//اسلامی دستر خوان کا ارتقا
islamic_food

اسلامی دستر خوان کا ارتقا

اسلام کے ابتدائی دور میں کھانا بے حد سادہ ہو ا کرتا تھا لیکن وقت کے ساتھ اور اسلام کی بے پنا ہ مقبولیت کے ساتھ اسلامی حکومتیں دنیا کے گوش  و کنا ر میں پھیلتی چلی گئیں اور خطۂ عرب کےساتھ اسلام کا پرچم دور دراز کے علاقوں میں لہرانے لگا۔

اسلامی سلطنت کے وسیع ہونے کےساتھ مفتوحہ علاقوں کی تہذیب ، ان کی زبان ، ان کاتمدن اور ان کے ذائقے اسلامی دنیا کا حصہ بن گئے ۔ ان کی ایک جھلک یہاں پیش کی جاتی ہے ۔

خاندان امیہ کا پایہ تخت دمشق تھا اور وہاں کی آبادی بیشتر بدوؤں پر مبنی تھی جو زراعت اور کاشتکاری کے طور طریقوں سے بالکل نا آشنا تھے ۔ ان کا انحصار بیشتر دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی چیزوں پر تھا۔ لیکن آٹھویں سے بارہوں صدی تک اسلام ایک مضبوط مذہب کی شکل اختیار کر چکا تھا اور خلفائے عباسیہ کا اور اسلامی حکومت کا تاریخ ساز اور سنہرا دور تھا جہاں آسودگی اور فراوانی حکم فرما تھی۔ سلطنت کی وسعت نے تجارت کو فروغ  دیا ، نئے نئے تجارتی راستے کھلے ، لوگوں کی آمد ورفت بڑھی او رمختلف علاقوں سے آنے والے لوگوں کے ساتھ ان کی تہذیب اور ذائقے اسلامی دور کا حصہ بنے ۔

عباسی خلافت کے دور حکومت میں فن طباخی اپنے عروج پر تھا ۔ خلیفہ ہارون رشید اور المامون نے کھانے کو ایک فن کی شکل دی ۔ ان کی سرپرستی اور قدر دانی نے بغداد کو ماہر اور فنکار باورچیوں کی آماجگاہ بنا دیا ۔

خلیفہ ہارو ن الرشید نے کھانے سے متعلق کتابوں کی اشاعت پر بھی زور دیا۔ ’’کتاب الطبخ الاوراق ‘‘فن طباخی کی اولین کتابوں میں شمار ہوتی ہے ۔ یہ ایسی کتاب ہے جس میں استعمال کئے جانے والے مصالحہ جات اور اجزا کی مقدار ، کھانے تیار کرنےکی تراکیب ، کھانوں کے طبی فوائد اور آداب دسترخوان کا مفصل بیان ہے ۔

مفتوحہ  علاقوں سے انواع و اقسام کے ذائقے آئے ۔ شام سے زیتون ، عراق سے کھجور ، عربستا ن سے  کافی ، ہندوستان سے مصالحہ جات ، ان سب کے استعمال سے باورچیوں نے طرح طرح کے پکوان تیار کئے اور فن طباخی کو عروج عطا کیا۔ چند کھانوں کےنام ایرانی تھے تو بعض عربی ، ایک خوان میں کم از کم چھ یا سات مصالحوں کا استعمال ہوتا تھا۔

’’اسلامی دسترخوان کے ارتقاء‘‘ میں ایران کا بھی ایک اہم حصہ ہے ۔ شیراز کی ضیافتیں بے مثال تھیں ۔ خشک میووں سے تیار کی جانے والی غذائیں ، زعفران کی خوشبومیں مہکتے سالن ، رنگ برنگے لذیذ پلاؤ ، پھولوں اور پھلوں سے تیارشدہ مفرح شربتوں سے دستر خوان سجے رہتے تھے۔

جب عربوں نے ایران پر فتح حاصل کی تو کھانوں کی یہ رونق دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے اور رفتہ رفتہ یہ سب کچھ اسلامی دسترخوان کی زینت بن گیا۔

کہنے میں شربت کی ابتدا بھی شیراز کے مکتب اَشیزی (کھانا پکانے کا ہنر) سے ہوئے ۔ ایران کے کھانوں میں تازہ ترکاریوں کا استعمال تازہ پھل اور گوشت کے ساتھ عام تھا۔ ان کھانوں کا ذائقہ ترش، شیریں اور نمکین ہوا کرتا تھا اور یہ ذائقہ آج بھی ان کے کھانوں میں مروج ہے ۔

سنہ ۱۲۵۸ میں ترکستان کے خانہ بدوشوں نے ایران سے لے کر آرمینیا تک کے علاقوں کو تخت و تاراج کر دیا اور پہلی ترکیہ حکومت کی بنیاد رکھی۔ اسلامی دسترخوان پر نئے ذائقوں کا دور شروع ہوا اور بغداد کی جگہ قسطنطنیہ نے لے لی۔ یہ کئی خوبیوں کا شہر تھا اور دنیا کا خوبصورت ترین شہر کہلایا۔

سلاطین ترک کھانے کے شوقین اور قدر دان تھے۔ ۱۴ویں صدی میں ترکیہ سلطنت ایک طاقتور اور مضبوط سلطنت تھی جس نے دیگر فنون کےساتھ فن طباخی میں بھی اپنا نام تاریخ کے اوراق میں ثبت کر چکی تھی۔ قسطنطنیہ کے ذائقوں میں چند دیگر اجزا بھی شامل ہوئے اور کھانوں کو ایک نیا ذائقہ دیا ۔ اب روغن زیتون کی جگہ کھانامکھن میں پکنے لگا۔ شکر کا استعمال عام ہو ا جو شہد کا بدل تھا۔ پودینہ ، دھنیا ، سونف ، تل ، گلاب کی پنکھڑیاں ، عرق گلاب سے کھانے تیار ہونے لگے ۔

اگر آپ ترکی جائیں تو ’تو پ کاپی ‘ ضرور دیکھنے جائیں ۔ یہ سلطان کا وسیع باورچی خانہ تھا جہاں ہر روز سینکڑوں باورچی دس ہزار لوگوں کا کھانا بنایا  کرتے تھے ۔ جب مسلمانوں نے ہسپانیہ کو زیر تسلط کیا تو قرطبہ ایک نئی شان کے ساتھ اسلامی دنیا کے نقشہ پر ابھرا ۔ یہ شہر تہذیب و تمدن کامرکز تھا، یہاں کے کتب خانے کتابوں سے بھرے تھے۔ ۷۰۰ مساجد اور ۹۰۰ حمام تھے ۔ پانی کی فراوانی نے کاشتکاری کو فروغ دیا اور نئی فصلیں لہلہانے لگیں ۔ گنا ، چاول ، زعفران ، بینگن ، ہر قسم کے پھل میسر ہوئے ۔

شاہراہوں پر خوانچے والے گرم گرم کباب ، تازہ تلی مچھلیاں ، پنیر سے بنے کیک اور انواع و اقسام کی شیرینی ، کٹورے چھلکاتے شربت فروش گاہکوں کی تسکین کا ساماں کئے رہتے تھے۔ گاہک پر گاہک ٹوٹا پڑتا تھا۔ بے شمار نباتات کی موجودگی حیران کن تھی۔ غرض قرطبہ اسلامی دنیاکاعدیم المثال شہر تھا۔

سنہ ۱۵۲۶میں  جب بابر نے ہندوستان پر فتح حاصل کی تو کھانوں کا یہ قافلہ مغل حکمرانوں کے ساتھ ہندوستان پہنچا اور ہندوستانی مصالحہ جات ، ترکاریوں اور  باورچیوں کی مہارت سےمل کردسترخوان ایک بار پھر نئے ذائقوں سے روشناس ہوا۔قورمے ، قلیے ، بریانی ، دوپیازہ اور مختلف قسم کی ہندوستانی مٹھائیاں دسترخوان پر نظر آنے لگیں ۔

المختصر اسلامی دسترخوان کایہ سفر مغلیہ حکومت تک ہی محدود رہا لیکن ایک جاوید اور لازوال فن کی شکل میں سالہا سال بعد بھی یہ حکمران اپنے کھانوں کےلئے یاد کئے جارہے ہیں۔

سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین ، ماہر طباخ اور کھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کےمغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انہوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑےہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کےطور پر بھی کام کرتی ہیں ۔ سلمیٰ حسین بی بی سی مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں جس کی یہ تیسری کڑی ہے ۔