//درس القرآن، جولائی اگست ۲۰۱۹
july_title

درس القرآن، جولائی اگست ۲۰۱۹

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ۔ (سورۃ النور: آیت 31)

ترجمہ: مومنوں کو کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریںاور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ بات ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا موجب ہے۔ یقینا اللہ، جو وہ کرتے ہیں، اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔

تفسیر

تو کہہ دے ایمان والوں کو کہ آنکھوں کو نیچا رکھا کریں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ نہایت پسندیدہ بات ہے۔ اور جو کچھ اپنی زبانوں سے کہتے اور دل سے مانتے اور اعضاء سے لیتے ہو سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا : جب ظاہری آنکھ لے جانا جائز نہیں تو باطنی آنکھ سے ان کے حالات کی تفتیش کیونکر جائز ہو۔

یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ : پولیس بھی شرارتوں کے روکنے کے لئے کسی حد تک مفید ہے۔ اور ضرور چاہیئے۔ لیکن بعض ایسے گناہ ہیں کہ پولیس ان میں کچھ نہیں کر سکتی۔ وہاں شریعت کام دیتی ہے۔ ہم نے بہت سے ایسے انسان دیکھے ہیں کہ ایک ہی نگاہ میں ہلاک ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومنوں سے کہہ دو۔ نگاہیں نیچی رکھیں۔ میں تو اسی لئے برقع کا دشمن ہوں۔ کیونکہ برقع والی آنکھ نیچی نہیں ہوتی۔ مولوی محمد اسمٰعیل صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر کسی حسین پر پہلی نظر پڑ جائے۔ تو تم دوبارہ اس پر ہرگز نظر نہ ڈالو۔ اس سے تمہارے قلب میں ایک نور پیدا ہوگا۔ (حوالہ حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ نمبر 213)

قال رسولؐ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ عورت پسلی کی ہڈی کی طرح ہے، اگر تم اسے بالکل سیدھا کرنا چاہو گے تو تم اسے توڑ دو گے (یعنی جدائی کی نوبت آ پہنچے گی) اور اگر تم عورت سے فائدہ اٹھانا چاہو تو تمہیں اس کا ٹیڑھا پن برداشت کرتے ہوئے اس کی (خوبیوں) سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔ ‘‘

(صحیح بخاری :5184)