//عورت اور دینی تعلیم و تربیت
female students

عورت اور دینی تعلیم و تربیت

تحریر رضیہ سیٹھی سیالکوٹی

ہمارے دین اسلام کی بنیاد قرآن کریم پر ہے اور قرآن پاک میں جس قدر تاکید دینی علوم کو حاصل کرنی کی موجود ہےاس سے کوئی مسلمان ناواقف نہیں ہے۔ حدیث شریف میں دینی علوم حاصل کرنے کا ارشاد ان لفظوں میں آیا ہے۔

طلب العلم فریضۃ علٰی کل مسلم و مسلمۃ

یعنی دینی علوم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔ ہر مسلمان اچھی طرح جانتا ہے کہ فرائض کا ترک کرنا ایک مسلمان کے لئے واجب نہیں ہے۔ نیز حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ من کانت لہ ثلاث بنات اوثلاث اخوات او بنتان او اختان فاحسن صحبتھن و اتقی اللہ فیھن فلہ الجنۃ

 یعنی جس شخص کے کی تین یا دو لڑکیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کی تربیت بہتر رنگ میں کرے اور اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرتے ہوئے ان کی اصلاح میں کوششیں کرے تو اس کے بدلے میں اس کو جنت ملے گی۔ بس ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے خداوند کا درجہ اور عظمت دنیا کی ہر چیز اور ہر عزیز سے بلند اور اعلیٰ سمجھیں اور اس کے احکام کو جو اس نے ہم پر فرض کئے ہیں کماحقہ بجالائیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا (الحکم 18 جولائی 1889) میں ارشاد ہے۔

تم اپنی عورتوں کو تعلیم دو اور عقل اور خدا ترسی میں ان کو پختہ کرو۔ نیز فرمایا ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پرہیزگاری کے لیے عورتوں کو پرہیزگاری سکھائیں۔ نیز فرمایا اگر تم اپنی اصلاح چاہتے ہو۔ تو یہ بھی لازمی امر ہے کہ گھر کی عورتوں کی اصلاح کرو۔ لیکن ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ بعض عورتیں نماز روزہ ادا کرنے میں بہت کوتاہی کرتی ہیں۔ یورپین عورتوں کی تقلید میں اپنے بال کٹوا سکتی ہیں پارٹیوں میں بغیر پردہ کے جاتی ہیں وغیرہ یہ سب شیطانی طریق ہیں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ حتی الوسع ان باتوں سے بچیں یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ یہ ہرگز مناسب نہیں ہے۔ عورتوں کی آزادی کی فسق و فجورکی جڑ ہے یہ بات تو یقینی ہے کہ جب مرد اور جوان ہو اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو اس کا نتیجہ کس قدر خطرناک ہوگا۔ بد نظر ڈالنی تو انسان کا خاصہ ہے۔ پھر جس حالت میں پردہ میں بھی اعتدالیاں ہیں تو پھر فسق و فجور کے مرتکب ہو جانے میں کیا کسر رہ جائےگی۔ آج کل پردہ کے متعلق مختلف قسم کی بحثیں کی جارہی ہیں۔ قرآن کریم کی وہ آیت جس میں پردہ کے متعلق حکم ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے معنے اور طرح کیا جائے مگر ہمیں دیکھنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معنے کیا سمجھے اور ان پر کس طرح عمل کیا۔ اس کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت منہ پردہ میں شامل تھا صاف طور پر لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسہ کے لیے شادی کی تجویز کی تو ایک عورت کو بھیجا کہ وہ جا کر دیکھ آئے کہ لڑکی کا رنگ کیسا ہے۔ اس وقت اگر چہرہ نہ چھپایا جاتا تو عورت کو بھیج کر رنگ معلوم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

 قرآن کریم میں حکم ہے کہ زینت کو چھپاؤ اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہے۔ پھر قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔

قُل لِّلْمُؤْمِنِینَ یغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَیحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ

 یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم کو دیکھنے سے اپنی آنکھوں کو بند رکھیں اور اپنے کانوں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یعنی کام بھی ان کی نرم باتوں اور ان کی خوبصورتی کے قصوں سے بچاوے یہ سب طریق ٹھوکر کھانے کے ہیں۔

 قرآن کریم مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غضب بصر کریں۔

 اسلامی پردہ سے یہ بھی مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جائے قرآن شریف میں آیا ہے کہ عورتیں ستر کریں وہ غیر مردوں کو نہ دیکھیں جن کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کے لیے پڑے ان کو گھر سے نکلنا منع نہیں۔ لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔

 پس ہمیں ہر حالت میں چاہیے کہ خود اپنی زندگی کو سدھاریں اور اپنے رشتے داروں اپنے عزیز و اقرباء اپنی سہیلیوں کی بہتری اور بھلائی میں ہر وقت مصروف رہیں۔ ہمیں چاہیے کہ زیب و زینت کرنے میں اعتدال سے نہ بڑھیں ہمیں یہ اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے حسن سے زیادہ ہمارے اخلاق اور اخلاق سے زیادہ ہمارا دین خدا تعالیٰ کے نزدیک مرتبہ اور عزت رکھتا ہے ایمان کے بعد حیا اور عفت اصلی جوہر ہیں۔

 سیدنا حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا اس بارہ میں ارشاد ہے کہ پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے اور عورتیں سنور جائیں۔ تو قوم سدھر سکتی ہے۔ احمدی خاتون دسمبر 1912 (حضرت مصلح موعود امیر المومنین سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم پچاس فیصد عورتوں کی اصلاح کرلو۔ تو اسلام کو ترقی حاصل ہوجائے گی۔

 گویا اسلامی فتوحات جو آئندہ ہونے والی ہیں۔ان میں عورتوں کی اصلاح کا بڑا دخل ہے نیز ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے۔کہ اگر عورت بے دین ہو گی تو اولاد بھی بے دین رہے گی اور اولاد بے دین ہو کر نہ دین میں ترقی کر سکتی ہے۔ نہ دنیا میں۔

 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

اس ازراہ دینی پروری آمد عروج اندر نخسست

باز چوں آئید بیائید از ہمیں راہ بالیقین

پہلے زمانہ میں جو دین کو عروج حاصل ہوا۔ وہ دیندار لوگوں کی وجہ سے اور تبلیغ کے ذریعہ سے حاصل ہوا۔ دوبارہ اسلام کو عروج اور فروغ اسی ذریعہ سے ہوگا۔

 حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

 اس لئے میں سخت تاکید کرتا ہوں کہ عورتوں کو پڑھانے کی طرف جلد توجہ کرو۔ پس اوے عورت اےگزشتہ نسل کی بیٹی موجودہ نسل کی بہن اور بیوی اور آئندہ نسلوں کی ماں تیری بہتری اسی میں ہے تو ان سب باتوں پر عمل کر۔ اور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی بہتری اور بھلائی میں ہر وقت مصروف رہ تاکہ دنیا اور آخرت میں سرخرو ہو۔