//درس القرآن ، ستمبر ۲۰۱۹
sep_title

درس القرآن ، ستمبر ۲۰۱۹

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاٰبَآئِھِنَّ اَوْ اٰبَآئِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآئِھِنَّ اَوْ اَبْنَآئِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اَخَوَاتِہِنَّ اَوْنِسَآئِھِنَّ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِالتَّابِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِالطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔(سورہ النور آیت 32)

اور مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے کہ جو اس میں سے ازخود ظاہر ہواور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے لئے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیرنگیں مردوں کے لئے یا مردوں میں ایسے خادموں کے لئے جو کوئی (جنسی) حاجت نہیں رکھتے یا ایسے بچوں کے لئے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہیں اور وہ اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ (لوگوں پر) وہ ظاہر کردیا جائے جو (عورتیں عموماً) اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ ۔

تفسیر: ایسے ہی ایمان والی عورتوں سے بھی کہہ دے کہ آنکھوں کو بُرائی سے بچا رکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں اور اپنے بناؤ سنگار کو مت دکھلاویں مگر وہ حصّہ لا بُدی ہے جو ظاہر ہے۔ اور اوڑھنی کو ایسا اوڑھیں کہ جیب تک چھپ جاوے اور عورتیں اپنے بناؤ سنگار کو کسی پر ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں اور باپوں اور خسر اور اپنے بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں اورا پنے بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی نیک بخت بیبیوں (عیسائی مشن کی عورتوں کو جو لوگ اپنے گھروں میں آنے دیتے ہیں اور اسلام کے مدعی ہیں وہ غور کریں) اور غلاموں اور ان نوکروں پر جنہیں عورتوں کی رغبت ہی نہیں (جیسے پاگل) اور بچوں پر جو عورتوں کے معاملات سے واقف ہی نہیں۔ اور عورتوں کو واجب ہے کہ ایسی طرح پاؤں زمین پر نہ ماریں کہ ان کے سنگار کی کسی کو خبر ہو جائے۔ اللہ کی طرف رجوع رکھو۔ ایمان والو! تو کہ نجات پاؤ۔

قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ: (الآیہ)۔ کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں۔ شرمگاہوں کومحفوظ رکھیں اورا پنی زینت کو نہ دکھاویں سوائے خاوندوں اور باپوں وغیرہ کے اور سوائے اپنی خاص عورتوں کے۔ اس پر بھی مجھے حیرت ہے کہ بہت کم عمل ہے۔ بہت سی عورتوں سے بھی پردہ لازم ہے۔ ہر ایک عورت سے بے پردگی نہ ہو۔

مَا ظَھَرَ مِنْہَا: قد۔ آواز

یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ: عرب میں ناک کے لئے کوئی زیور نہیں۔ اسی واسطے ہماری شریعت میں ناک کے زیور کا ذکر نہیں۔

وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ : اوڑھنیوں کے گریبان پر ڈالنے کے یہ معنے ہیں کہ سر پر سے منہ کے سامنے گھونگھٹ لٹکا کر گردن تک اس گھونگھٹ کو لٹکا لو۔ پھر نظر بھی ضرور نیچے رہے گی۔

اَوْنِسَآئِھِنَّ: اس سے ظاہر ہے کہ ہر مذہب کی عام عورتوں کو اجازت اندر آنے کی نہیں۔ مَیں نے اس کے بڑے بڑے فساد دیکھے ہیں۔(حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 14)

حدیث

ایک دفعہ حضرت عائشہؓ کی بھتیجی حفصہ بنت عبدالرحمٰن ؓ نہایت باریک دوپٹہ اوڑھ کر سامنے آئیں۔ آپ نے دیکھتے ہی وہ دوپٹہ چاک کر دیا۔ پھر فرمایا’’تم نہیں جانتیں سورۃ نور میں خدا تعالیٰ نے احکامات نازل فرمائے ہیں۔‘‘ اِس کے بعد گاڑھے کا موٹا دوپٹہ منگوا کر اُن کو اوڑھایا (اُسوقت برقعوں کا رواج نہیں تھا۔ یہی دوپٹے پردہ کا کام دیتے تھے۔ ورنہ برقعوں کے اندر باریک دوپٹے اس ارشاد کے ماتحت نہیں آتے۔) (مؤطّا امام مالکؒ )

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت عائشہؓ ایک گھر میں مہمان اُتریں آپ نے میزبان کی دونوں لڑکیوں کو دیکھا جنہوں نے ابھی شباب کی منزل میں قدم رکھا تھا کہ بغیر چادر اوڑھے نماز پڑھ رہی ہیں۔ آپ نے تلقین فرمائی کہ آئیندہ کوئی لڑکی بغیر چادر اوڑھے نماز نہ پڑھے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد ہے۔(مسند جلد 6 صفحہ 96)

ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے ایک عورت کو دیکھا کہ چادر میں حلیب کے نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ آپ نے دیکھتے ہی سرزنش کی کو یہ چادر فورًا اتار دو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کے کپڑوں کو اگر دیکھتے تو پھاڑ ڈالتے تھے۔(مسند جلد 6 صفحہ 140)