//یادوں کی بہتی ندیا
Beautiful-River

یادوں کی بہتی ندیا

. بشریٰ عمر بامی انگلینڈ

ندیا تیر ا نام بہت سہانا…

تیراکام دلبرانہ… تیری چال مستانہ… تیرا شور عاشقانہ۔ …تیرا پیار قاتلانہ…

ندیا اور اس کا بہتے رہنا دونوں لازم وملزوم اور اسکا پل پل کا ساتھی بہاؤ بھی ہے

لیکن لہروں اور ندیا کا باہم رشتہ۔ …بھی گویا اٹوٹ انگ ہے۔

ندیا ہو… اورنہ بہے… یہ ناممکنات سا لگتا ہے…

زندگی کی طرح… بس جینا ہے اور جیتے چلے جانا ہے بہتی ندی کی طرح… اس کے اتار چڑھاؤ… ساتھ لئے

بالکل بعینہٖ ندیاجیسے۔

بچپن۔ …گویا خاموش بہتی پرسکون لہریں لئے ہوئے جس میں اٹکھیلیاں کرتے۔ …کنکر پھنک کر بننے والے بھنور سے محظوظ ہوتے ہوتے…معصوم ذہن یا

چپکے چپکے… زور پکڑتی لہریں۔ … جوانی اور پھر برسات کے موسم کی سی روانی…

اور جولانی… لئے پر شور دیوانی لہروں کی طرح…جیون کے جلترنگ… سہانے موسموں سے قوس قزح کے رنگ لئے اور ساتھ ساون کی میگھائیں… اوربرسات کے حسین موسم میں کنگور گھٹائیں… ندیا کے بہاؤ میں تلاطم لاتی…

سرکش لہریں۔ … سماج کے پل سے سر مار مار کر ٹکراتی… بپھری ہوئی باغی بنی واپسی کا رستہ ڈھونڈتی… کنارے کی طرف لوٹتی اور پھر ظالم ہوا دھکیلتی ہوئی بھنور اور گرداب میں گھیرے اپنے چنگل میں پھنسائےرکھے۔

…اور پھر… اپنے ظالم پنجوں میں دبوچ کر سسکتی روح کو چکنا چُور کر کے رکھ دیتی ہے…اور کبھی کبھار اشکوں کی جھڑی۔ … سیلاب بن کر بے قابو ندیا کی طرح ہو کر بہہ نکلتی ہے جس میں تن من جیون کی بے رحم لہروں کے حوالے۔

… ڈوبتا چلا جاتا ہے…

یہی زندگی کی بہتے دھارے اور…

غم کے مہیب بادلوں میں گھری۔ … زندگی کی ندیا… اوراس کے بہاؤ میں ہچکولے کھاتی… ڈوبتی ابھرتی سنہرے سپنوں سے سجی آشاؤں کی نیا۔ … بیچ منجھدھار میں… بِن مانجھی… اکیلے طوفانوں کا مقابلہ کرتے

… ڈولنے لگتی…

آہ…۔

ندیا پیاری !تیرے بہاؤ میں… زندگی ہے اور حیات

کی کشمکش…جان لیوا لگے…

مگر۔ …کبھی کبھار…دور اور بہت دور۔ آس کا جھلملاتا دیا… محورِنظر بنے… توطوفانوں کی زد میں اک خوف دامن گیر… پھڑ پھڑاتی لو لئے۔ …دیا بے چارا

اب بجھا کہ اب۔ … وسوسے اندیشے…

مگر آس نہیں… کوئی خوشی کی گھڑی… نصیب ہو… یا سکون کے دو لمحات… کی تلاش بسیار… ندیا کے اس پار… ناممکن… نہیں مگر کٹھن ضرور… لہروں کے نشیب و فراز… سہتے سہتے… ندیا کے بہاؤ میں بہتے بہتے… دور اور… بہت دور… اس دئیے کی مدھم لو کی روشنی کو منزلِ مقصود بناتے… بناتے۔ …زندگی کی شام کے سائے بڑھتے اور بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ … ناتواں جسم سخت موسموں کی سردی گرمی۔ ……کے آگے لاچار… بے حس و حرکت… لاغر و بے مایہ وجود… زمانے کے بے رحم تھپیڑوں کا سامنا نہ کرتے ہوئے…ہار سا جاتا ہے۔

 کبھی کبھار اپنا آپ کوموجوں کے حوالے… کرکے…اپنا تن من دھن… بہتی ندیا کی پرشور لہروں میں حنو ط زدہ لاش کی طرح… اور… بس ڈوبتا ابھرتا وجود۔ … ندیا کے بہاؤ میں بہے چلاجاتا ہے۔ … بہتا ہی جاتا ہے… کسی کنارے کی متلاشی آنکھیں… بے نور… ساکت ڈولتی لاش…

یا لہروں کے سنگ ڈولتا کوڑا کرکٹ… یا کسی درخت کی ٹوٹی شاخ کی طرح… سنگریزوں کے سنگ… چھلتا وجود…

سپنوں کی دھجیاں سمیٹے… چُور چُور ہڈیوں کا پنجرہ۔ … حسرتوں کے کفن میں لپٹا… بے رحم موجوں سے شکست خوردہ… بے مایہ… ادھورا سا

…ندیا کے کنارے

… مٹی کے ڈھیر پر رکھا۔

……بے نور چراغ

واہ بہتی ندیا … تیرا بچپن تیری جوانی…تیری… روانی اور کہانی۔ …

ادھوری سی کہانی

ندیا کی زبانی…………