//اداریہ ماہ ستمبر ۲۰۱۹
post_header

اداریہ ماہ ستمبر ۲۰۱۹

مدیرہ  مدثرہ عباسی

صنفِ نازک پر احسانات

15 سو سال قبل زمانہ جاہلیت  میں جو حالت عورت کی تھی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے اس شعر سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔

رکھ پیش نظر وہ وقت بہن! جب زندہ گاڑی جاتی تھی
گھر کی دیواریں روتی تھیں! جب دنیا میں تو آتی تھی

زمانہ جاہلیت میں صنف نازک کی کوئی قدر و منزلت نہ تھی۔ دنیا کے وحشی باشندے اپنی بیویوں، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ نہایت ہی بُر ا سلوک کیا کرتے تھے۔ عورت کو نہایت ذلیل و رسوا کیا جاتا تھا۔ اور طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے تھے۔ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا، ایک ہی وقت میں کئی شادیاں کرنا، بہنوں سے شادیاں کرنا، طلاق دینے کے بعد ان پر حاوی رہنا، نان و نفقہ اور ورثہ سے محروم رکھنا، بے جا ظلم ڈھانا زدکوب کرنا یہ وہ تمام علامتیں تھیں جو صنفِ نازک کے ساتھ پیش آتی تھیں۔ عورت کی اس مظلومیت کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو عرش پر رحم آیا اور اس نے سرزمینِ عرب میں اپنے پیارے نبی حضرت محمدؐ  کو مبعوث فرمایا جس نے آ کر عورت کی بدترین حالت کو درست کیا اور آپؐ نے عورت کو پستی اور ذلت کے تاریک گڑھے سے نکال کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ آج جو مقام اسلام میں عورت کو حاصل ہے۔ وہ کسی دوسرے مذہب میں نہیں علاوہ ازیں عورت کی یہ تین حیثیتیں ہیں۔ ماں، بیٹی اور بیوی آپؐ نے ان تینوں پر جو احسانات فرمائے ہیں عورت اس کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ ماں کی حیثیت سے آپؐ نے فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ آپؐ نے ماں کے تین درجے دیئے اور باپ کو ایک درجہ دیا۔

بیٹی کی حیثیت سے زمانہ جاہلیت میں جب کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی تو قرآن کریم کے مطابق ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا وَّھُوَ کَظِیْمٌ کی ہو جاتی یعنی لڑکی کی پیدائش کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا۔ اُس زمانہ میں لڑکیوں کو زندہ گاڑ دینے کا عام رواج تھا۔ مندرجہ بالا اشعار اُس زمانے کی صحیح عکاسی کرتے ہیں۔ تاریخ میں لڑکی کو زندہ درگور کرنے کا واقعہ مختصرًا یہ ہے۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیھم کی ایک مجلس میں عورت سے متعلق ذکر ہو رہا تھا۔ ایک صحابی نے اسلام لانے سے قبل اپنا یہ واقعہ بیان کیا کہ یا رسول اللہؐ مجھے کچھ عرصہ کے لئے دوسرے ملک جانا پڑا اُس وقت میری بیوی امید سے تھی میرے بعد اُسکے ہاں لڑکی پیدا ہوئی کئی سال بعد میں واپس گھر لوٹا۔ میری آمد کی خبر سن کر میری بیوی نے اپنے کسی عزیز کے گھر بچی کو بھیج دیا۔ میں نے یہ خیال کیا کہ لڑکی پیدا ہوئی ہو گی۔ بدنامی کے خوف سے مار دی گئی ہو گی۔ لیکن چند دنوں بعد وہی لڑکی جس کی عمر 11 سال تھی میرے آنگن میں کھیلتے ہوئے دیکھ کر میں نے بیوی سے پوچھا یہ کون ہے؟ اس نے ٹالنے کی کوشش کی میرے اصرار پر بتایا یہ وہی لڑکی ہے جس کو میں زندہ درگور نہ کر سکی یہ سن کر اکثر میرا خون کھولنے لگتا اور ذلّت محسوس کرتا۔ ایک روز میری بیوی اپنے میکے گئی ہوئی تھی۔ میں نے بچی کو لیا اور کہا چلو میں تمہیں ننھیال لے چلوں۔ بچی یہ سنکر خوشی خوشی میرے ساتھ ہو لی۔ یا رسول اللہؐ! جنگل میں پہنچ کر میں نے ایک گڑھا کھودا اس دوران بچی میری اس حرکت کا غور سے مطالعہ کر رہی تھی۔

اور وہ یہ بار بار کہہ رہی تھی۔ ابّا یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ لیکن میں اپنے کام میں مصروف رہا۔ حسب اندازہ گڑھا کھود چکا تو اسکو زبردستی اس گڑھے میں دھکیل دیا پھر اوپر سے مٹی ڈالنی شروع کر دی۔ یا رسول اللہ ؐ! وہ بچی مسلسل چیختی چلاتی رہی اور میں اپنا کام کرتا رہا۔ یا رسول اللہ! آج بھی اُس بچی کی دردناک چیخیں میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ آنحضرتؐ یہ واقعہ سُن رہے تھے اور آپؐ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ یہ تھی زمانہ جاہلیت میں لڑکی (بچی) کا دردناک واقعہ اور قیمت۔ رسول کریمؐ نے لڑکی کو اس بدترین حالت سے نجات دلائی اور زندہ درگور کرنا سخت گناہ قرار دیا۔ علاوہ ازیں اس کو ماں باپ کے اور دیگرعزیز و اقارب کے ورثہ کا حق دار قرار دیا۔ اور آپؐ نے اپنی اُمّت کو بشارت دی کہ لڑکیوں کی اچھی پرورش کرنے والے جنّت میں جائیں گے۔ یہ انقلاب عظیم تھا جو آپ نے اپنی اُمّت کے دل میں پیدا کیا۔

زمانہ جاہلیت میں بیوی کو بھی نہایت ادنیٰ درجہ دیا جاتا کئی طرح کے مظالم ڈھائے جاتے۔ لونڈیوں سے بدتر سلوک کیا جاتا۔ خاوند کے مرنے کے بعد بطور ترکہ آپس میں بانٹ لی جاتی تھیں۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے کیا خوب فرمایا!

گویا تو کنکر پتھر تھی، احساس نہ تھا جذبات نہ تھے
تو ہین وہ اپنی یاد تو کر! ترکہ میں بانٹی جاتی تھی

پس رسول کریمؐ نے صنفِ نازک پر جو احسانات کئے ہیں اور اسلام میں جو درجہ عورت کا رکھا ہے اس کے پیشِ نظر ہر مرد کو چاہیئے کہ وہ عورتوںکی کمزوریوں سے درگذر کرتے ہوئے اس کے ساتھ احسان، نرمی اور خوش خلقی کا سلوک کرے کیونکہ رسول کریمؐ نے عورتوں کی غلطیوں کو درگذر اور لغزشوں کو نظر انداز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چنانچہ فرمایا:

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ

یعنی تم میں سے بہترین وہی شخص ہے جو اپنی بیوی سے بہترین سلوک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین