//واہ بلوچا تیڑی بلوچ گی

واہ بلوچا تیڑی بلوچ گی

. تحریر کائنات ملک

ستر سال سے وسیب کے سرداروں کی اجارہ داری توڑنے پر ایک عورت ہوکر طاقت ور مرد کو شکست دے کر اعلی مقام پر پہنچنے والی ڈیرہ غازی خان کی بہنیں، بیٹی، اور ماحولیات کی وفاقی وزیر محترمہ زرتاج گل کو ان غیرت مند بلوچ بھائیوں نے رسوا کرنے کی کوشش کی۔ جو غیرت کے نام پر جان دیتے اور جان لیتے بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے۔بلوچ قبائل میں اگر کوئی قتل ہوجاے۔ اور دھی رانی چل کر دروازے پر آجائے۔ تووہ قتل بھی معاف ہوجاتا ہے۔ آج میں تمام ان بلوچوں سے سوال کرتی ہوں۔ کبھی ان سردارو کے خلاف اتنے بھڑکے ہو جنہوں نے تمہیں انسان ہی نہیں سمجھا۔تم سے ووٹ لیکر اقتدار کے مزے رہے تھےاور ہیں۔ نے۔ تمہیں تو صرف اس بات پر خوش رکھا،،بھیڑ بکریاں پال بلوچا۔تھی خوشحال بلوچا۔ اگر آج سے پہلے اپنے منتخب سرداروں کے ساتھ یہی سلوک کرتے تو آج تم یہ نہیں کرتے۔آج تمام بلوچوں کے سر یقینا شرم سے جھک گئے ہوں گے۔شرم نہیں آئی۔ تمہیں ایسا کرتے ہوے۔کونسا تم لوگوں نے کشمیر فتح کرلیا۔ بلکہ اپنے بزرگوں کے نام کو بھی خراب کردیا ان کی روحیں بھی تڑپ رہی ہونگی۔ ان کے لیے بھی باعث شرم بن گے ہو۔بلوچا تم نے بہت بھاڑی حرکت کرکے تمام بلوچوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ کہاں گئیں وہ بلوچوں کی روایتیںجو تمام عورتوں کو عزت دینے والے تھے۔ اور آج یو سرعام اپنے وسیب کی بیٹی کی تذلیل کررہےہیں۔ اپنے ہاتھوں سے پہنائی عزت کی چادر کو تار تار کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ بلوچ قوم۔ تمہارے خون میں شامل تھا کہ تم عورت کے احترام میں نظریں جھکا کے بات کرتے تھے۔ لیکن فورٹ منرو واقعے کے بعد مجھے تو ایسا لگتا ہےبلوچی روایات شاید دم توڑ چکی ھے۔ بلوچوں کی بلوچ کی کا جنازہ نکال چکا ہے۔

زرتاج گل اس بانجھ سیاست دانوں کے درمیان ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہیں۔ زرتاج گل نے مخصوص نشت پر بغیر محنت کیے منتخب نہیں ہوئی تھی۔ زرتاج گل نے مردانہ وار مقابلہ کرکے سیاست کے میدان میں اپنی فتح کا جھنڈا گاڑہ تھا۔ جب پورے ملک کا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔ وہاں اکیلی زرتاج گل کیا کرے۔عمران خان آج کے واقعے کے بعد تمہیں سوچنا نہیں۔ بلکہ اپنے کیے ہوے وعدے پر عملدرآمد کرنا ہے۔ ورنہ تم بہت سے اچھے لوگوں کو کھو دو گے۔ اور تنہاہ رہے جاوں گے۔زرتاج گل کی انسلٹ۔ عمران خان تمہاری انسلٹ ہے۔عمران خان یہ سیاسی بلوچ خودساختہ غیرت مند اپنی عورتوں کی اس طرح تذلیل کرتے رہیں گے۔ اور پھر اس وسیب کی بیٹیاں۔ ان حالات میں کبھی بھی الیکشن نہیں لڑے گے۔بلکہ سیاست سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کشی کرلیں گے۔ اور یہی یہاں کا اجارہ دار سیاست دان سردار چاہتا ہے۔ کہ یہاں کی عورت دبی رہے۔ اور ان کی غلام بنی رہے۔جن لوگوں کی یہ سوچ ہے۔عورت پاوں کی جوتی ہے۔اور اب اس جوتی کو کیسے سر پر بیٹھا سکتا ہے۔ گزشتہ دونوں ڈیرہ غازی خان بار کے صدر کی ایک چینل پر انٹرویو میں بھتہ خوری کا بھی ذکر ہورہا تھا۔

زرتاج گل اگر یہ بات سچ ہے۔تو یہ بات قابل مزمت بات ہے۔آپ اپنے اندر بھی جھانک کر اپنا بھی محاسبہ کریں۔ گرم کھانے سے منہ جل جاتا ہے۔ اگر یہ بات غلط ہے تو آپ میڈیا کے سامنے اس کی تردید کریں۔اور اپنے اردگرد کے لوگوں پر بھی نظر رکھے۔ بےنظیر کے دور حکومت میں ذرداری صاحب مسٹر ٹین پرسن مشہور ہوگے تھے۔ زرتاج گل آپ نے راستہ کانٹوں بھرا چنا ہے۔ اور اس راستے پر خار بچھانے والے بھی کوئی غیر نہیں ہیں۔ اس لیے قدم پھونک پھونک کر رکھنا۔اس وسیب کے پیسے ہوئے لوگوں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے آپ کو ووٹ دیے تھے۔ اور جب منتخب نمائندے ان کی امیدوں پر پورا نہیں اترتے۔ مخالفین کو بھی موقع مل جاتا ہے اپنی بھڑاس نکالنے کا اپ نے جس طرح ستر سالوں سے سیاست کرنے والے اجارادا طبقہ۔ یہاں کے بلوچ سرداروں کو شکست دے کر جیت کا جشن منایا تھا۔۔ تو ان بلوچ سرداروں کو اپنی شکست وہ بھی ایک عورت کے ہاتھوں اور آپ کی جیت کا جشن ہضم نہیں ہورہا۔ یہ زخم ان کا کبھی نہیں بھرے گا۔بلکہ یہ زخم ہمیشہ تازہ رہے گا۔ وہ اتنی بڑی بے عزتی کہاں بھول سکتے ہیں۔وہ آپ کی اس طرح تذلیل کرتے رہیں گے۔ وہ صرف اپ کی تذلیل نہیں کررہے بلکہ اس وسیب کی اور اپنی بہنوں بیٹوں کی بھی تذلیل کررہے ہیں۔ اس طرح کی گھٹیا حرکت یہاں کے بلوچوں کو زیب نہیں دیتی۔ اور یہ ہونے والی تذلیل سے زرتاج گل کا قد کم نہیں ہوا۔ مگر میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ بلوچ لوگ بدلے کی آگ میں اتنے گرجائیں گے۔ بہت سے اچھے بلوچ موجود ہیں۔ جو آج بھی عورت کو اتنا مقدس سمجھتے ہیں۔ جہاں عورت بیٹھی ہو۔ وہ جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اپنی بیٹھنے کی کرسی ہویا چارپائی۔ ان کے احترام میں دور فاصلے پر رکھ کر ان سے نرم لہجہ میں بات کرتے ہیں۔ اور اپنے روایت کے مطابق اس کے سر پر چارد ڈالتے ہوے اسے اپنی عزت سمجھتے ہیں۔ اور اس کے چل کر آنے پر اس کو احترام عزت دیتے ہیں۔

مگر فورٹ منرو جلسے کی گھٹیا حرکت کرنے والے بلوچوں نے تمام بلوچ قوم کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ چادر پہنانے والوں نے اپنی بہن بیٹی کے سر کو ننگا کرنے کی کوشش کی۔ بلوچ روایت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔کاش ان کو احساس ہوتا کہ ان کے اس گندے عمل پر پوری دنیا میں بلوچ قوم کی رسوائی ہوئی ہے۔ اس طرح کا غلط عمل قابل مذمت ہے۔یہ بلوچوں کی غیرت پر سوال ہے۔اب بلوچ سینہ تان کر اپنا میں بلوچ ہاں کا تعارف مت کراے۔ورنہ اس کی بلوچی گئی پر شک ہوگا۔ ہم اس طرح کے سلوک پر پرزور مذمت کرتے ہیں۔ اور بلوچ قوم سے مطالبہ کرتے ہیں۔ اور فورٹ منرو جلسے پر کیے گے واقعے پر وسیب کی بیٹی بہین۔زرتاج گل سے معافی مانگیں اور اسے پورے احترام عزت کے ساتھ جو اس وسیب کی بیٹی کا حق ہے دے اور اس کے ساتھ بیٹھ کر تمام مسائل کے حل نکالنے کے لیے ان سے گفتگو کرے۔