں چاٹتی رہ جاتی ہیں۔ بازاری کھانوں کو لے لیجئے۔ اگرچہ شاذو نادر ہی گوشت صحیح معنوں میں گلا ہوا ملے گا ورنہ عموماً دانتوں ہی سے نوچ کر کھاتے دیکھا ہے۔ ان میں نہ تو مصالحوں کی بُو مری ہوتی ہے نہ گوشت کی بسا ند جاتی ہے۔ مگر گھی تیر رہا ہو گا۔ یا گرم مصالحہ ذائقہ دے رہا ہو گا اور بھوکا زہر مار کر کے آگے چلتا بنے گا۔اُسے نہیں پتہ کہ گوشت گلا ہے یا مصالحہ اور گوشت بساند دے رہا ہے۔ بس پانچوں انگلیاں گھی میں پڑرہی ہیں اور زبان گرم مصالحے کے چٹخارے لے رہی ہے اور ہوٹل والے کی واہ واہ ہو رہی ہے۔ اب فرمائیے نہ تو بہو رانی کا ہاتھ ہے نہ گھی کی مہربانی۔بڑے میاں تو گرم مصالحے نکلے۔

کچھ عرصے سے ہماری بہنوں اور بھائیوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ گوشت ہر سبزی کے لئے ضروری ہے ۔ بغیر گوشت کے سالن کا مزہ ہی نہیں ۔ حتٰی کہ دالوں میں بھی گوشت پڑنا شروع ہو گیا تھا۔ مگر اب دو تین دن گوشت کے ناغے اور مہنگائی کی وجہ سے سالن پکاتے وقت عجیب پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ مشکل آج اُن لوگوں کے لئے ہی درپیش نہیں جو گوشت خور ہیں بلکہ عنقریب ایک ایسا وقت آنے والا ہےکہ سبزی خور قو میں بھی جو اب گوشت کو ترجیح دے رہی ہیں اس مشکل سے دوچار ہوں گی۔ ایسے میں ہمیں چاہئے کہ بغیر گوشت کے سبزی یا دالیں پکانے میں نئی نئی اخترا ئیں کرنی چاہئیں۔ بعض گھرانوں میں تو ایسا مدت سے ہو رہا ہے۔ جس کی بدولت کھانوں نے عجیب رنگ اختیار کر لیا ہے۔

اگرچہ گوشت کے ناغے کے دنوں میں بھی گوشت خور گوشت کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ دلی میں تولوگوں کی عادت تھی کہ جمعہ کاناغہ ہے تو جمعرات کی شام کو ہی اپنی اپنی پسند کا گوشت بنوا کر رکھا لیا۔ اور جمعہ کے دن بھی گوشت اُڑا رہے ہیں۔ مگر یہاں چونکہ ذرا سختی سے گوشت کے ناغے پر عمل کرایا جاتا ہے۔ اس لئے لوگ اکثر مچھلی پر گرتے ہیں۔ورنہ انڈے تو کہیں گئے ہی نہیں۔ اور عادی گوشت خورے تو اب بھی کسی نہ کسی طرح اپنا کام بنا ہی لیتے ہوں گے۔

بہرحال نئے نئے کھانوں میں آپ عجیب لطف اٹھائے گی۔وقت بھی کٹ جائے گا اور محفل بھی گرما جائے گی۔ مثال کے طور پر آپ ایسی چیزیں پکانے کی کوشش کریں۔ آلو کو سبزی میں امتیازی حیثیت حاصل ہے اس لئے ان کا ساتھ تقریباً ہر سبزی دے دیتی ہے۔ چنانچہ گوشت کے بجائے کچھ کام آلوؤں سے لیں۔

آلو تریاں، آلو گھیا، آلو ٹنڈے، آلو گاجر ۔ آلو ماش کی دال۔ آلو مونگ کی دال۔ آلو مٹر ، آلوؤں کا بھرتہ معہ ٹماٹر وغیرہ۔ کریلوں میں قیمہ کی جگہ بھرا جائے۔ اس  کے علاوہ مولی پالک، خالی مولی ، گوبھی  آلو شلغم ، تریاق، بھنڈی ، کدو ، کریلے اور دیگر ہر سبزی کی بھجیا اور اس میں کھٹا میٹھا ذائقہ۔ اور لیجئے انڈے ماش کی دال ، انڈے آلو ، انڈے بطرز پکوڑے (بیسن میں) گھیا کی پکوڑیاں گھیا کدو اور ککڑی کا رائتہ وغیرہ۔

کسی دن گوشت کے ناغہ پر چنے کی دال کی موبندیاں پکائیں۔

سامان۔ چنے کی دال ، قصور کی میتھی ، سبز مرچیں، گھی مصالحہ نمک مرچ ، ہلدی ، دھنیا ، لہسن پیاز وغیرہ۔

ترکیب۔ دال تقریباً دو ڈھائی گھنٹے پیشر بھگو دیں۔ پھر باریک پیس کر نمک ، مرچ ، میتھی ، حسب ذائقہ ملا لیں کھلے منہ کی ایک دیگچی میں چوتھائی حصہ پانی ڈال کر اس کے منہ پر ایک کپڑا کس کر باندھ دیں اور چولہے پر چڑھا دیں۔جب پانی کھولنے لگے تو دال کی موبندیاں (لڈو سے بنا کر کپڑے پر رکھتی جائیں اور برتن سے ڈھانک دیں۔یاد رہے کہ دال پیستے وقت نہ ملایا جائے۔ ورنہ موبندیاں بنانے میں مشکل ہو گی )موبندیاں بھاپ سے جب سختی اختیار کرجائیں تو اُتار کرعلیحدہ علیحدہ کر کے ٹھنڈا ہونے کے لئے رکھ دیں۔ اب گھی میں پیاز سُرخ کر کے مصالحہ ڈال کر خوب بھونیں۔ حتیٰ کہ مصالحے کی بو جاتی رہے ۔ پھر موبندیاں ڈال کر آہستہ آہستہ انہیں بھی بھونیں تاکہ ٹوٹ نہ جائیں۔ تھوڑی دی بعد بھون لینے کے بعد جتناب شوربہ مطلوب ہو اس سے ذرازائد شوربہ پانی ڈال کر پکا لیں۔ نیچے اُتار کر تھوڑا گرم مصالحہ بھی ڈال دیں۔ اسی میں اگر مٹر بھی پکا لئے جائیں تو عجیب لطف دے گا۔

اسی طرح گوشت اور آلو بطرز قورمہ پکائیں۔ یعنی پیاز گھی میں اچھی طرح سُرخ کر کے نکال لیں اور پیس کر دہی ملا لیں۔ ادھر گھی میں مصالحہ خوب اچھی طرح بھون لیں۔ تو مر جائے تو گوشت ڈال کر گوشت کو خوب بھونیں۔ حتیٰ کہ گوشت کی بساند جاتی رہے۔ گلنے کے لئے پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر چھوڑ دیں۔ گوشت گل جائے تو وہی ڈال کر ذرا ہلائیں اور آلو بھی ڈال لیں ۔ ذرا آلوؤں کو بھی بھون لیں بعدازاں شوربہ مطلوبہ مقدار میں رکھنے کے لئے پانی ذرا زیادہ ڈال کر پکالیں۔ یاد رہے کہ مصالحہ جتنا باریک پیسا ہوا ہو گا سالن اتنا ہی لذیذ ہو گا۔