//عورتوں کے حقوق اور خواتین کی تعلیم و تربیت
aurat_ke_haquq

عورتوں کے حقوق اور خواتین کی تعلیم و تربیت

رسول کریم   ﷺ کی شادیوں کی دوسری غرض عورت کے مقام اور حقوق کا قیام تھا۔قرآن شریف میں رسول اللہ  ﷺکو مسلمانوں کیلئے ایک بہترین نمونہ قرار دے کر آپ   ﷺ  کی اتباع کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔اس لحاظ سے تعدّد ازدواج کی ایک اہم حکمت آنحضرت   ﷺکے ذریعہ بیویوں میں عدل و انصاف کا بہترین نمونہ قائم کرناتھاخصوصا ً اس زمانہ میں جب عورتوں کے حقوق تلف کئے جارہے تھے۔اور عرب کے معاشرہ میں خواتین کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ گھر میں بیٹی کی پیدائش کو عرب باعث ذلت خیال کرتے تھے۔ اور اس عار سے بچنے کے لئے بعض قبیلے اسے زندہ درگور کر دیتے۔  بیوہ عورت شوہر کی وراثت میں تقسیم ہوتی  اور مرد کے قریبی رشتہ دار اس کے وارث سمجھے جاتے تھے۔ وہ انکی مرضی کے بغیر کہیں شادی نہ کر سکتی۔ بلکہ خاوند کی وفات کے بعد وہ گھر کے ویران حصے میں مقید ہو کر ایک سا ل تک عدت گزارنے پر مجبور ہوتی۔ ورثہ میں اس کا کوئی حق نہ تھا ۔اپنے مخصوص ایام میں عورتوں کو گھر والوں سے جدا رہنا پڑتا ۔ معاشرہ میں عورت کے لئے  نفرت و حقارت کے جذبات تھے۔ آج تک عورتوں کے حقوق کے لئے خود انکی طرف سے مختلف تحریکوں کا ذکر ملتا ہے ۔ لیکن وہ پہلا مرد جس نے  عورتوں  کے حقوق کے لئے آواز بلند کی اور ان کے حق قائم کر دکھائے وہ ہمارے نبی ﷺ ہی تھے۔ آپ  ﷺ نے  فرمایا کہ بیٹی کو زندہ درگور نہ کرنے والا اور اس کے ساتھ انصاف کرکے اچھی پرورش کرنے والا جنتی ہوگا۔  آپ   ﷺ نے عورت کی ملکیت کا حق قائم کیا ۔ اور اپنی  بیویوں کے معقول حق مہرقائم کر کے انہیں ادا کرنیکا ایسا اہتمام کیا جن پر انکا مکمل اختیار تھا۔  بیوہ عورت کو نکاح کا حق دیا اور فرمایا کہ  وہ اپنی  شادی  کے فیصلہ کے متعلق  ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے۔ آپ   ﷺ نے نو9 بیوہ عورتوں سے ان کی مرضی معلوم کر کے شادی کی اور عملی رنگ میں یہ حق قائم کر دکھایا۔ عورتوں کے مخصوص ایام  کے بارہ میں آپ  ﷺ نے یہ تعلیم دی کہ  اس دوران صرف ازدواجی تعلقات منع ہیں۔ ان دنوں میں آپ  ﷺ ان سے حسن معاشرت کا سلوک فرماتے ان کے ساتھ مل کرکھانا کھاتے، بستر میں آرام فرماتے اور پہلے سے بڑھ کر خیال رکھتے۔ بیوہ کی عدت عرب دستورکے مطابق ایک سال کی بجائے قرآن شریف نے چار ماہ دس دن مقرر کی۔نیز ایک سالہ عدّت کے دوران عورت کی تذلیل کرنے والی  قبیح رسموں کا بھی آپ  ﷺ نے خاتمہ فرمایا۔یوں عورتوں کی تحقیر کی بجائے آپ  ﷺ نے  بطورماں بیٹی اور بیوی عورت کی عزت اور احترام کو قائم کیااورفرمایاکہ ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے،بیوی کو گھر کی مالکہ قرار دیا تو بیٹی کو آنکھوں کی ٹھنڈک۔

ایک سفر میں رسول کریم  ﷺکی بیویاں اور کچھ عورتیں اونٹوں پر سوار تھیں ۔ ایک صحابی نے اونٹوں کو تیز ہانکنا شروع کر دیا تو آپ  ﷺ نے فرمایا  آہستہ ہانکو کہ شیشے جیسی نازک عورتیں ہمارے ساتھ ہیں۔ صحابہ کہتے تھے  کہ عورتوں کی تحقیر کے اس دور میں یہ محاورہ  کوئی اور استعمال کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔

آنحضرت  ﷺ نے والدین اور شوہر کے ورثہ میں بھی عورت کا حق قائم فرمایا کہ جائیداد میں مرد سے نصف اس کا حق ہے۔ اور وہ بطور ماں ،بیٹی اور بیوی جائیداد کی وارث ہوگی۔ آپ  ﷺ نے ایک سے زائد بیویاں رکھ کر ان کے درمیان عدل و انصاف کا بے نظیر نمونہ قائم فرمایا اور ان کے درمیان وقت کے لحاظ سے باریاں مقرر کر کے اور اخراجات کی برابر تقسیم کے لحاظ سے ایسا نمونہ قائم کر دکھایا جس کی مثال نہیں ملتی۔اس کے باوجود قیام عدل کا ایسا پاس تھا کہ ہمیشہ یہ دعا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ میں اپنے اختیار کے مطابق تو اپنی بیویوں میں برابر تقسیم کرتا ہوں لیکن دل کے میلان پر میرا ختیار نہیں اس کے لئے مجھے معاف کردینا۔‘‘

اسلام سے پہلے عورتوں کو جنگ میں رنگ و طرب کی محفلیں سجانے اور ناچ گانے کے لئے شریک کیا جاتا تھا۔ تاریخ میں پہلی دفعہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کا تقدس بحال کرتے ہوئے زخمیوں کی مرہم پٹی ، تیمارداری  اور نرسنگ کے لئے خواتین کو جنگ میں شریک کیا ۔ آپﷺ قرعہ اندازی کے ذریعے اپنی ازواج کو شریکِ سفرکرتے۔ غزوہ احد میں آپ  ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ اور صاحبزادی حضرت فاطمہؓ نے بھی زخمیوں کو پانی پلانے اور مرہم پٹی کی خدمات سر انجام دیں۔

عرب لوگ گھر کے معاملات میں عورت کی رائے کو کوئی وقعت نہ دیتے تھے ۔ آنحضرت  ﷺ نے عورت کو گھر کی نگران قرار دے کر اسے گویا حکومت کے تخت پر بٹھا دیا ۔ آپ  ﷺ ذاتی اور قومی معاملات میں بھی اپنی ازواج سے مشورہ لیتے تھے جیسا کہ غزوہ حدیبیہ میں حضرت ام سلمہؓ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے آپ  ﷺ نے اپنی قربانی ذبح کرنے کا نمونہ اپنے اصحاب کو دیا تو صحابہ ؓ نے بھی دھڑا دھڑ قربانیاں ذبح کردیں۔

مسلمان خواتین کی تعلیم و تربیت

بانی  اسلام کی تعدّد ازدواج سے چوتھی بڑی غرض مسلمان خواتین کی تربیت تھی۔مکی دور میں آپ  ﷺ  کی زوجہ حضرت خدیجہ ؓ نے یہ ذمہ داری ادا کی تو مدنی دور میں نوبت بنوبت دیگر ازواج نے۔حضرت عائشہ ؓ سے تو شادی کرنے کا سب سے بڑا مقصد ہی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت تھا۔اسی لئے آپ  ﷺ نے فرمایا کہ نصف علم عائشہ ؓ سے سیکھو۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ ؓ اکثر آپؓ سے اور دیگر ازواج سے بھی مسائل و دینی امور کے متعلق آگاہی طلب کرتے تھے۔اور وہ پردہ کی رعایت سے انہیں تعلیم دیتی تھیں۔ایک موقع پر حضرت ام ّ سلمہ ؓ  کی امامت میں آنحضور ﷺنے عورتوں کو باجماعت نمازپڑھنے کا نمونہ بھی قائم کروایا۔ آنحضور  ﷺکی تمام ازواج نے اپنی بیان کردہ احادیث اور مختلف اخلاق ِ فاضلہ میں نمونہ کے ذریعہ بھی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا سبب بھی بنیں،حضرت زینب ؓ صدقہ اور عبادات میں بہت نمایاں تھیں۔حضرت حفصہ ؓ  صوم و صلوٰۃ میں غیر معمولی رنگ رکھتی تھیں۔حضرت امّ حبیبہ ؓ دعاؤں میں خاص شغف رکھتی تھیں۔

(حوالہ اہل بیت رسولؐ حافظ مظفر احمد)